اللہ رب العالمین کی ہم پر بے شمار نعمتیں ہیں جن کا حق ادا کر نا تو دور انہیں شمار کرنا بھی ہماری استطاعت سے بالاتر ہے اور ان نعمتوں میں سب سے عظیم اور بڑی نعمت اسلام ہے۔اللہ تعالی نے اس کو انسانیت کے لئے پسند فرمایااور اسے اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل کیااور اس دین کی پیروی میں ساری دنیا کی نجات اور کامیابی مضمررکھی ۔لہٰذا اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔اسلام میںجہاں ہر شخص کو اس کے مقصد حیات کی طرف توجہ مبذول کرا کے اس کو پورا کرنے کی تلقین کی گئی ، وہیں عبادات،حقوق،معاملات،غمی اور خوشی کے متعلق بھی واضح رہنمائی کی گئی۔ انسان فطری اعتبار سے اس ضرورت کو محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اس کا محتاج رہتا ہے کہ اسے غم میں جہاں صبر وتحمل کی تھپکی میسر ہو ،وہیں خوشی کے موقع پرخوشی کے اظہارکا صحیح ڈھنگ وطریقہ کا قرینہ سکھلایا گیا ہو۔
آج پوری امت مسلمہ ماہ رحمت وغفران کی رخصتی کے اختتام پر عید الفطر کی تقریب سعید منانے اور اس خوشی و راحت کو دوسرے مسلمانوںکے ساتھ بانٹ کر اس سے لطف اندوز ہونے میں محو اور مصروف ہے۔اللہ رب العزت یہ عید تمام مسلمانوں کے لئے دائمی راحت وسکون اور ابدی خوشی کا سامان بنا کر صیام کے طفیل ہماری دنیا و آخرت کو سنوارے (آمین)۔
لیکن ایک سوال ہے۔۔۔کیا عید کی خوشی کا معنی ومطلب صرف نئے کپڑے ،لذیز اور مرغن پکوانوں کا مزہ چکھنے اوران چیزوں کے حصول کے لئے انتھک کوشش کرنے تک محدودہے ؟کیا ماہ رحمت وغفران کے اختتام پر دنیاوی سازوسامان سے لیس ہوکر اپنی انفرادی واجتماعی زندگی کے یہ لمحات خوشی کے ساتھ گزارنا ہی اصل کامیابی ہے؟خالقِ کائنات ہمیں عیدکے حوالے سے رہنمائی کرتا ہے کہ بندگان ِ خدا میں عید کی خوشی کا حقیقی مستحق اور کامیابی کااصل حق دار کون ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’بے شک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا‘‘(سورۃ الاعلی آیت :14)یعنی جس کسی خوش نصیب نے ماہ رمضان میں اللہ رب العالمین کے احکامات کی پیروی کرکے اپنے نفس کو اخلاق رذیلہ سے اور دل کو شرک و معصیت کی آلودگیوں سے پاک کرلیا ،اصل خوشی اور حقیقی کامیابی کا مستحق تو وہ ہے ۔سال کے تمام مہینوں میں ماہ رمضان کو جو فضیلت وبرتری اور تفوق حاصل ہے وہ کسی دوسرے مہینے کو حاصل نہیں۔یہ مہینہ نزول قرآن کی یادگار ہے۔اللہ پرستی کا سرچشمہ،صبروتحمل اور ایثار نفس کا معلم ہے۔اس میں جنت کے تمام دروازے کھول دئے جاتے ہیں،جہنم کے تمام دروازے بند کردئے جاتے ہیں۔فسق وفجور میں کمی اور اعمال صالح کی کثرت ہوتی ہے۔مغفرت ورحمت کی برسات ہوتی ہے اور عصیاں کاروںکو راہ نجات ملتی ہے ؎
عصیاں سے کبھی ہم نے کنارہ نہ کیا
پر تونے دل آزردہ ہمارا نہ کیا
ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر
لیکن تیری رحمت نے گوارا نہ کیا
لہٰذا ایسے روزے کا کوئی فائدہ نہیں جس کی بدولت ہمیں ضبط نفس حاصل نہ ہو ، ہمارے گناہوں کی بخشش نہ ہو، ہم رحمت ومغفرت کی برسات کے مستحق نہ بن جائیں ، ہمیںپرہیزگاری کا سبق نہ ملے ، ہمارے اندر تقویٰ و طہارت پیدا نہ ہو ، ہمیں صبر وپرہیز اور تکالیف ومصائب میں تحمل و برداشت کی عادت نہ پڑ جائے ،ہمارے اندر نیکیوں کا جوش اور گناہوں سے بچنے کی قوت وصلاحیت پیدا نہ ہو اور جو صیام ہماری نفسانی خواہشات کو کچلنے میں معاون ثابت نہ ہو ، ایسا روزہ محض بھوک وپیاس کا عذاب ہے ،اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اللہ کے رسول ﷺکا ارشاد ہے :’’کتنے ہی روزہ دار ہیںجن کو سوائے (بھوک اور)پیاس کے روزہ رکھنے سے کچھ نہیں ملتا‘‘(سنن دارمی کتاب الرقاق باب فی المحافظۃعلی الصوم(2762) دوسری روایت میں یوں ارشاد فرمایاکہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا:’’وہ شخص ملعون اور اللہ کی رحمتوں سے دور ہوگیا جس نے ماہ رمضان کو پایا مگر اس کی مغفرت و بخشش نہ ہوئی‘‘اس پر اللہ کے رسول ﷺنے آمین کہا۔(صحیح الترغیب والترھیب للالبانی کتاب الصوم باب الترغیب فی صیام رمضان(995))
لہٰذاعید کے موقعہ پر ہماری خاص توجہ اس بات کی طرف ہونی چاہئے کہ ہم یہ خوشی کے قیمتی لمحات صرف لباس،مرغوب پکوانوں اور دیگر لایعنی چیزوں میں نہ گنوائیں بلکہ یہ فکردامن گیر ہونی چاہئے کہ اس ماہ رحمت و غفران میں ہمارے گناہوں کی مغفرت ہو اور ہم عذاب الیم سے نجات حاصل کرنے والوں میں شمار ہوجائے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے :’’عید اس کی نہیں جس نے نئے کپڑے پہنے بلکہ عید اس کی ہے جس کو وعید (عذاب) سے نجات ملی ۔عید اس کی نہیں جو اپنے آپ کو نئے لباس اور بہترین سواری سے مزین کرے بلکہ عید اس کی ہے جس کے گناہوں کی مغفرت ہو جائے‘‘اللہ رب العالمین حقیقی معنوں میں ہمیں عید کی کامیابی اور خوشی نصیب فرمائے اور ہمارے گناہوں کی مغفرت کرکے ہمیں عذاب الیم سے نجات دے کر جنت کا وارث بنائے۔(آمین یا رب العالمین)
٭٭٭٭٭