عظمیٰ ویب ڈیسک
کپواڑہ/شمالی ضلع کپواڑہ کے گاؤں کریہامہ سے تعلق رکھنے والی نوجوان گریجویٹ رقیہ نے شدید مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور زرعی شعبے میں قدم رکھ کر خود انحصاری کی ایک نئی مثال قائم کر دی۔رقیہ کی زندگی اس وقت مشکلات کا شکار ہو گئی جب وہ ایک بڑی لمبر اسپائن (ریڑھ کی ہڈی) کی سرجری سے صحت یاب ہو رہی تھیں، جبکہ اسی دوران ان کے والد بھی ٹیومر کی سرجری سے گزر رہے تھے۔ جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمہ داریوں نے انہیں ذہنی طور پر بھی شدید آزمائش میں ڈال دیا۔تاہم، رقیہ نے حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے زرعی کاروبار (ایگری پرینیورشپ) کو اپنا مستقبل بنانے کا فیصلہ کیا۔
آج ان کے گھر کا ایک چھوٹا سا کمرہ ڈنگری (آئیسٹر) مشروم کے تھیلوں سے بھرا ہوا ہے، جو ان کی محنت، حوصلے اور عزم کی زندہ مثال بن چکا ہے۔ کرشی وگیان کیندر (کےو ی کے)کپواڑہ کی تکنیکی رہنمائی اور مسلسل تعاون سے انہوں نے اپنی پہلی مشروم کی فصل کامیابی سے حاصل کی، جو ان کے لیے روزگار اور خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی۔رقیہ کی یہ کامیابی تقریباً ایک سال قبل اس وقت شروع ہوئی جب کرشی وگیان کیندر کپواڑہ کے ماہرین نے زرعی شعبے میں ان کی دلچسپی کو محسوس کیا۔ ادارے کے سربراہ ڈاکٹر جی ایم بھٹ کی قیادت میں انہیں گھر پر ہی مشروم کی سائنسی کاشت کی تربیت، تکنیکی معلومات اور عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔
تربیت مکمل کرنے کے بعد رقیہ نے اپنے گھر میں مشروم کی کاشت کا ایک چھوٹا یونٹ قائم کیا۔ کئی ماہ کی محنت، احتیاط اور مسلسل نگرانی کے بعد انہوں نے اپنی پہلی فصل حاصل کی، جس نے ایک چھوٹی سی کوشش کو آمدنی کے مستقل ذریعہ میں تبدیل کرنے کی امید پیدا کر دی۔رقیہ نے اس کامیابی پر SKUAST کشمیر کے وائس چانسلر، ڈائریکٹر ایکسٹینشن ایجوکیشن اورکرشی وگیان کیندر کپواڑہ کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے نے نہ صرف ان کے خاندان کی مالی مدد کی بلکہ انہیں ایک کامیاب کاروباری خاتون بننے کا حوصلہ بھی دیا۔
انہوں نے کہا کہ مشروم کی کاشت کا تجربہ انتہائی خوشگوار رہا اور اب وہ دیگر فصلوں کی کاشت بھی شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔رقیہ کے مطابق حکومت نوجوانوں کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہے، لیکن پہل ہمیں خود کرنی ہوگی۔ زرعی کاروبار کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارا مستقبل زراعت سے وابستہ ہے۔کرشی وگیان کیندر کپواڑہ کے سربراہ ڈاکٹر جی ایم بھٹ نے رقیہ کی کامیابی کو ضلع بھر کے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں اور خواتین کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ رقیہ کی کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر جدید زرعی ٹیکنالوجی، مناسب رہنمائی اور مسلسل تعاون فراہم کیا جائے تو مشکل ترین حالات کو بھی روزگار کے بہترین مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر بھٹ نے مزید کہا کہ کرشی وگیان کیندر کپواڑہ دیہی نوجوانوں میں زرعی کاروبار کو فروغ دینے کے لیے سائنسی تربیت، مہارت کی ترقی اور مسلسل رہنمائی فراہم کر رہا ہے، جبکہ رقیہ جیسی کامیاب مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ زراعت اب صرف روایتی کھیتی باڑی تک محدود نہیں رہی بلکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار اور خود انحصاری کا ایک مضبوط ذریعہ بن چکی ہے۔
مشکلات سے خود انحصاری تک: کپواڑہ کی نوجوان خاتون نے مشروم کی کاشت سے نئی امید جگا دی