عید الفطر اصطلاح شریعت میں صیام کے روزوں کے اختتام پر اپنے ظاہر وباطن میں اخلاقی عروج وپاکیزگی کے شکرانہ میں اظہار مسرت کا نام ہے۔عید کا لغوی معنیٰ ایسی خوشی ہے جو باربار لوٹ کے پیامِ مسرت نصیب کرے۔حضور اقدس ؐنے فرمایا کہ ماہ رمضان کو بنی نوع انسان کیلئے اس لئے بخشا گیا تاکہ وہ ابوالآدم کی اْس لغزش کا تاقیامت کفارہ پیش کرکے اپنی خواہشات ِ نفس کو روندھ دے۔ کسی بھی لغزش کا اثر انسان کے بدن میں تیس دن تک باقی رہتاہے۔لہٰذا اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں کی سورت میں ہم پردائمی روحانی علاج عطافرماکر بہت بڑا احسان فرمایا ہے۔حضور اقدس ؐ نے صلائے عام فرمائی کہ اے لوگو! تم پر ایک عظیم مہینے نے سایہ کردیا جو بھی اس سے قدر کرے یہ مہینہ ایک باایمان کو شادمانی نصیب کرے گا۔انسان کے اندر فطری اخلاق کو اْجاگر کرتے ہوئے خواہش کی مغلوبیت سے گناہوں سے باز رکھے گی۔حضرت امیر المومنین علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ عید کے روز جو کی روٹی کھارہے تھے کہ کسی نے عرض کی کہ آج عید ہے، فرمایا میری عید اُس دن ہے جس دن کوئی گناہ میرے بدن سے صادر نہ ہوجائے۔یقینا روزوں کے طفیل انسان کے اندر ملکوتیت کا نظام دوبالا ہوجاتا ہے ،خدائے برحق اْسے آسمانی خوانوں سے فربہ بناتا ہے جو بدن کو بھی قوت نصیب کرتا ہے اور روح کو بھی۔حضرت عیسیٰؑ نے اسی خوان کی تمنا کی :اے اللہ !اے میرے رب نازل کر آسمان سے ہم پر روحانی خوان تاکہ وہ دن ہمارے لئے عید ہو اور آپ کی نشانیوں میںسے ہو اورآپ بہترین عطا کرنے والے ہیں۔ لہٰذا روحانی تقاضوں کی تکمیل کے باعث مومن کے واسطے ہردن روزعید ہے ،جب اس کے قلب پر رحمت کی بارش نازل ہوتی ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب قلب تزکیہ نفس سے مہبط انوار بن جائے،نفس کشی اس کا بہترین و تیر بہدف علاج ہے۔حضرت اْم المومنین عایشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ بھوک سے خدائے برحق کے دروازے کو دستک دے دو،تمہارے لئے کھولا جائے گا۔حضور اقدسؐ نے فرمایا جب تمہیں ا س نوع کی بیش قیمت روحانی فرحت نصیب ہو تو شکرانے کے لئے قبل از نماز خیرات کرکے اس خوشی میںاپنی ملت کے کمزور طبقوں کو شامل کرو اورعید گاہ جاکر اس کا اجتماعی شکرانہ نماز دوگانہ سے پیش کرکے خدا کے دربار میں سربسجود ہو کر آجائو۔آنے جانے میں علٰیحدہ علٰیحدہ راستہ اختیار کرو کیونکہ تیرے لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتے استقبال و مصافحہ کے لئے دست بستہ رکھے ہیں اور وہ تمہارے مصافحہ کیلئے انتظار میںبیٹھے ہیں۔کتنے خوش نصیب اورپیکر روحانیت ہوں گے وہ لوگ جو اس مصافحہ کا ادراک کرتے ہیں ،ان کی دعائیں اورمبارک بادیاں سنتے ہیں۔ آج عید کا وہ دن ہے جب بشریت پر روحانیت کی ترو تازگی غالب آیا ہے، لہٰذا آج زمینی اورآسمانی باشندوں کے ملن کا دن بھی ہے۔حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں مومن کے لئے پانچ عیدیں ہیں (۱) جس دن مسلمان گناہ سے محفوظ رہے یعنی ا س سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو (۲) جس دن ایمان کے ساتھ بہ سلامت دنیاسے رخصت ہوجائے۔