کرپشن انگریزی لفظ ہے۔ یہ لفظ سُنتے ہی کئی تصورات ہمارے خیال میں آتے ہیں۔ رُشوت خوری، عوامی فنڈس میں خردبرد، مالی بے ضابطگی، دھاندلی وغیرہ وغیرہ۔ کرپشن کے ناسُور پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ کرپشن صرف ہمارے یہاں نہیں ہے، یہ ایک عالمی پرابلم ہے۔ ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ بعض ممالک میں کرپشن کے خلاف سخت ترین قوانین ہیں اور نظام حکومت کرپشن کی شکایات کو ٹھنڈے پیٹوں نہیں لیتی اور ایسے معاملات سالہاسال تک عدالتوں میں گھِسنے کے بعد قصوروار بری نہیں ہوجاتا۔ خیر، ہم بات جموں کشمیر کی کریں گے۔
آ ئے روز اینٹی کرپشن بیورو چھاپے مارتا ہے، ملزموں کو گرفتار کرتا ہے۔ کہیں کوئی کلرک چند ہزار روپے لیتے ہوئے پکڑا جاتا ہے اور کہیں کوئی افسر چند لاکھ لیتے ہوئے۔ لیکن کرپشن ایک دیمک ہے جو ہمارے نظامِ حکومت کو اندر ہی اندر کھوکھلا کررہا ہے۔
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے درست فیصلہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کا ہدف اب کرپشن کو ختم کرنا ہے۔ ظاہر ہے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے بہت بڑی بات کہہ دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آر ایس ایس کے ایک سرکردہ لیڈر اور انِل انبانی گروپ نے انہیں دو منصوبوں کی منظوری کے لئے 300 کروڑ روپے رشوت کی پیش کش کی جو انہوں نے ٹھکرا دی۔
ایل جی سنہا نے اس انکشاف پر سنجیدہ ردعمل دیتے ہوئے کرائم برانچ کو تفتیش کے لئے کہا ہے۔ اس سے قبل جب ایل جی سنہا کے ایک مشیر مستعفی ہوگئے تو چند روز بعد قومی اخبار ٹائمز آف انڈیا میں ایک طویل خبر شایع ہوئی ،جس میں اُن کی جائیداد اور اثاثوں کا کچا چِٹھا سامنے لایا گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسٹر سنہا کو پہلے ہی اُن کے کارناموں کی بھنک پڑ گئی تھی اور انہوں نے مُشیر کو مستعفی ہونے کے لئے کہا ۔ اس واقعہ سے ایل جی منوج سنہا کے اُس اعلان کی اعتباریت اور بڑھ جاتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کی حکومت کرپشن کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ رکھتی ہے۔ یعنی رشوت اور مالی بے ضاطگیوں کے تئیں انتظامیہ کے برداشت کی سطح صفر ہے۔
یہاں تک تو درست ہے کہ حکومتی سربراہ کرپشن کو ختم کرنے کے عزائم کا بار بار اعادہ کررہے ہیں۔ اس پر لوگوں نے بھی اطمینان کا سانس لیا ہے۔ لیکن سوال ہے کہ یہ جنگ چند ہزار روپے لینے والے پٹواریوں، افسروں اور کلرکوں تک محدود نہ رہے۔ کرپشن کے گدلے پانی میں عیش کررہے بڑے مگرمچھوں کو بھی پکڑنا ہوگا، جسکی تقریباً شروعات ہوچکی ہے۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور اُن کی ٹیم کو چاہیئے کہ کرپشن کے خلاف کاروائیوں کے ساتھ ساتھ اس ناسُور کے پھیلاوٴ کی تمام راہیں مسدود کی جائیں۔ اس حوالے سے میرے ذہن میں ایک دس نکاتی خاکہ ہے:
حقِ معلومات کے قانون یعنی آر ٹی آئی کو مزید مضبوط کیا جائے۔ سرکاری فنڈس اور سرکاری اصراف کو ’’راز‘‘ نہ رکھا جائے اور اسے پبلک ڈومین میں ظاہر کیا جائے۔ محکمہ منصوبہ بندی کی ویب سائیٹ فعال ہوسکتی ہے جس پر مالی اخراجات اور مصرف کی تفصیلات عوام کے لئے مشتہر کی جائیں۔ جموں کشمیر کو سرمایہ کاری کی محبوب منزل بنانا بہت اچھا قدم ہے۔ لیکن ظاہر ہے کارپوریٹ کے بڑے بڑے دِگج اس کھیل میں اپنا منافع ڈھونڈیں گے۔ باہر کی سرمایہ کاری بھی کوئی راز کا معاملہ نہ ہو۔ اگر انبانی، ٹاٹا، برِلا اور دیگر یہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو یہ عمل عوام کی نظروں کے سامنے وقوع پذیر ہو۔ اور یہ انٹرنیٹ کے زمانے میں ممکن بھی ہے۔
