سرینگر// ملازمین کے اتحاد ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے سرکار پر زور دیا ہے کہ وہ لداخ میں تعینات کشمیر ملازمین کو واپس کشمیر لائیں۔ ایجیک کی ایک میٹنگ فیاض شبنم کی صدارت میں منعقد ہوئی،جس کے دوران جموں کشمیر کے ملازمین کے مسائل کو زیر غور لایا گیا۔میٹنگ کے دوران ملازمین لیڈر نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ ملازمین کے مسائل کا اب تک ازالہ نہیں کیا گیا۔ ایک بیان کے مطابق ملازمین نے یک زباں سرکار پر زور دیا کہ وہ ملازمین کے صبر کا امتحان نہ لے۔ ملازمین کے مختلف مسائل کو زیر غور لانے کے دوران ملازمین لیڈروں نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ مختلف سرکاری محکموں میں تعینات کشمیری ملازمین بالعموم اور با لخصوص لداخ میں تعینات لکچراروں اور ڈاکٹروں کو کشمیر واپس نہیں لایا گیا کیونکہ انہیں اس بات کی آزادی دی گئی تھی کہ وہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ وہ کشمیر میں عوام کی خدمات انجام دینے چاہتے ہیں یا لداخ میں۔ان کا کہنا تھا کہ دفعہ370کی منسوخی سے قبل ہی ضوابط کے مطابق کچھ ایک ملازمین نے لداخ میں اپنی دو سالہ تعیناتی کی مدت تک پوری کی تھی۔ ایجیک لیڈروں نے سرکار اور متعلقہ محکموں پر زور دیا ہے کہ وہ ان ملازمین کو واپس کشمیر تبدیل کرنے کے عمل میں سرعت سے لائیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ملازمین تذبذب کے شکار ہیں اور ان کے کنبے اور بچے سخت مشکلات میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ملازمین کے کشمیر واپس تبادلوں میں تاخیر ان کے ساتھ نا انصافی ہیں۔فیاض شبنم نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ان ملازمین کے وادی تبادلوں کیلئے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ تعلیم اور صحت کے ان ملازمین کے تبادلوں کے کیسوں کو ترجیجی بنیادوں پر مکمل کریں،کیونکہ وہ کافی مصائب میں مبتلا ہے۔ اس معاملے میں انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر کاروائی کرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے فیاض شبنم نے کہا کہ ملازمین کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جانا چاہے۔