جموں//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں صوبے کے آر ایس پورہ، سانبہ اور دیگر سرحدی علاقوں کا دورہ کیا جو پچھلے کئی دنوں سے سرحد پار کی شیلنگ سے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے متاثرہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کی اور ان کی مشکلات اور مطالبات کے بارے میں بر سر موقعہ جانکاری حاصل کی۔ریلیف، باز آباد کاری اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے وزیر جاوید مصطفی میر بھی ان کے ہمراہ تھے۔وزیر اعلیٰ نے آر ایس پورہ کا دورہ کر کے آئی ٹی آئی، چکروئی فارم اور سترائیاں میں رکھے گئے متاثرہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کی۔لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیںسرحدوں پر بڑھتے تناؤ پر کافی افسوس ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کا فوری خاتمہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ سرحدوں پر رہائش پذیر لوگوں کے جان ومال کو تحفظ حاصل ہو اور وہ پُر امن طور سے زندگی گذار سکیں۔وزیر اعلیٰ نے پاکستان کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ رمضان المبارک کے وقار کا پاس کرتے ہوئے مرکزی سرکار کی جانب سے اعلان کئے گئے رمضان فائیر بندی معاہدے کا مثبت رد عمل ظاہر کرے۔انہوں نے کہا کہ اس فائیر بندی سے ریاست کے عوام کو راحت نصیب ہوئی ہے اور اب وقت کی ضرورت ہے کہ اب اس عمل کو سرحدوں تک بڑھا جاسکے۔انہو ں نے لوگوں کو یاد دلایا کہ 2003 میں سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کی بدولت سرحدوں پر مکمل امن رہا۔مقامی لوگوں کے مطالبات کے پس منظر میں وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت سرحدی علاقوں کے نوجوانوں کے لئے جے کے پولیس کی ایک بٹالین قائم کرنے کے امکانات کا جائیزہ لے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت بین الاقوامی سرحد پر رہایش پذیر لوگوں کو بھی ایل او سی کے علاقوں کی طرز پر سہولیات دینے پر غور کرے گی۔وزیر اعلیٰ نے لوگوں کو یقین دلایا کہ شہروں میں سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لئے بارڈر بھون تعمیر کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں گے جہاں وہ مشکل صورتحال کے دوران قیام کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی مویشیوں کے نقصانات کو معاوضہ پیکج میں شامل کیا ہے۔دیگر مطالبات کے تناظر میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ آر ایس پورہ میںمقامی ہسپتال میں مزید سہولیات قائم کی جائیں گی اور مقامی ویٹرنری یونٹ کو بھی جدید سہولیات سے لیس کیا جائے گا۔پی ایچ ای، آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے وزیر شا م چودھری اور ایم ایل اے ڈاکٹر گگن بھگت بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔بعد میں وزیر اعلیٰ نے سانبہ کا دورہ کر کے وہاں ٹھنڈی کھوئی اور چیچی ماتا مندر کے سرحدی متاثرین کے ساتھ بات چیت کی۔ یہاں بھی لوگوں نے کئی مطالبات وزیر اعلیٰ کی نوٹس میں لائے۔ وزیر اعلیٰ نے ان مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا یقین دلایا۔صحت و طبی تعلیم کے وزیر دیوندر منیال بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے ان علاقوں میں کراس بارڈر شیلنگ سے جان بحق ہوئے افراد کے لواحقین کو ایک ایک لاکھ روپے دیئے۔ یہ اُس ایکس گریشیا ریلیف سے الگ ہے جو صوبائی انتظامیہ نے پہلے ہی واگذار کی ہے۔چیف سیکرٹری بی بی ویاس، ڈی جی پی ایس پی وید، پرنسپل سیکرٹری داخلہ آر کے گوئل، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل، ڈویثرنل کمشنر جموں ہمنت شرما، آئی جی پی جموں زون ایس ڈی ایس جموال اور دیگر اعلیٰ افسران بھی دورے کے دوران وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