جی کیو کامران
ملک بھر کے اساتذہ کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے اساتذہ کی پیشہ ورانہ ساکھ پر اس وقت ایک سوالیہ نشان کھڑا ہوا، جب عدالت ِ عظمیٰ نے اساتذہ کی اہلیت کے حوالے سے ایک سخت فیصلہ صادر کیا۔ نئے ضوابط کے تحت، نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں تعینات اساتذہ کے لیے ملازمت میں برقرار رہنے کی شرط ‘ٹیچر ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (TET) کی کامیابی سے جوڑ دی گئی ہے۔ عدالت نے ہدایات جاری کئے کہ تمام اساتذہ دو سال کے اندر یہ امتحان پاس کریں، بصورتِ دیگر انہیں قبل از وقت سبکدوشی یا لازمی ریٹائرمنٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ رعایت کا فائدہ صرف ان اساتذہ کو ملے گا جو ٹی ای ٹی لازمی ہونے سے قبل مقرر ہوئے ہیں اور جن کی ملازمت کی مدت میں پانچ سال سے کم کا عرصہ باقی ہے۔ اس فیصلے نے اساتذہ برادری میں نہ صرف تشویش کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ برسوں سے شعبہ تدریس سے وابستہ معمارانِ قوم اسے اپنی صلاحیتوں پر عدم اعتماد اور اپنی توہین قرار دے رہے ہیں۔
جسٹس دیپنکر دتا اور جسٹس منموہن پر مشتمل بنچ نے یہ فیصلہ شہری مقدمات بشمول انجمن اشاعتِ تعلیم ٹرسٹ بمقابلہ ریاست مہاراشٹرا ودیگر کی سماعت کے بعد سنایا۔ واضح رہے کہ نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NCTE) نے جولائی 2011 میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک کی تقرریوں کے لیے TET کو لازمی قرار دیا تھا۔ عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا اس نوٹیفکیشن سے قبل تعینات ہونے والے اساتذہ پر بھی اس کا اطلاق ہوگا؟ عدالت نے واضح کیا جن اساتذہ کی ملازمت میں پانچ سال سے زائد کا عرصہ باقی ہے ان کے لیے دو سال میں ٹی ای ٹی پاس کرنا ناگزیر ہے ۔ورنہ انہیں قبل از وقت لازمی طور پر ریٹائر کیا جائے گا۔وہ استاتذہ جن کی تعیناتی ٹی ای ٹی لازمی ہونے سے قبل ہوئی ہے اور جن کی ملازمت میں ابھی پانچ سال سے کم عرصہ باقی ہے اگرچہ امتحان پاس کرنے سے مستثنیٰ ہے تاہم پروموشن کے لیے ان کو بھی ٹی ای ٹی پاس کرنا لازمی ہو گا عدالت کا استدلال ہے کہ ‘رائٹ ٹو ایجوکیشن (RTE) ایکٹ 2009 اور آئین کی دفعہ 21A کے تحت بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جو صرف اہل اساتذہ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ سپریم کورٹ اس فیصلے کے ذریعے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور ایک یکساں پیشہ ورانہ معیار قائم کرنا چاہتی ہے۔ تاہم، یہاں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا وہ اساتذہ جنہوں نے کٹھن حالات میں بھی قوم کے تعلیمی نظام کو سنبھالا اور ملک کو بہترین ڈاکٹر، انجینئر اور دانشور دیئے ہیں، آج کسی ٹیسٹ کے محتاج ہیں؟
کسی بھی پیشہ ور کی قابلیت کا اصل پیمانہ اس کا تجربہ اور عملی نتائج ہوتے ہیں۔ برسوں تک تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے تجربہ کار اساتذہ کو ایک نئے امتحان میں ڈالنا ان کی ذہنی کوفت کا باعث بن رہا ہے۔ اگرچہ تعلیمی معیار میں بہتری ناگزیر ہے، لیکن اس کے لیے اساتذہ کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کے بجائے ان کی پیشہ ورانہ تربیت (Training) کے جدید طریقے اپنائے جانے چاہئیں۔ کیا محض ایک ٹیسٹ، کسی استاد کے بیس سالہ تجربے اور تربیت سازی کے جذبے سے بڑا ہو سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو اس وقت ہر استاد کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔
جموں و کشمیر کے تعلیمی حلقوں میں اس وقت تشویش اور بے چینی کی ایک لہر دوڑ گئی جب محکمہ اسکولی تعلیم نے 23 فروری 2026 کو ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ‘اسٹیٹ اسکول اسٹینڈرڈز اتھارٹی (SSSA) اور ‘جے کے بوس (JKBOSE)کو ‘ٹیچر ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (TET) منعقد کرانے کے لیے نوڈل ایجنسی نامزد کیا۔ اس فیصلے نے دہائیوں سے برسرِ روزگار اساتذہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا، کیونکہ عدالتی حکم کے تحت اس امتحان میں ناکامی کا مطلب ‘جبری ریٹائرمنٹ ہے۔ تاہم اساتذہ کی بھرپور مزاحمت اور حکومت کی سیاسی بصیرت نے فی الوقت اس فیصلے کو ٹال دیا ہے۔
