غلام قادر جیلانی
وادی کشمیر جہاں بزرگوں کو رہنمائی کا چراغ اور ان کے وجود کو گھر کی برکت سمجھا جاتا تھا ،آج ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ضعیف والدین اور بزرگ اپنے ہی گھروں میں محفوظ نہیں۔جس سرزمین کی بنیادیں بزرگوں کی عزت،احترام اور بے لوث خدمت پر استوار تھیں، وہاں آج ہمارے معمر افراد خاموشی سے ظلم، بد سلوکی اور اپنوں سے لاپرواہی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ المیہ صرف بزرگوں پر ہونے والی زیادتی کا ہی نہیں بلکہ معاشرے کی مجرمانہ خاموشی کا ہے جو مصلحت کی چادر اوڑھ کر ظلم اور زیادتی کو دیکھ کر چشم پوشی کر رہی ہے۔بزرگوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی اور تشدد اچانک رونما نہیں ہوا، بلکہ اس کے پیچھے سماجی اور اخلاقی پستی کی ایک طویل داستان ہے۔ ایک طرف ٹوٹتے ہوئے گھرانے اور اپنوں سے دوری نے بزرگوں کو گوشہ نشینی پر مجبور کر دیا، تو دوسری طرف منشیات کی وبا اور عدمِ برداشت نے نئی نسل سے ان کا شعور چھین لیا۔ طاقت کا یہ عدم توازن اور بزرگوں کے مقام سے ناآشنائی دراصل اس سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مادی دوڑ میں ہم اپنی سب سے قیمتی روایات کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔
بزرگوں کے ساتھ ناروا سلوک کا مسئلہ اگرچہ انسانی تاریخ میں طویل عرصے سے موجود ہے، تاہم علمی اور تحقیقی سطح پر اس کا باقاعدہ اعتراف 1975 میں برطانیہ سے ہوا، جہاں پہلی بار اسے ’گرینی بیٹرنگ‘ (Granny Battering) کی اصطلاح کے ساتھ ایک سنگین معاشرتی بُرائی کے طور پر دستاویزی شکل دی گئی۔عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کی جو جامع تعریف اپنائی ہے، وہ بنیادی طور پر برطانیہ کی معروف تنظیم ‘ایکشن آن ایلڈر ابیوز (Action on Elder Abuse) کے فراہم کردہ فریم ورک پر مبنی ہے۔ اس تعریف کے مطابق بزرگوں کے ساتھ ناروا سلوک سے مراد کوئی بھی ایسا انفرادی یا بار بار دہرایا جانے والا عمل، یا ضروری دیکھ بھال میں وہ مجرمانہ غفلت ہے، جو کسی ایسے رشتے یا تعلق کے درمیان پیش آئے جہاں بھروسہ اور اعتماد کا رشتہ قائم ہو، اور جو کسی معمر فرد کے لیے جسمانی نقصان، ذہنی کرب یا شدید جذباتی اذیت کا باعث بنے ۔اقوام متحدہ کی سال 2020 کی رپورٹ کے اعداد و شمار ایک ہولناک حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں ان عداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 60 سال سے زائد عمر کا ہر چھٹا شخص کسی نہ کسی صورت میں بدسلوکی اور تشدد کا شکار ہے۔اور اب یہ تعداد 141 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ بزرگوں پر تشدد کا یہ عالمی گراف ہر گزرتے سال کے ساتھ اوپر جا رہا ہے، اور بدقسمتی سے ہمارا ملک اور خطہ بھی اس سنگین لہر کی زد میں ہے، جہاں بزرگوں کے ساتھ زیادتی اور تشددکے دلخراش واقعات کی خبریں تواتر کے ساتھ سامنے آرہی ہیں۔
جموں و کشمیر میں 62 فیصد سے زائد معمر افراد اپنے گردونواح اور آس پاس کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔جو کہ پورے بھارت میں عدم تحفظ کی بلند ترین شرح ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں میں زیادہ تر خاندان کے قریبی افراد شامل ہیں جن میں بہوئیں اور بیٹے سر فہرست ہیں۔اگرچہ قومی سطح پر بزرگوں پر تشدد کی شرح 5 سے 6 فیصد ہے۔لیکن جموں و کشمیر میں قریبی رشتہ داروں کی بزرگوں کے تئیں غفلت ولاپرواہی کے ساتھ ساتھ بدسلوکی اور تشدد کے واقعات کثرت سے بڑھ رہے ہیں
بزرگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی ہمیشہ جسمانی زخموں کی صورت میں نظر نہیں آتی، بلکہ اس کی کئی پوشیدہ علامات بھی ہیں جنہیں پہچاننا ہر ذی شعور شہری کی ذمہ داری ہے۔ جسم پر ایسے زخم یا نیل کے نشانات جن کی کوئی معقول وضاحت نہ دی جا سکے، اسکے علاوہ اچانک وزن میں کمی، غذائیت کی قلت، اور ذاتی صفائی و ستھرائی میں نمایاں غفلت، حد سے زیادہ ذہنی دباؤ، بے جا خوف، پریشانی، اور اپنے ہی گھر والوں سے اچانک دوری اختیار کر لینا، بزرگوں کا اپنی تکلیف یا گھریلو حالات پر بات کرتے ہوئے خوفزدہ ہونا، ہچکچاہٹ محسوس کرنا، یا گفتگو کے دوران شدید الجھن اور ذہنی پراگندگی کا شکار ہونا، دوستوں اور رشتہ داروں سے کٹ کر رہ جانا اور زندگی گزارنے کے معمولات میں ایسی تبدیلی آنا جو ان کی مرضی کے بجائے کسی دباؤ کا نتیجہ معلوم ہو بزرگوں پر زیادتی اور تشدد کی نمایاں علامات ہیں ۔
