کووڈ 19کی ہلاکت خیزیوں نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو بہت بری طرح سے تہس نہس کرکے رکھ دیا وہیں میڈیا بھی اس آفت سے شدید طور پر متاثر ہوا ۔کوروونا وائر س سے پہلے انٹر نیٹ سروس بند ہونے سے میڈیا پر جو کاری ضرب پڑی تھی، اس نے اس کے وجود پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کیا تھا ۔آج بھی ٹو جی انٹرنیٹ پر ہی مقامی میڈیا گزارا کرکے کسی طرح سے کام چلا رہا ہے ۔عام لوگوں کے لئے یہ اندازہ کرنا بھی مشکل ہے کہ انٹرنیٹ کے بغیر مقامی میڈیا کس طرح سے زندہ رہنے کی جدوجہد کررہا ہے ۔اس پر کووڈ کی مصیبت نے کئی بحران پیدا کردئیے ۔ دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین اپنے آپ کو بچانے کے لئے کام چھوڑ گئے ۔ دفاتر میں مل جل کر جو کام ہورہا تھا، اسے سماجی دوری نے مشکل بنادیا ۔ پرنٹ میڈیا پر بہت بڑی زد یہ پڑی کہ لوگوں نے اس ڈر سے کہ کہیں اخبارات کے ذریعے وہ کووڈ سے متاثر نہ ہوں اخبار خریدنا چھوڑ دیا ۔ پرائیوٹ سیکٹر کے اشتہارات کے ذریعے جو تھوڑی بہت آمدن حاصل ہوتی تھی وہ بھی ختم ہوگئی ۔ سرکاری اشتہارات کی آمدن بھی گھٹ گئی اور اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ۔ان تمام مصائب کے باوجود بھی میڈیا نے اپنے فرائض سے کوئی کوتا ہی نہیں کی ۔ حتی الامکان حد تک ہر واقعہ کو رپورٹ کیا ۔ایک بھی واقعہ ایسا نہیں جو رپورٹ نہ ہوا ہو ۔لیکن میڈیا کی اہمیت کو سمجھنے اور موجودہ حالات میں میڈیا پر گزرنے والی آفتوں کا اندازہ کرنے والی میڈیا کی کوئی ہمدرد آواز کہیں سامنے نہیں آئی، جو ان لوگوں کا حو صلہ بڑھاتی جو شدید آندھیوں کا مردانہ وار مقابلہ کرکے اپنے فرائض ادا کرنے میں مصرو ف ہیں ۔اس کے برعکس مقامی میڈیا پر الزامات گھڑنے والا ایک گروہ پیدا ہوا جو سوشل میڈیا کا استعمال کرکے کردار کشی کی ایک بڑی مہم چلا رہا ہے ۔کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے اپنے ایک حالیہ اجلاس کے بعد جاری کئے گئے بیان میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ یہ مہم عوام کی اس آواز کو، جسے حالات کے خوفناک تھپیڑوں کا سامنا ہے اور جس نے ہر حساس اور نازک مرحلے پر اپنے آپ کو کھرا ثابت کردیا ہے، خاموش کرنے کی کوشش ہے ۔حقیقت یہی ہے کہ یہ مہم مقامی میڈیا کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کی سازش ہے جو عوامی ہمدردی کے لبادے میں روبہ عمل لائی جارہی ہے ۔اس معاملے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس بدترین مہم کے چلانے والے کشمیر کی سرزمین پر نہیں بلکہ اس سے بہت دور کئی ملکوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زمینی حقائق سے جڑے ہوئے نہ ہونے کے باوجود زمین کی جڑوں میں موجود اداروں کی بیخ کنی کسی خاص ایجنڈے کے تحت کررہے ہیں ۔اگر وہ زمین سے جڑے ہوتے تو انہیں یہ اندازہ بھی ہوتا کہ کشمیر میڈیا نے کن کٹھن حالات میں کس طرح سے اپنے وجود کو زندہ رکھا اور وہ پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کی بھرپور کوشش کی جو ایسے حالات میں دنیا کے کسی بھی کونے میں ممکن نہیں رہے ہیں ۔
کشمیر کا شاید ہی کوئی باشندہ ایسا ہو جو اس بات کی جانکاری نہ رکھتا ہو کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب کشمیر میڈیا چوطرفہ دبائو کا سامنا کررہا تھا ۔فورسز کے ہاتھوں بھی میڈیا کے افراد گرفتاریوں ، قتل اور اغوا کا شکار ہوئے، جنگجوئوں کے ہاتھوں بھی اور اخوانیوں کے ہاتھوں بھی ۔جنگجو تنظیموں کی آپسی چپقلش کا شکار بھی میڈیا ہی تھا اور سیاسی رقابتوں کی مار بھی اسی پر تھی ۔جنگجو تنظیموں کی طرف سے جو بیانات جاری ہوتے تھے ،ان کے آخرپر یہ نوٹ ضرور ہوتا تھا کہ ’’ اس بیان کو من و عن شائع کیا جائے ۔