(۳)جس دن ایک مسلمان دوزخ کے پل سے سلامتی کے ساتھ گذر جائے۔(۴) جس دن مومن جنت میںداخل ہوجائے۔(۵) جس دن پروردگار عالمین کے دیدار ولقاء اللہ سے فیض یاب ہوجائے۔ یقینا ماہ رمضان کے قدر دانوں کو پانچوں عید وں کے انوار حاصل ہوجاتے ہیں :جہنم سے آزادی جنت کی بشارت ، وقت افطار دیدار مولیٰ نصیب ہوجاناتاہے ،یوم عرفہ کو سند مغفرت اوراجر وانعام حاصل ہوجاتا ہے۔ ان تمام نعمتوں کا شکرانہ روز عید ہے۔ اگر ایسی ہر عید سبوں کو نصیب ہوجائے کیا عجب ہے کہ کائنات کو امن وامان میسر ہوجائے ،قتل وغارت ظلم و جبر، قطعِ رحمی ،انسانی ہمدردی سے تہی دامنی بساط ارض سے رخصت ہوجائے کہ ہر طرف عید ہی عید ہو۔ ا س کابراہ ارست یہ نتیجہ نکلے گا کہ یتیموں کو تنہائی محسوس نہ ہو ، انہیں یتیم ہونے کا احساس کمتری لاحق نہ ہو ،کسی کو ان کے مال اور زندگی سے کھلواڑکر نے کی چھوٹ نہ ہو، کسی کویتیم کے استحصال کا کوئی موقعہ فراہم ہی نہ ہو بلکہ اس کی مسلمانانہ ومخلصانہ طریقے سے کفالت ہو۔یا د کیجئے وہ دن جب عید ہی کے روز حضرت رسول اکرم ؐنے عید گاہ میں ایک بچے کو روتے ہوئے دیکھا تو فرمایا تم کیوں روتے ہو؟ معصوم بچے نے عرض کی یارسول اللہ ؐ میں یتیم ہوں، اگر میر ابھی کوئی ہوتا مجھے بھی آج نئے کپڑے زیب تن ہوتے۔حضور اقدس ؐ نے اشکبار آنکھوں سے اپنے دست مقدس سے اْٹھاکر ا س بچے کو سینۂ اطہرسے لگایا اور فرمایا کیا تو راضی ہے آج سے تیرا باپ رسول اکرم ؐ، تیری ماں حضرت عائشہؓ، تیری بہن فاطمہ الزہراؓ ہو اور تیر ا بھائی حسنؓ اور حسین ؓہوں۔ حضور اقدسؐ نے اس ہمدردانہ قلب وذہن سے ایک معصوم بچے کے اندر یتیمی کا احساس مٹا یا۔ یوں اس دُر یتیم صلعم نے عالم انسانیت پر احسان فرماکر ہمارے لئے حقیقی خدمت خلق کی مشعل فروزاں کی۔
عید کا ایک مدعا یہ بھی ہے کہ مسلمان اپنے اندرمومنا نہ صفات کی جاذبیت کاخزینہ جمع کریں۔ علمائے کرام نے خلیفہ الارض کا ترجمہ بھی یہی کیا ہے کہ جو لوگ اس مشن میںکامیاب ہوجائیں گے انہیںجنت کی عید بھی نصیب ہوجائے گی۔ عید کا نام یوم المزید بھی ہے جب خدائے برحق مومن کو اپنے دیدار سے نوازے گا۔ احادیث میں یہ بات آئی ہے کہ یہ روز جنت میںدنیا کی طرح یوم الجمعہ ہوگا۔ جب مومنین ا?پس میں معانقہ کرکے اس بے مثال و الاثانی روحانی وقلبی فرحت کے حق دار بن کر منتظر دیدا رمولیٰ ہوں گے، اسی لئے دنیا میں بھی ایسی ہی کیفیت کی ایک جھلک اس وقت نگاہوں کے سامنے رقصاں ہوجاتی ہے جب مسلمان عید گاہ میںاجتماعی طور جمع ہوکر ایک دوسرے سے مصافحے اورمعانقے کر کر کے محض فی سبیل اللہ اظہار محبت کریں اور ان کا یہ ایمان ہوتاہے کہ آج کے دن ہم بند گان ِ خدا کو آپسی کدورتیں دور کر نی چاہیے،عنقریب وہ بھی ایک دن ہوگا جب ہم خدا کو بے حجاب دیکھیں گے۔
