ویسے تو آرٹیکل 370 او 35-A کو ہٹائے جانے کا غصّہ پورے جموں و کشمیر میں ہے۔ لوگ یہ زخم ابھی بھولے نہیں ہیں اور حکومت وقت لوگوں کے خاموش غصے سے بخوبی آگاہ ہے۔یہی وجہ ہے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی پوزیشن ختم کئے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک فور جی موبائل سروسز بحال نہیں کی جاسکی۔یہ غصہ شدید ہے لیکن خاموشی ہے اور نہ جانے یہ خاموشی اپنے اندر کتنا طوفان سمیٹے ہوئے ہے۔ حال ہی میںمنعقد ہونے والے ڈی ڈی سی انتخابات میں ،میں نے جموں و کشمیر کے ایک حصہ پیر پنچال کا سروے کیا ہے۔مختلف مراحل میں ہونے والے ضلعی ترقیاتی کو نسل انتخابات کے نتائج بڑے دلچسپ ہیں۔ جو بات یہاں قابل ِ غور ہے ،وہ یہ کہ آخری اسمبلی انتخابات (2014)میں جو لوگ پیر پنچال سے قانون ساز اسمبلی کے ممبرمنتخب ہوئے تھے، اس بار وہ سب ڈی ڈی سی بھی ہار گئے۔ پچھلی بار پونچھ – حویلی سے ایم ایل اے پی ڈی پی کے شاہ محمد تانترے تھے ۔حالیہ ڈی ڈی سی میں انہوں نے بذات خود قسمت آزمائی کی لیکن کافی ووٹوں سے شکست ہوئی۔ اسی طرح مینڈھر سے 2014 میں نیشنل کانفرنس کے جاوید رانا ایم ایل اے تھے۔ اب کی بار ڈی ڈی سی میں انہوں نے اپنے لخت جگر ذیشان رانا کو اتارا جو بالآخر کامیابی حاصل نہیں کرسکے اور انکے مقابلے میں آزاد امیدوار الیکشن جیت گیا ۔جاوید رانا کی مینڈھر کے اندر ایک اچھی خاصی پکڑ ہے اور حلقہ میں انکے کام بھی ہیں۔ اس بار کام بھی عوام کے آڑے نہ آئے۔ اسی طرح پونچھ کا تیسرا اسمبلی حلقہ سرنکوٹ تھا۔ یہاں پر کانگریس کے سینئر رہنما چوہدری محمد اکرم کی قسمت کا ستارہ بھی سست رہا۔ انکا مقابلہ ان ہی کے پارٹی کے باغی رہنما شاہنواز چوہدری سے تھا۔ چوہدری محمد اکرم خاندانی طور پر سرنکوٹ میں اپنا اثر رسوخ رکھتے ہیں۔ ان کے والد چوہدری محمد اسلم مرحوم جموں و کشمیر کے قدآور سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ اس حلقہ سے اکثر جیتتے رہے اور متعدد بار وزیر رہے، ان کو اسمبلی کا اسپیکر رہنے کیساتھ ساتھ راجیہ سبھا کا ممبر بننے کا اعزاز بھی رہا۔ اس خاندان کی خصوصی بات نفیس سیاست کیساتھ انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ وفاداری ہے۔ کئی بار پارٹی تبدیلی کے آفرز آئے ،پر یہ پارٹی کیساتھ مشکل حالات میں بھی کھڑے رہے۔2014 کے اسمبلی انتخابات میں انکے فرزند چوہدری اکرم اسی حلقہ سے اچھے مارجن سے کامیاب ہوئے لیکن اب کی بار خود الیکشن میں حصہ لینے کے باوجود ڈی ڈی سی بھی نہ بچا سکے۔
اسی طرح راجوری ضلع میں بھی 2014 میں جیتنے والے ممبران اسمبلی کو شکست کا سامنا رہا۔راجوری کے کل پانچ ممبران اسمبلی تھے جن میں سے دو لوگ ذوالفقار چوہدری اور عبدالغنی کوہلی پچھلی حکومت میں وزارتوں پر بھی فائز رہے۔ ذوالفقار چوہدری کا شمار ان صف اول کے لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے آڑٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پی ڈی پی چھوڑ کر "اپنی پارٹی‘‘ جوائن کر لی تھی یعنی وہ اس پارٹی کے بانی ارکان میں سے ہیں ۔ ذوالفقار نے ڈی ڈی سی انتخابات میں درہال سے اپنی اہلیہ کو’ اپنی پارٹی‘ کے ٹکٹ پر میدان میں اتارا لیکن ناکامی مقدر بنی۔ اسی طرح کالا کوٹ سے بھی عبدالغنی کوہلی کی پارٹی بی جے پی نیشنل کانفرنس کے امیدوار سے چاروں شانے چت ہو گئے۔نوشہرہ میں انتخابی عمل کافی دلچسپ رہا۔ یاد رہے یہ علاقہ بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر رینہ کا ہے ۔ وہ پچھلی بار اسی علاقے سے ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔ ریندر رینہ جموں و کشمیر کے ان سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جو آرٹیکل 370، 35۔اے کی منسوخی اور جموں و کشمیر کو دو حصوں میں توڑنے کے عمل کے بہت بڑے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے نئی دہلی کے اس فعل کا ہر محاذ پر دفاع کیا ۔اپنی قومی لیڈر شپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جموں و کشمیر کی عوام کو خوب سبز باغ دکھائے۔ نوشہرہ سے انکی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی تاب نہ لا سکی ۔نہ صرف بی جے پی یہاں سے ہاری بلکہ الیکشن مہم کے دوران رویندر رینہ کا حلقے کی عوام نے پتھروں سے استقبال کیا ۔
الیکشنوں کے دوران اور نتائج کے بعد پیر پنچال کے مختلف علاقوں سے لوگوں بالخصوص نوجوانوں سے بات چیت کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ لوگ مرکز کے اس فیصلے سے کافی نا خوش ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ڈی ڈی سی انتخابات میں لوگوں نے ان تمام ممبران اسمبلی کو ووٹ نہیں دئیے جو گرفتاری کے ڈر سے 05 اگست 2019 کے فیصلے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے یا اگر بولے بھی تو محض بیان بازی ہی کی حد تک، اور کچھ نے تو الطاف بخاری کی "اپنی پارٹی" جوائن کر کے وفاداریاں بھی تبدیل کر دی تھیں ۔مجھے یاد ہے کہ جب 370 کی منسوخی ہوئی تھی تو نوجوانوں کی توجہ کا مرکز مسلسل وہ لوگ تھے جو 2014 میں منتخب ہوئے تھے ۔پیر پنچال کے تمام لیڈران کے لئے یہ وقت ہے کہ عوام کی توقعات پر پورا اترا جائے ۔ڈی ڈی سی میں ہار سے سبق سیکھتے ہوئے عوام کا ترجمان بننے کی سعی کی جائے۔ دیر ضرور ہو گئی ہے لیکن وقت ابھی بھی ہاتھ سے پورا نہیں نکلا ۔
(کالم نگار کا تعلق پونچھ سے ہے اور آپ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ریسرچ سکالر ہیں)