‘‘ جس کامطلب یہ تھا کہ ایک حرف بھی تبدیل نہ کیا جائے ۔ یہ میڈیا کی آزادی پر ایک کاری ضرب تھی لیکن اُس وقت دنیا کے کسی کونے میں کشمیر کا کوئی ہمدرد بھی اس بات پر آواز نہیں اٹھاتا تھا کہ میڈیا کی آزادی ہی قوموں کی روح ہوتی ہے اور اس روح کو یوں زخمی کرکے اس قوم کا ہی نقصان ہوگاجس کی روح مجروح ہو ۔تقریباً ہر بیان میں بھارتی فورسز کے لئے ’’ بھارتی درندے ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا تھا اور اس لفظ پر میڈیا کے مالکان یا ایڈیٹروں کی سرکار کے پاس پیشی ہوتی تھی کہ یہ لفظ جو پریس ایکٹ کے سراسر منافی ہے کیسے لکھا جاتا ہے ۔ گرفتار کرنے اور اخبار بند کرنے کی تنبیہ کی جاتی تھی اوراس لفظ کو ایڈٹ کرنے کی ہدایت کی جاتی تھی لیکن جب کوئی اخبار اس لفظ کو تبدیل کرکے اسے قابل قبول بناتا تھا تو صبح پریس نوٹ جاری کرنے والے ایڈیٹر کو بلاوا بھیجا کرتے تھے اور سخت ترین الفاظ کے ساتھ ایسا نہ کرنے کی تنبیہ کرتے تھے ۔اس دوران جب اخوانیوں کا ظہور ہواتو انہوں نے اپنا تعارف دو ایڈیٹروں کا اغوا کرکے ہی دیا اور تمام میڈیا اداروں کے چلانے والوں سے ان دو ایڈیٹروں کی جانوں کے بدلے پریس نوٹ من و عن شائع کرنے کا وعدہ لیا ۔اس تین دھاری تلوار کے نیچے بھی مقامی میڈیا نے عوامی احساسات اور جذبات کی ترجمانی کا فرض پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا ۔اس کی سراہنا کرنے والا کوئی نہیں تھااور نہ ان مشکلات کا احساس کرکے اس کیخلاف آواز اٹھانے والا کوئی تھا جن سے میڈیا د و چار تھا ۔حد یہ ہے کہ سیاسی قوت اور عظمت کے حامل قایدین بھی میڈیا کے ارکان جن میں خواجہ ثناء اللہ بٹ اور صوفی غلام محمدجیسی شخصیات شامل تھیں،جن کا جموں و کشمیر میں صحافت کے ارتقاء میں کلیدی کردار رہا ہے، کو مجرموں کی طرح بلاکر انہیں ہدایات دیا کرتے تھے کہ انہیں کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے ۔ ایک صحافی خواجہ محمد شعبان وکیل کو ان کے دفتر میں قتل کردیا گیا ۔پانپور کے ایک صحافی کو بھی مار دیا گیا ۔جس کا الزام فورسز پر ہے ۔ اس طرح کئی صحافیوں نے اس پیشے کی عظمت اور حرمت کے لئے اپنی جانیں نچھاور کردیں ۔کئی صحافی گرفتار ہوئے ۔ تذلیل اور توہین کا طویل دور ایک تاریخ ہے ۔سرکار کے گماشتے یہ چاہتے ہیں کہ اس دور کا ذکر صرف علیحدگی پسندوں اور جنگجوئوں کی زیادتیوں کے ساتھ کیا جائے اور نام نہاد تحریک پسند چاہتے ہیں کہ اس دور کا ذکر صرف حکومت اور فورسز کی زیادتیوں کے ساتھ کیا جائے ۔اصل میںدونوں کے پیچھے کوئی قوت یا قوتیں ہیں جو یہ چاہتی ہیں کہ مقامی میڈیا کا قصہ ہی اب تمام کردیا جائے اور اس کے لئے آغاز ایک مہم کے ساتھ کیا جارہا ہے جس کا مقصد کئی صحافیوں کی کردار کشی کرکے انہیں عوام کی نظروں سے گرادینا ہے۔اگر یہ اس مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں تو میڈیاکے بڑے ستون گرانے کے منصوبے کو روبہ عمل لانا اس درپردہ قوت یا قوتوں کے لئے آسان ہوگا جن کی سرپرستی ان سوشل میڈیا کنگ کانگوں کو حاصل ہے ۔
گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد جب نہ سڑکوں پر آزادی کے نعرے دینے والا کوئی باقی رہا نہ پتھر چلانے والا اور نہ ہی آئی ایس آئی ایس کے جھنڈے لہرانے والا کوئی کہیں باقی رہا، کچھ نامعلوم چہرے نمودار ہوئے جو مسلسل تب سے اب تک چیخ او ر چلا رہے ہیں کہ میڈیا نے خاموشی اختیار کی ۔ان کے خیال میں میڈیا نے حالات کے آگے سرینڈر کیا اور یہ بہت بڑا جرم ہے ۔ان میں سے کچھ لوگ اسی میڈیا کا حصہ رہے ہیں لیکن توقعات پر پورا نہ اترنے یا پیشہ ورانہ خامیوں کے سبب نکالے گئے ہیں ۔ اس لئے ان کا غصہ جائز ہے ۔کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں میڈیا میں جگہ نہیں مل سکی ۔ لاکھ کوششوں کے باوجود وہ اپنی جگہ اور شناخت بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ ان کی فریسٹریشن بھی واجبی ہے ۔کچھ لوگ ہیں جنہیں سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کا جنون سوار ہے اور انہیں یہی راستہ موثر نظر آرہا ہے اور کچھ لوگ ہیں جو باضابطہ طور پر درپردہ ہاتھوں کے کھلونے ہیں ۔انہیں یہ کام انجام دینے کے عوض زندگی کی تمام سہولتیں اور آسائشیں میسر آرہی ہیں ۔ان میں ایک شخص ایسا ہے جو آسماں سر پر اٹھارہا ہے کہ سرکار کی نئی میڈیا پالیسی پر میڈیا بات کیوں نہیں کررہا ہے ۔ظاہری طور پر بات بالکل درست ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ نئی میڈیا پالیسی کس کا مسئلہ ہے ۔جس میڈیا کا یہ مسئلہ ہے ،اسے معلوم ہے کہ میڈیا پالیسی کیا ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے کس طرح کی حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ہے ۔یہ سوشل میڈیا کا نہیں، میڈیا کے ان اداروں کا مسئلہ ہے جنہوں نے میڈیا کی آزادی کے تحفظ کے لئے آگ کے دریا پار کئے ہیں ۔ اگر کوئی احمق یہ سمجھتا ہے کہ یہ مسئلہ سڑکوں پر نکل کر نعرے دینے سے حل کیا جاسکتا ہے تو اس کی ذہنی صحت پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے ۔ میڈیا اس کے لئے اپنی سٹریٹجی تیار کرے گا اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے جو کچھ بھی ممکن ہوسکتا ہے کرے گا ۔جو لوگ سوشل میڈیاپر شور مچارہے ہیں ،وہ اصل میں اس میڈیا پالیسی کیخلاف میڈیا اداروں کی اپنی منصوبہ بندی کو سبوتاژ کرنے کے ایجنڈے پر ہی کام کررہے ہیں ۔وہ نہ عوام کے ہمدرد ہیں اور نہ ہی میڈیا کے ۔ عوام بھی اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں،اس لئے ان لوگوں کی باتوں پر کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے ۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ مقامی میڈیا کیخلاف دشنام طرازیوں کی مہم سے کس کو فایدہ حاصل ہورہا ہے اور کس کا نقصان ۔ ظاہر ہے کہ نئی میڈیا پالیسی کا اگر یہ مقصد ہے کہ مقامی میڈیا کا گلا گھونٹ دیا جائے تو اس مہم کا مقصدبھی یہی ہے کہ مقامی میڈیا کو مشکوک بناکرعوام میں اس کے خلاف بدظنی پیدا کرکے اس کا خاتمہ کرنے کی تدبیر کی جائے ۔ دونوں مقاصد ایک جیسے ہیں ۔اس لئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ دونوں کے پیچھے ایک ہی ذہن کام کررہا ہے ،یا ایک ہی پالیسی کار فرما ہے ۔کچھ لوگ اس گہری چال کو سمجھے بغیر ہی اس مہم کا انجانے طورپر حصہ بن رہے ہیں۔انہیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ مقامی میڈیا عوام کا اپنا میڈیا ہے ۔ اس کا زندہ رہنا ہی ضروری نہیں بلکہ اعتماد ، اعتبار اور تقدس کے ساتھ اس کا زندہ رہنا نہایت ہی ضروری ہے ۔اب کشمیر کے پاس قیادت اور رہنمائی کے نام پر میڈیا کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ یہ آخری امید اورآخری سہارا ہے جو قوم کی کشتی کو منجھدار سے نکالنے کے راستے تلاش کرسکتا ہے ۔یہ قوم کی زبان ہے، اس زبان کو کاٹ کر قوم کو گونگا بنانے سے بدترین حرکت اور کوئی نہیں ہوسکتی ہے ۔یہ نئی نسل کے مستقبل کی امید ہے ۔ اس لئے اس کے خلاف مہم شروع کرنے والوں کیخلاف اس قوم کو متحد ہونا چاہئے ۔خامیاں کہا ں نہیں ہوتیں، ہر جگہ ہوتی ہیں اور ہر شعبے میں ہوتی ہیں، خامیوں کی نشاندہی کرنا اور تنقید کرنا صحت مند سوچ کی نشانی ہے۔ میڈیا پر تنقید کرنے والے میڈیا کے خیر خواہ ہی ہوسکتے ہیں لیکن کردار کشی کرنے والے اس قوم کے خیر خواہ نہیں بلکہ بدترین دشمن ہی ہوسکتے ہیں ۔