لہٰذا جس طرح یقینا مومنین کی آج عید ہے مگرہمارے لئے ہردن ہی عید ہے شرط صرف یہ کہ ہمارے اندر اطاعت خدا ورسول ؐکا جذبہ وعمل نصیب ہو۔ ورنہ عیدیں آتی رہیں گی اور جاتیں رہیں گی لیکن افسوس اگر ہمارے اندر سر تا سر تبدیلی پیدا نہ ہو تو مطلب ہی فوت۔آج کے روز ہمیں گرد ونواح کے اْن لوگوں کو نہیں بھولنا چاہئے جن پر نا مساعد حالات کے دوران ماتم اور ظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑ ے ہیں ، جن کے گھر بار اوراہل وعیال غزہ،برما ، افغانستان ، مصر، شام ، عراق اوردیگر مسلم ممالک میں ظلم و بربریت سے ویران پڑے ہوئے ہیں۔آج یہاں کشمیر میں متاثرہ خانوادوں کے بچے اور دوسرے اہل خانہ دروازوں پر ٹکٹکی لگائے ہوئے بیٹھے ہیں کہ کب ہمارے اپنے بچھڑے ہوئے اعزاء و اقارب گھر لوٹ آئیں گے۔ماں باپ جدا ہوئے اولادوں کے منتظر ہوں گے، بیوی یہ سوچتی ہوگی کہ ابھی میرا شوہر تب آیا کہ اب آیا ، بہن سراپا انتظا رہوگی ابھی میرا بھائی آئے گا، بیٹی انتظار میں کھڑی ہوگی ابھی ابو آئے گا مگر دائمی طور جدا شخص افسوس ہے کہ کبھی لوٹ کے آیاہے نہ آئے گا ، بے درد زمانہ ان سب کو ہمیشہ ہمیش کے لئے اْچک گیا ہے۔اس لئے یہ متاثرہ آبادیاں آج کے دن اپنوں سے دائمی جدائی کے غم میں حواس باختہ بیٹھے ہیں۔ آج تک کشمیر میں بھی بے شمار لوگ مبنی برانصاف جد وجہد راہ میں کام آ گئے۔ہمیںیہ زیب نہیں دیتا کہ جس عظیم مقصد کیلئے انہوں نے اپنی جانوں کو نچھاور کیا ، اس کی قومی اہمیت نظرانداز کر کے ان کے اہل خانہ سے عید کے موقع پر نظریں پھیریںیا ان کی دل جوئی سے گریز کریں۔ ا س وقت بھی جیل خانوںمیںہمارے بے شمار افراد اسی جرم بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں اور حق گوئی اوراپنے سلب شدہ حقوق کی پاداش میں صعوبتیںبرداشت کررہے ہیں۔ کیا یہ ناانصافی نہیں ہوگی کہ ہم ان کے بے یارو مددگار اہل خانہ کی اخلاقی ومالی معاونت سے گریز کریں ؟ کیاتنہا عید منانا شیوۂ ایمان ہوسکتا ہے؟ روزوں کا فلسفہ ا س بات کا متقاضی ہے کہ روزہ دار ہر طبقہ کے غم والم کی چبھن کو اپنے دل میں محسو س کر کے انہیں عید کی مسرتوں اورفرحتوںمیںشامل کرے ۔ یہی حقیقی وعملی اظہارِ ہمدردی ہے۔ آج کے روزا سی ہمدردی اور غم خواری کے رشتے کی تجدید کا نام یومِ عید ہے اورمومن کسی بھی خوشی میںبہک کر اپنے اردگرد کی زمینی حقیقتوں سے لاتعلق نہیںرہ سکتا ہے۔ آج جہاں ہم اپنے نیک مقا میںکامیابی کیلئے اجتماعی دعائیں کر یں، وہاں اجابت ِدعا کی ساعتیں بھی ہیں، اس لئے ہمارے واسطے ان مبارک ساعتوں میں عالم اسلام کے امن واستحکام ، ترقی وحفاطت کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کی سربلندی، نفاذ شریعت اسلامی کی جد وجہد میں کامیابی ، ملّی تشخص کی بازیابی، شراب و منشیات کی نابودی، معیشت کے عروج، تہذیب وتمدن وثقافتی میراث کی حفاظت کیلئے اجتماعی دعائوں کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہم بہ خلوص نیت خالصتاً یہ دعائیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی داد و دہش سے اُمید ہے کہ ہماری ذات اور ہمارے وطن اور خصوصیت کے ساتھ عالم اسلام کیلئے یہ عید پیغام فرحت وانبساط ثابت ہوگی۔
……………………
نوٹ : مضمون نگارصدر انجمن حمایت الاسلام جموں وکشمیر ہیں