پیدائش اور موت کی اسناد، گھروں اور تجارتی عمارتوں کی تعمیر کے لئے اجات نامہ اور تجارتی اداروں کی رجسٹریشن کا اجراٴ آسان بنایا جائے۔ گجرات کی طرح ’’سِنگل وِنڈو سسٹم‘‘ متعارف کرایا جائے۔ ہندوستان اب ماضی کے ’’لائسینس راج‘‘ سے بہت آ گے نکل چکا ہے ، لیکن جموں کشمیر میں محض ایک سرکاری کاغذ کے حصول کے لئے سائل کو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ آدھار کارڈ اور پین کارڈ کا تو فائدہ ہی یہی ہے کہ دفتری طوالت ختم ہو۔
ایک اینفورسمنٹ کارپوریشن (ای سی) قائم کی جائے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جواب دہ بنائے۔ مثال کے طور پر جھیلوں اور دیگر آبگاہوں کی دیکھ ریکھ کے لئے موجود محکمہ ’’لاوڈا‘‘ کرپشن کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ گرین بیلٹ میں تعمیرات ممنوع ہیں ، لیکن سرکار کی ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے اور اس میں بدقسمتی سے پولیس کا ایک طبقہ بھی ملوث ہے۔ ای سی کا یہی کام ہوگا۔ وہ ڈرگ کنٹرول، فوڈ اینڈ سپلائز، میونسپلٹی وغیرہ محکموں کو جواب دہ بنائے گی۔
اربوں روپے انفارمیشن ٹیکنالوجی محکمے پر خرچ ہورہے ہیں، لیکن پھر بھی ایک کاغذ کے لئے سائل کو دفتروں کے چکر لگانا پڑتے ہیں اور پھر وہاں کرپشن کا بازار پانچ سو روپے سے شروع ہوکر پانچ کروڑ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ ای گورننس کو اب ایک حقیقت بننا ہوگا۔ سڑکوں، پُلوں اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے مٹیرئیل کی کوئی پڑتال نہیں ہوتی۔ اس کے لئے پہلے یہاں سٹورز اینڈ پراکیورمنٹ محکمہ تھا جو کوالٹی کنٹرول کرتا تھا۔ لیکن اب سڑکوں، پلوں، ہسپتالوں اور سکولوں کے معیار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ٹھیکے دار کی نیت کتنی خراب اور پیسے کی ہوس کتنی زیادہ ہے۔ جواب دہی کا ایک نظام ضروری ہے، جو یہ دیکھے کہ اگر کروڑوں کا کام سونپا گیا وہ کام کیسے اور کس معیار پر ہوا۔
جموں کشمیر میں بے نامی جائیداد کا کلچر عام ہے۔ یہاں حالات کی آڑ میں افسروں نے ہزاروں کنال زمینیں خرید لی ہیں۔ کہیں اپنے گارڈز کے نام پر اور کہیں اپنے مالی یا باورچی کے نام پر۔ سرکاری اور غیرسرکاری شاپبنگ مالز میں سینکڑوں کروڑ روپے کی جائیدادیں افسروں نے بلاک کررکھی ہیں اور ایک نوجوان کو چھوٹے سے منصوبے کے لئے در در بھٹکنا پڑا ہے۔ اس سب کا حساب لگانے کے لئے احتساب کمیشن کا احیاٴ ضروری ہے۔ ارب پتی صنعت کاروں، بڑے تاجروں اور اعلیٰ سرکاری افسروں کا ایک نیکسس ہے۔ اس میں گہرائی سے تفتیش کی ضرورت ہے۔ یہ موازنہ کرنا ہوگا کہ ایک بڑے سرمایہ دار کا کام اور ایک عام آدمی کا کام کیسے ہوتا ہے۔ کہیں ایک فون کال سے کروڑوں کا منصوبہ منظور ہوتا ہے اور کہیں ایک نوجوان کے کئی جوتے دفتروں میں گھِستے ہیں اور پھر بھی فائل معلق ہوتی ہے۔
سبھی دفتروں خاص طور پر دُوردراز دیہات میں سکولوں اور ہسپتالوں میں حاضری کے لئے بایومیٹرک نظام شروع کیا جائے، تاکہ ایک کلرک ملازمین کو حاضر درج کر کے ماہانہ لاکھوں کی حرام خُوری نہ کرپائے۔
سب سے بڑی بات یہ کہ کرپشن کے خلاف قانون کا ازسرنو جائزہ لے کراس قانون کو مزید سخت بنایا جائے۔ قانون کا ہونا اور اس کے ساتھ قانون نافذ کرنے میں تیزی اور دیانت داری کرپشن کے راستوں پر رکاوٹیں کھڑا کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔
( رابطہ۔ 9469679449, 7780882411)