کشمیری سماج میں اب بھی ذی شعور اشخاص بزرگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور بد سلوکی کو بدنما داغ سمجھتے ہیں۔اکثر اپنوں کے ظلم و ستم کے شکار بزرگ اپنے اولاد کی زیادتیوں اور لاپرواہیوں کو بیان کرنے سے اس لیے کتراتے ہیں کہ معاشرے میں ان کی اور ان کے خاندان کی ساکھ پر اثر نہ پڑے۔ اس سے بھی بڑھ کر تشویشناک امر یہ ہے کہ ہم اس مسلے کو ایک سماجی چلینج قبول کرنے کے بجائے انکاری کیفیت میں حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک ہولناک پہلو یہ ہے کہ مغرب سے مستعار تعلیمی سوچ نے ہمیں ‘ڈگری تو دی مگر ‘تہذیب چھین لی۔ آسودہ حال والدین کی سب سے بڑی خواہش اپنے بچوں کو یورپ اور امریکہ کے مہنگے تعلیمی اداروں میں بھیجنا ہے تاکہ وہ وہاں بڑے عہدے اور مراعات حاصل کر سکیں۔ لیکن اس مادی دوڑ کا سب سے بڑا المیہ تب سامنے آتا ہے جب یہی والدین بڑھاپے کی دہلیز پر تنہائی اور جسمانی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے پاس عالیشان مکانات اور بینک بیلنس تو ہوتا ہے، مگر بڑھاپے میں جسمانی کمزوری اؤر خرابی صحت پر ان کا ہاتھ تھامنے والا اپنا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ تنہائی آخر کار انہیں شدید ذہنی کرب اور نفسیاتی بیماریوں کی طرف دھکیل دیتی ہے۔مغربی تعلیم کے اس سحر کا ایک دلخراش واقعہ حال ہی میں ہمارے پڑوس میں پیش آیا، جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ایک والد نے اپنے بیٹے کو بڑی حسرتوں کے ساتھ بیرونِ ملک انجینئرنگ کی تعلیم دلوانے کے لئے بھیج دیا۔ جب والد کا انتقال ہوا اور بیٹا گھر لوٹا، تو جنازے میں شرکت کی دعوت پر اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ’’میں نے اسکن ٹائٹ (تنگ) پتلون پہن رکھی ہے، جس میں سجدہ کرنا ممکن نہیں۔‘‘افسوس صد افسوس! اس نوجوان کو اعلیٰ تعلیم کے زعم میں اتنی سی خبر بھی نہ تھی کہ نمازِ جنازہ میں سجدہ ہوتا ہی نہیں ہے۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس تعلیمی نظام کا نوحہ ہے جو ہمیں بڑے انجینئر اور ڈاکٹر تو دیتا ہے ، مگر والدین کا احترام کرنے والے صالح اولاد نہیں دیتا۔ ایسی ڈگریوں اور عہدوں کا کیا فائدہ جو مرتے وقت اس والد کے کام نہ آ سکیں جس نے اپنی پوری زندگی اولاد کی کامیابی کی بھینٹ چڑھا دی تھی۔
غریب گھرانوں میں نوجوانوں کی کمزور مالی حالت بھی بزرگوں کی لاپرواہی کی ایک وجہ ہے۔حکومت کی طرف سے غریب بزرگوں کو محض 1500 روپے کا ماہانہ وظیفہ ( اولڈ ایج پنشن) مل رہا جو ان کی بڑھتی ہوئی طبی اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ اولڈ ایج پنشن میں خاطر خواہ اضافے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لئے پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرے۔تاکہ معاشی بد حالی کی وجہ سے بزرگ لاپرواہی کے شکار نہ ہو۔
اکثر بزرگوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم کریںاور جیسے ہی یہ بزرگ کمزور اور غیر فائدہ مند ہو جاتے ہیں تو کوئی بھی ان کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہوتا، نتیجتاً بہت سے بزرگ اولڈ ایج ہومز یا لاوارث مرکزوں تک پہنچ جاتے ہیں۔اس لئے بزرگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی جائیداد تقسیم نہ کرے۔کیونکہ یہ اثاثہ بزرگی میں ان کے وقار اور تحفظ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ ایسا فعال اور شفاف شکایتی نظام قائم کرے جہاں بزرگ بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کرا سکیں۔
اگرچہ صحت کے شعبے میں بہتری کی وجہ سے عمر کی حد بڑھ گئی ہے لیکن زندگی کے آخری ایام لاچاری، غلامی اور بے عزتی میں گزرے تو لمبی زندگی عذاب بن جاتی ہے انسان اپنی جوانی میں چاہیے کتنا ہی صاحب ثروت اور طاقتور کیوں نہ ہو ہمشہ یہ دعا اؤر کوشش کرنی چاہیے کہ بزرگی کے عذاب کے بغیر دنیا سے باعزت رخصت ہو۔
بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد صرف ایک خاندانی مسلہ نہیں بلکہ یہ ایک سنجیدہ اخلاقی اور سماجی ناکامی ہے۔کوئی بھی قانون اور اصلاحی قدم اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک نہ ہم اپنے روایتی اقدار کو الفاظ کے قید سے نکال کر عمل کا حصہ نہ بنائیں۔بزرگوں کو صرف زندہ رہنے کا حق ہی نہیں بلکہ عزت، توجہ اؤر پرسکون زندگی کا حق بھی ملنا چاہیے کیوں کہ جو آج ان کے ساتھ ہو رہا ہے کل وہ ہمارے لئے ایک مثال بن جائے گی۔
(مدرس گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول زوہامہ)
[email protected]