سرینگر//محکمہ تعلیم نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ بچوں کو اسکولوں میں جسمانی طور کلاسوں میں شامل ہونے کیلئے کسی میڈیکل سرٹیفیکٹ کو پیش کرنے کاکوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے ۔اس دوران کووِڈ- 19حفاظتی پروٹوکول کی آڑ میں کئی اسکول بچوں کو ’کوئی اعتراض نہیں‘ اور کسی معالج سے طبی طور تندرست ہونے کی سند پیش کرنے کامطالبہ کررہے ہیںجبکہ متعدد اسکول ابھی تک پرائمری کلاسوں کے درس وتدریس کا کام بحال کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔کے این ایس خبررساں ایجنسی کے مطابق سرینگر کے ایک معروف اسکول میں زیرتعلیم ایک طالبہ کے والدنے نام مخفی رکھنے کی شرط پربتایا کہ مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ میری بچی کو اسکول میں کلاس میں بیٹھنے سے روکا گیا کیوں کہ اس نے طبی طور تندرست ہونے کی سند پیش نہیں کی تھی۔انہوں نے کہا کہ دوسرے دن اسکول میں یہ سند پیش کرنے کے بعد ہی اس کی بچی کو کلاس میں بیٹھنے دیا گیا۔ایک اور والد نے اس حکم کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ والدین کو بچوں کے طبی طور تندرست ہونے کی سندحاصل کرنے کیلئے اسپتالوں یاڈاکٹروں کے نجی کلنکوں کا طواف کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو اسپتال یاڈاکٹر کے کلنک پرلیجانے کے دوران انہیں انفیکشن لگنے کاخطرہ رہتا ہے اور اس پورے عمل کے دوران والدین کو ذہنی پریشانیوں کاسامنا کرناپڑتا ہے۔اس دوران جب خبررساں ایجنسی نے ناظم تعلیم محمد یونس ملک سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کہا کہ کسی بچے کیلئے اسکول میں کلاس میں داخل ہونے کیلئے کسی طبی سند کو پیش کرنے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اسکول انتظامیہ کے ساتھ اُٹھایا جائے گااوراگر ضرورت پری تو اس حوالے سے حکم بھی جاری کیاجائے گا۔