جموں//جموںوکشمیرمیں منتخب پنچایت ممبران کے اجتماعی طور پر استعفیٰ دینے کی دھمکی دیتے ہوئے آل جموں و کشمیر پنچایت کانفرنس (اے جے کے پی سی) نے رام بن ضلع کے بانہال میں منتخب پنچایت ممبروں کی مبینہ توہین کے خلاف احتجاج کیا۔ اے جے کے پی سی کے صدر انل شرما نے پنچایت ممبروں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف ایک مظاہرے کی قیادت کی۔احتجاج کی قیادت کرنے والے انل شرما نے الزام لگایا کہ مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی سادھوی نرنجن کے حالیہ دورے کے دوران پنچایت ارکان کی توہین کی گئی۔انکا کہناتھا"پنچایت کے منتخب ممبران بانہال میں ایک یادداشت مرکزی وزیر کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔ انتظامیہ نے انہیں میمورنڈم پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جو کہ پنچایت ممبروں کی تذلیل اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے“۔انہوں نے مزید کہا: "اگر آپ نے پی آر آئی کے خدشات کو نہیں سنا تو انہیں وہاں کیوں بلایا گیا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ انتظامیہ منتخب پنچ اور سرپنچ ، بی ڈی سی اور ڈی ڈی سی کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ڈی ڈی سی کے چیئرپرسن کو نمائندہ سمجھتی ہے اور باقی تمام پنچ ، سرپنچ ، بی ڈی سی ، ڈی ڈی سی ممبران کو دھیان نہیں دیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ منتخب پی آر آئیز کو حکومتی کاموں میں مدعو کیا جاتا ہے تاکہ خاص طور پر سرکاری پروگراموں سے عوام کی لاتعلقی کے بعد جگہ بھر دی جائے جو کہ ایک رسوائی ہے۔ دریں اثنا ، انہوں نے جموں و کشمیر میں مرکزی وزراءکے آو¿ٹ ریچ پروگرام کا بھی حوالہ دیا۔اس سے قبل انتخابات ڈی ڈی سی کی تیاری کے لیے ایک آو¿ٹ ریچ پروگرام کا اہتمام کیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسمبلی انتخابات کی تیاری کے لیے ایک اور آو¿ٹ ریچ پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پی آر آئی مستقبل میں پی آر آئی کو اعتماد میں نہیں لیتے ہیں تو تمام پنچایت ممبران آنے والے دنوں میں اجتماعی طور پر استعفیٰ دے سکتے ہیں۔