’’ کیاآپ نے کبھی کسی بطخ کو پانی میں ڈوب کر مرتے دیکھا ہے ؟ یقینا نہیں، کیونکہ قدرت نے بطخوں کو تیرنے اور پانی سے بھیگ کر وزنی نہ ہونے کی پیدائشی صلاحیت اور تربیت عطا کی ہے۔ لیکن مشہور مصنف جان پارنکی مالل کے مطابق ایک یورپی ملک میں ایک دفعہ ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیاجو حیرت انگیز بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ وہاں اکثر لوگ شوقیہ بطخیں بھی پالتے ہیں اور اْن کے لئے مکانوں میں چھوٹے موٹے تالاب بھی بنواتے ہیں۔ ایک بچی اسکول سے واپسی پر یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اْسکی پالتو بطخ تالاب میں ڈوبی مری پڑی ہے۔ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آیا اسے کسی نے قصداً مار دیا ہے یا وہ خود مر گئی ہے۔ حیوانات کے ڈاکٹر کو بلوایا گیا جس نے تفصیلی معائنہ کے بعد پانی سے تر بتر بطخ کے پروں کو پکڑ کر اْٹھایا، اور کہا، ’’یہ بطخ اپنی لاپرواہی اور پیشگی تیاری نہ کرنے کے باعث موت کے منہ میں پہنچی ہے۔ دراصل بطخوں کو پانی میں اترنے سے پہلے اپنے بالائی پروں پر ایک مخصوص تیل کی تہہ چڑھانی ہوتی ہے۔ اس عمل کو Preening کہا جاتا ہے۔ یہ تیل اْنکی دم کے پاس موجود ایک مخصوص غدودسے نکلتا ہے جسے Preenin Gland کہتے ہیں۔ بطخیں اپنی چونچ اور سر کی مدد سے یہ تیل پروں کی بالائی سطح پر لگاتی ہیں جو ایک طرح کے واٹر پروف جیکٹ کا کام کرنے لگتے ہیں۔ لہٰذا وہ پانی سے تربتر اور وزنی ہوکر ڈوب نہیں جاتیں۔ مذکورہ بطخ نے تن آسانی اور عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیشگی تیاری کو نظر انداز کیا اور نتیجہ سامنے ہے۔ کیا فطرت میں چھپی اِس حقیقت سے ہمیں کچھ روشنی حاصل ہو سکتی ہے؟دراصل مخصوص حالات میں اپنی بقا کو بنائے رکھنے کے لئے مخصوص صلاحیتوں، اْنکے استعمال اور پیشگی تیاریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حیوانات اور نباتات کو قدرت نے یہ صلاحیتیں اور اْنکے استعمال کی تعلیم پیدائشی طور پر عطا کی ہیں۔ جبکہ اِنسانوں کو ذہن رساء عطا کیا گیا ہے اور اطراف میں درکار وسائل کو پھیلا کر خود سے سمجھنے اور عمل کرنے کی تعلیم دی ہے۔ لہذا عملی زندگی کے تالاب میں اْترنے سے قبل ہمیں بھی پیشگی تیاریوں اور صلاحیتوں سے لیس ہونا ضروری ہوتا ہے تاکہ ہم ڈوبنے نہ پائیں۔ آج جو ممالک اور قومیں زندگی کے سمندروں پر حاوی اور قابض ہیں انھوں نے ہمیشہ منصوبہ بندی اور پیشگی تیاری کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ سابقہ امریکی صدر ابراہیم لنکن کا کہنا تھا کہ ’’ مجھے ایک درخت کاٹنے کے لئے چھ گھنٹے دیجئے اور میں پہلے چار گھنٹے اپنی کلہاڑی کو تیز کرنے میں صرف کروں گا ‘‘۔ بنجامن فرینکلن کا ایک قول بہت مشہور ہے کہ ’’ تیاری میں ناکامی دراصل ناکامی کی تیاری ہے‘‘۔ مشہور چینی فلسفی اور مبلغ کنفیوشس کے الفاظ میں ’’کامیابی، پیشگی تیاری پر منحصر ہوتی ہے، اور ایسی تیاری کے بغیر ناکامی یقینی ہے‘‘۔ سین ہیمٹن کے مطابق ’’ کامیابی، عزم اور تیاری کی اولاد ہے‘‘۔ نامور نیگرو سائنسداں جارج واشنگٹن کارور کا ماننا تھا کہ ’’سرخروئی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے، زندگی مکمل تیاری کا مطالبہ کرتی ہے‘‘۔آج ہم جو غوطے پر غوطے کھا رہے ہیں تو اسکی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ یا تو ہم منصوبہ بندی اور تیاری کی اہمیت کو بھْلا بیٹھے ہیں یا اِس بات کا صحیح تجزیہ ہی نہیں کر پا رہے ہیں کہ فی زمانہ ہمیں کس قسم کی تیا ری یا Preening(صلاحیتوں) کی ضرورت ہے۔ یا پھر تساہلی، پست ہمتی اور خود غرضی کے باعث جانتے بوجھتے خود فراموشی کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ معاشرتی، سماجی، اور سیاسی زندگی کے سمندر میں ڈوبنے سے بچنے کے لئے آج ہمیں جس پیشگی تیاری یا Preening Oil کی ضرورت ہے وہ ہے صحیح مذہبی سمجھ بوجھ، اعلیٰ و تکنیکی تعلیم وہ مہارت، بہترین اخلاق و کردار، شائستگی و گفتگو کا سلیقہ، جھنجلاہٹ و جذباتیت سے پرہیز، صبرو استقامت، لگن اور جوش و جذبہ اور مرحلہ وار، مسلسل مشقت و جدوجہدکے لئے آمادگی۔ اِسی پرینینگ آئل کے ذریعہ ہمارے اسلاف نے سمندروں کی قیامت خیزلہروں پر سرفینگ(Surfing) کرتے ہوئے طوفانوں کو شکست دی ہے۔ اور جب جب اور جہاں جہاں اِس عمل سے لاپرواہی برتی گئی وہاں وہاں ہماری حالت مذکورہ بالا بطخ کی سی ہوتی رہی ہے۔‘‘
مندرجہ بالا تحریر میں نے کچھ عرصہ پہلے پڑھی تھی ۔ یہ تحریر ہمارے لئے نہیں تھی لیکن اس کا ایک ایک حرف ہماری ہی کہانی بیان کررہا ہے ۔آج حالات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرنے والے اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہماری حالت اس بطخ کی مانند ہے کہ جو بغیر کسی تیاری کے دریا میں کود گیا ۔ڈوبنا اس کا بھی مقدر تھا اور ہمارا بھی ہے ۔یہ تحریر یکلخت میرے ذہن میں اس وقت آئی جب میں جون کے تیسرے ہفتے میں چھ شہریوں کے جا ں بحق ہونے کی خبر پڑھ رہا تھا اس ہفتے فورسز کے دس اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے جن میں فوج کا ایک میجر اور پولیس کا ایس ایچ اوبھی شامل تھا۔نہ جانے کیوں میںنفع و نقصان کے حسا ب میں جٹ گیا۔تیس سال پہلے جب شہر خاص کے صراف کدل علاقے میں جمعہ کے روز سی آر پی ایف یا بی ایس ایف کی ایک گاڑی پر کلاشنکوف رائفل سے فائرنگ کی گئی ۔ پہلے تو لوگوں کی سمجھ میں بالکل نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ پانچ نوجوان سرحد پار سے عسکری تربیت حاصل کرکے آئے ہیں جنہیں حاجی گروپ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔یہ ان کی پہلی عسکری کاروائی ہے ۔ لوگوں کو کافی عرصے تک یقین ہی نہیںآیا کہ کوئی کشمیری عسکری تربیت بھی حاصل کرسکتا ہے اورگولی بھی چلا سکتا ہے ۔ لیکن جب لوگوں کو یقین ہوگیا کہ یہ ایک سچائی ہے تو ایک نیا جوش اورجذبہ ابھر آیا ۔ بڑے بڑے جلوس نکلے ۔ جلسے ہوئے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک انقلاب برپا ہوا ۔یقیناً اس کا کوئی تصور نہیں تھا ۔ کوئی تیاری نہیں تھی ۔ کوئی سوچا سمجھا منصوبہ نہیں تھا ۔ کوئی قیادت بھی نہیں تھی ۔ آج قریباً تیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے اورمیں حساب کررہا تھا کہ اس عرصے میں ہندوستان کے کتنے سپاہی مارے گئے ۔ کتنے عسکریت پسندوں نے اپنی جانیں دیں ۔ کتنے شہری موت کے گھاٹ اتر گئے ۔ کتنی جائیدادیں تلف ہوئیں ۔ کتنے اقتصادی اور معاشی نقصانات ہوئے اوربے مثال قربانیوں کے صلے میں کیا کچھ حاصل ہوا ۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ میں کتنے مباحث ہوئے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کا تذکرہ کہاں کہاں پر ہوا اورمسئلہ کشمیر کے حل کے کتنے امکانات پیدا ہوئے ؟ تو میرے سامنے یہ تلخ سچائی تھی کہ تاریخ میں پہلی بار سنگین سے سنگین تر صورتحال پیدا ہونے کے باوجود مسئلہ کشمیر کے دو فریقوں بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات بھی معطل ہیں ۔ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہے جو دفعہ تین سو ستر اور پنتیس الف کا بھی خاتمہ کرنے کے درپے ہے ۔ عین اسی وقت مجھے اس تحریر کا ایک ایک لفظ یاد آیا جو میں نے جہلم کے قارئین کے سامنے پیش کیا ہے ۔ وہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ بطخ کی کہانی ہماری کہانی سے کہاں اور کیا میل کھاتی ہے ۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