ندائے کمراز
اِکز اقبال
دنیا ایک نئے سانچے میں ڈھل رہی ہے۔ عالمی منظرنامہ اپنی پرانی ترتیب کھو کر ایک نامعلوم سمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ طاقت کے پیمانے بدل رہے ہیں، ترجیحات نئی شکل اختیار کر رہی ہیں اور وہ اصول جو کل تک ناقابلِ تردید سمجھے جاتے تھے، آج سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ انہی بدلتے ہوئے حالات کے بیچ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد گھومتی ہوئی بے یقینی ایک ایسی کہانی رقم کر رہی ہے جو محض ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کی رفتار اور مستقبل پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
دنیا کبھی ایک لمحے میں نہیں بدلتی۔ وہ اپنے خدوخال آہستہ آہستہ تبدیل کرتی ہے۔ یوں کہ بظاہر سب کچھ ویسا ہی محسوس ہوتا ہے مگر اندر ہی اندر ایک نیا نقش ابھر رہا ہوتا ہے۔ پھر اچانک ایک دن ہمیں احساس ہوتا ہے کہ زمین وہی ہے، مگر زمانہ بدل چکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد بنتی ہوئی صورتحال اسی خاموش تبدیلی کی ایک نمایاں علامت ہے۔
آبنائے ہرمز صرف 21 میل چوڑی محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ وہ نازک دھاگہ ہے ،جس سے عالمی معیشت کی کئی پرتیں بندھی ہوئی ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جغرافیہ، سیاست اور معیشت ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو جاتے ہیں کہ انہیں الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہاں سے گزرنے والا ہر جہاز صرف تیل یا گیس نہیں لے کر جاتا، بلکہ وہ عالمی استحکام کی ایک صورت بھی اپنے ساتھ لیے ہوتا ہے۔مگر جب یہی راستہ غیر یقینی کا شکار ہو جائے تو اس کے اثرات بھی محض مقامی نہیں رہتے۔ آج جب اس گزرگاہ پر تناؤ اپنی شدت کو چھو رہا ہے تو دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے، جہاں فیصلے صرف فوری نتائج نہیں، بلکہ مستقبل کی سمت بھی متعین کریں گے۔
کہتے ہیں کہ راستے زندگی کی علامت ہوتے ہیں۔ جب تک راستے کھلے رہیں، حرکت جاری رہتی ہے۔ آبنائے ہرمز بھی ایک ایسا ہی راستہ ہے، جہاں سے روزانہ بے شمار جہاز گزرتے رہے ہیں، اور ان کے ساتھ دنیا کی معیشت کا تسلسل بھی برقرار رہتا رہا ہے۔آج جب یہی راستہ رکاوٹوں اور خدشات کی زد میں ہے تو صرف جہاز نہیں رُکے، ایک پورا نظام سست پڑ گیا ہے۔ بندرگاہوں پر تاخیر، منڈیوں میں بے یقینی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ،یہ سب اسی تعطل کے مظاہر ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے عالمی سیاست کا ایک اہم مرکز رہا ہے مگر حالیہ حالات نے اس کی اہمیت کو ایک نئی شدت کے ساتھ نمایاں کیا ہے۔ طاقت کے مختلف مراکز ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہیں اور ہر فریق اپنی حکمت عملی کے ذریعے برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کشیدگی کی بنیاد محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ اختیار اور کنٹرول کا سوال ہے۔ کون راستوں پر قابض ہوگا، کون وسائل کی ترسیل کو متاثر کر سکے گا، اور کون عالمی سطح پر اپنی شرائط منوا سکے گا۔
جب عالمی معیشت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف رپورٹوں اور گرافوں تک محدود نہیں رہتے۔ یہ اثرات انسانی زندگی کے ہر گوشے میں سرایت کر جاتے ہیں، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ٹرانسپورٹ، پیداوار، خوراک اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز کو متاثر کرتا ہے۔ سپلائی چین میں تعطل کا مطلب ہے کہ اشیاء کی دستیابی کم ہو جائے گی اور قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو خاموشی سے چلتا ہے مگر اس کے اثرات ہر گھر تک پہنچتے ہیں۔
موجودہ بحران کو محض ایک وقتی تناؤ سمجھنا شاید حقیقت کو سادہ بنانا ہوگا۔ اس کے پیچھے ایک بڑی تبدیلی کی جھلک نظر آتی ہے۔ ایک ایسی تبدیلی جو عالمی طاقت کے توازن کو ازسرِ نو ترتیب دے سکتی ہے۔ نئے اتحاد بن رہے ہیں، پرانے تعلقات نئی شکل اختیار کر رہے ہیں اور توانائی کے متبادل راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ کرنسیوں، تجارت اور سفارت کاری کے انداز میں بھی تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے،جہاں اصول وہی نہیں رہیں گے جو کل تک تھے۔اس تمام صورتحال میں ایک پہلو خاص طور پر قابلِ غور ہے۔ وہ ہے ہماری خاموشی۔ ہم دیکھ رہے ہیں، سن رہے ہیں، مگر ردعمل محدود ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ بہت بڑا اور پیچیدہ محسوس ہوتا ہے۔ یا شاید اس لیے کہ ہم نے خود کو اس خیال کا عادی بنا لیا ہے کہ عالمی معاملات ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان عالمی معاملات کے اثرات براہِ راست ہماری زندگیوں تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے انہیں سمجھنا اور ان پر غور کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں غیر یقینی ایک مستقل حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
راستے کھلتے بھی ہیں اور بند بھی
اتحاد بنتے بھی ہیں اور ٹوٹتے بھی
اور معیشتیں اب پہلے سے زیادہ ایک دوسرے پر منحصر ہو چکی ہیں۔ ایسے میں استحکام ایک چیلنج بن گیا ہے، اور پیش گوئی ایک مشکل عمل۔اگر موجودہ صورتحال طول اختیار کرتی ہے، تو اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ مہنگائی میں اضافہ، توانائی کے بحران، اور معاشی سست روی—یہ سب ممکنہ منظرنامے ہیں۔آبنائے ہرمز کی یہ کہانی ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے۔دنیا ایک مربوط حقیقت ہے، جہاں ایک مقام پر ہونے والی تبدیلی دور دراز علاقوں تک اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم محض حالات کے بہاؤ کا حصہ نہ بنیں بلکہ انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ شعور ہی وہ روشنی ہے جو غیر یقینی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے اور شاید یہی اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔دنیا واقعی بدل رہی ہے اور اس بار یہ تبدیلی دور کہیں نہیں، ہمارے احساس کے دائرے میں ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز اب صرف نقشے کی ایک لکیر نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ سب کچھ ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔بس ایک خاموش تبدیلی ہے جو اپنے اثرات خود رقم کر رہی ہے۔
(مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں)
(رابطہ۔7006857283)