سید رضوان گیلانی
سرینگر// جموں و کشمیر کے بیشتر گورنمنٹ ڈگری کالج (جی ڈی سیز) انڈر گریجویٹ کورسز میں طلبہ کو راغب کرنے میں ناکام رہے ہیں، جبکہ داخلہ عمل ابھی بھی جاری ہے۔کشمیرعظمیٰ کی جانب سے حاصل کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 142 گورنمنٹ ڈگری کالجوں میں سے 100 کالجوں میں داخلے کے پہلے دو مرحلوں کے بعد 100 سے بھی کم طلبہ نے داخلہ لیا ہے۔یہ اعداد و شمار محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں پیش کیے گئے، جس کی صدارت وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کی۔ ان اعداد و شمار نے حکومت کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ داخلے چند مخصوص کالجوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ بیشتر تعلیمی ادارے طلبہ کے اندراج کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق صرف چند کالج ہی 500 سے زائد داخلوں کا ہندسہ عبور کر سکے ہیں۔جموں ڈویڑن میںجی ڈی سی گاندھی نگر نے 1508 داخلوں کے ساتھ سبقت حاصل کی، جبکہ جی جی ایم سائنس کالج میں 1326، ایم اے ایم کالج میں 1306 اور جی ڈی سی پریڈ میں 1146 طلبہ نے داخلہ لیا۔یہ کالج جموں ڈویڑن کے بہترین کارکردگی دکھانے والے اداروں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔اسی طرح کشمیر ڈویڑن میںامر سنگھ کالج نے 1702 داخلے درج کیے، جبکہ جی ڈی سی اننت ناگ میں 1552،جی ڈی سی بارہمولہ میں 1205 اور جی ڈی سی سوپور میں 856 طلبہ نے داخلہ حاصل کیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کئی کالجوں میں داخلوں کی تعداد صرف دو ہندسوں تک محدود رہی، جبکہ بعض اداروں میں پہلے دو مرحلوں کے دوران 20 سے بھی کم طلبہ نے داخلہ لیا۔موجودہ صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے اور اس نے کالجوں میں پڑھائے جانے والے کورسز کی افادیت اور موزونیت پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کم داخلوں والے کالجوں کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس میںسوپور کے جی ڈی سی بومئی کو طلبہ کی انتہائی کم دلچسپی کے باعث بند کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ایک سرکاری افسر نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا،’’تاہم وزیر تعلیم نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔‘‘انہوں نے کہا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم بظاہر کالجوں میں داخلے بڑھانے کے لیے نئے طریقے تلاش کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔افسر نے کہا، ’’گزشتہ تین برسوں کے دوران جموں و کشمیر کے کالجوں میں پہلے سال کے داخلوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا، لیکن اس سال پہلے دو مرحلوں میں صرف 34,200 داخلے درج ہوئے، جو چند روز قبل تک کے اعداد و شمار ہیں۔‘‘انہوں نے بتایا کہ داخلوں کے مزید دو مراحل ابھی باقی ہیں اور محکمہ نے عمل کو مزید آسان بناتے ہوئے کالجوں کے پرنسپلز کو زیادہ اختیارات اور لچک فراہم کی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو داخلے کی ترغیب دے سکیں۔ اس کا مقصد مجموعی داخلوں کی تعداد 50 ہزار تک پہنچانا ہے۔افسر نے کہا کہ حکومت کووڈ-19 کے دور کی طرح داخلوں کی تعداد حاصل کرنا چاہتی ہے، جب ملک گیر لاک ڈاؤن کے باعث اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔انہوں نے کہا،’’تاہم محکمہ بہتر تعلیمی مواقع کی کمی اور فرسودہ نصاب کی موجودگی کے باعث طلبہ کے دوسرے اداروں یا ریاستوں کی جانب رخ کرنے کے رجحان کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔‘‘اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے کالجوں میں 2023 میں 41,550، 2024 میں 42,562 اور 2025 میں 45,920 طلبہ نے داخلہ لیا تھا۔افسر نے مزید کہا، ’’سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نئے قائم کیے گئے کالج طلبہ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم نے منگل کے روز تعلیمی سال 2026-27 کے لیے جموں و کشمیر کے گورنمنٹ ڈگری کالجوں میں انڈر گریجویٹ اور انٹیگریٹڈ پوسٹ گریجویٹ کورسز کی خالی نشستوں کو پْر کرنے کے لیے اسپاٹ راؤنڈ داخلوں کا اعلان کیا تھا، تاکہ دوسرے مرحلے کے بعد باقی رہ جانے والی نشستوں پر طلبہ کو داخلہ دیا جا سکے۔