اس حکمنامے کے منظرِ عام پر آتے ہی اساتذہ کی مختلف تنظیموں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ جموں و کشمیر ٹیچرز ایسوسیشن کے صدر شاہ فیاض نے ایک اہم قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘رائٹ ٹو ایجوکیشن (RTE) ایکٹ 2009 جموں و کشمیر میں 31 اکتوبر 2019 کو نافذ ہوا، لہٰذا اس سے قبل تعینات ہونے والے اساتذہ کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اساتذہ کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی بھی سخت مذمت کی اور یاد دلایا کہ اساتذہ کی تذلیل کرنے والی قومیں کبھی حقیقی ترقی نہیں کر سکتیں۔ اسی طرح، جموں و کشمیر جنرل لائن ٹیچرز فورم کے صدر انور حسین وانی نے اس فیصلے کو اساتذہ کے روزگار اور وقار پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر تعیناتی کے وقت تمام لوازمات پورے کیے گئے تھے، تو اب اس نئے امتحان کا کیا جواز ہے؟
اساتذہ کے بڑھتے ہوئے غم و غصے کو بھانپتے ہوئے وزیرِ تعلیم سکینہ یتو نے ایک مدبرانہ موقف اختیار کیا۔ انہوں نے اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ جن اساتذہ نے معاشرے کو بڑے بڑے ڈاکٹر ،انجینئر اور آفیسر دئیے ہیں ان کی قابلیت پر شک کرنا درست نہیں۔ وزیرِ موصوفہ نے یقین دلایا کہ یہ فیصلہ فی الحال جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہوگا اور حکومت دیگر ریاستوں کے طریقہ کار کا مشاہدہ کرے گی۔ اس بیان کے بعد 26 فروری 2026 کو محکمہ تعلیم نے اپنے سابقہ حکم نامے کو التوا میں ڈال دیا، جس سے اساتذہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
یہ مسئلہ صرف جموں و کشمیر تک محدود نہیں ہے۔ تامل ناڈو، مہاراشٹر اور کرناٹک جیسی ریاستیں پہلے ہی سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی کی درخواستیں دائر کر چکی ہیں۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ 42 ویں آئینی ترمیم کی رو سے تعلیم ‘کنکرنٹ لسٹ (Concurrent List) کا حصہ ہے، اس لیے وفاقی اکائیوں کو اعتماد میں لیے بغیر ایسے دور رس فیصلے کرنا جمہوری روح کے خلاف ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے ٹی ای ٹی جیسے امتحانات کلیدی اہمیت کے حامل ہیں تاہم ان کا دائرہ کار نئے اساتذہ کی شفاف بھرتیوں اور محکمے میں موجود اساتذہ کی ترقی (Promotion) تک محدود رکھا جانا چاہیے امتحان کی کامیابی کو ملازمت میں برقرار رہنے کے لیے ایک لازمی شرط بنانا برسوں سے شعبہ تدریس سے وابستہ تجربہ کار اساتذہ کے روزگار اور وقار پر تلوار لٹکانے کے مترادف ہے جس سے تعلیمی نظام میں بہتری کے بجائےعدم تحفظ اور ذہنی دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ معیارِ تعلیم صرف اساتذہ کے امتحان سے بلند نہیں ہوتا۔ اس کے لیے حکومت کو بنیادی ڈھانچے کی بہتری، اسکولوں میں جدید سہولیات کی فراہمی ،خالی اسامیوں پر قابل نوجوانوں کی شفاف تعیناتی، حاضر سروس اساتذہ کے لیے جدید ‘ری فریشر کورسز جیسے اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت ہے ۔
ہمارے ملک میں شرحِ خواندگی کا 80 فیصد اور کئی ریاستوں میں 95 فیصد کی متاثر کن حد کو چھونا، درحقیقت اساتذہ کی ان تھک محنت اور عملی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ حقیقت فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ استاد کی تذلیل دراصل پورے تعلیمی نظام کی موت ہے۔ بلاشبہ، اساتذہ کے لیے لازم ہے کہ وہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں، لیکن معاشرے اور حکومت پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انہیں ایک پروقار اور سازگار ماحول فراہم کریں۔ معیاری تعلیم کے حصول کے لیے محض اچھے اساتذہ ہی کافی نہیں، بلکہ ایک حساس سماج اور سنجیدہ حکومت کا ہونا بھی ناگزیر ہے جو استاد کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے اسے بااختیار بنائے۔ اس سمت میں وزیرِ تعلیم کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ ایک قابلِ تحسین اور مثبت قدم ہے، جس کا بھرپور خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم استاد کو وہ وقار اور مقام عطا کریں جس کا وہ مستحق ہے، اور بدلے میں اساتذہ بھی اپنی لگن اور محنت سے ‘معمارِ قوم ہونے کا عملی ثبوت پیش کریں۔