صدرِ جمہوریہ کے خطاب کے تناظر میں جشن ِ جمہور

       ہندوستانی قوم نے پانچ دن پہلے بڑے تزک و اہتمام کے ساتھ 26؍ جنوری کو 73واں جشن یوم جمہوریہ منایا۔ یوم آزادی اور یوم جمہوریہ ہندوستانی قوم کے وہ قومی تہوار ہیں، جس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ یہ بات بھی ہندوستانی قوم کے لئے باعثِ اطمینان ہے کہ گزشتہ 73 سال سے ہمارا جمہوری سفر جاری ہے۔ ان سات دہوں کے دوران جمہوریت کی بر قراری کے لئے بہت سارے چیلنجس بھی آئے لیکن قوم نے ان کا مقابلہ کرتے ہوئے اس پر قابو پالیا۔ ہندوستان کے ساتھ دیگر ممالک نے بھی جمہوریت کو اپنایا تھا ، لیکن وہاں جمہوریت پنپ نہ سکی۔ لیکن ہمارے ملک میں ایسی دھماکو صورتِ حال پیدا نہیں ہو ئی کہ جمہوریت کی ناکامی کے نتیجہ میں مارشل لا یا کوئی اور طرزِ حکومت ملک میں رائج ہو سکے۔ جس سے ملک کے شہریوں کی آزادی خطرہ میں پڑجائے۔ ملک کے قدآور قائدین نے جو دستور ملک کے حوالے کیا تھا ،اس کی عمل آوری میں ہمارے حکمرانوں نے تساہل سے کام لیا لیکن پھر بھی ملک میں کوئی ایسا بحران پیدا نہیں ہو،ا جس سے ملک کی جمہوریت کا ہی خاتمہ ہوجائے۔ ہندوستان کا آئین اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں ملک کے تمام طبقوں کی آزادی اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا۔ ہر سال صدر جمہوریہ ، یوم جمہوریہ کے موقع پر قوم سے خطاب کر تے ہوئے اس دن کی اہمیت کو واضح کر تے ہیں اور ملک کی عوام کو ملک کے دستور پر چلنے اور اس کا احترام کرنے کی تلقین کر تے ہیں۔ صدرجمہوریہ کا یہ خطاب اگر چہ کہ ایک رسمی نوعیت کا ہوتا ہے ، لیکن ملک کی عوام یہ توقع کر تی ہے کہ ان کا یومِ جمہوریہ کا خطاب ملک کی عوام کے لئے ایک مہمیز کا کام کرے گا۔ سابق صدور کے خطابات پر اگر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ بات بڑی واضح ہوکر سامنے آ تی ہے کہ ان خطبوں میں ملک کی عوام کے لئے ایک پیغام ہوتا تھا۔ لیکن حالیہ عرصہ میں صدر جمہوریہ کے یوم جمہوریہ یا یومِ آزادی کے خطابات میں یہ پہلوبہت کم نظر آتا ہے کہ اس کے ذریعہ قوم کو کوئی اہم پیغام دیا گیا ہو۔ 73ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی جمہوریت کو درپیش خطرات کے بارے میں کوئی لب کشائی نہیں کی، انہوں نے دستور میں درج نکات کا تذکرہ تو کیا لیکن اس وقت ہندوستانی جمہوریت جس نازک موڑ پر کھڑی ہوئی ہے، اس بارے میں کوئی اظہارِ خیال نہیں کیا۔ صدر جمہوریہ کے سامنے ملک کے سارے حالات ہیں، وہ بخوبی واقف ہیں کہ اس وقت ملک ایک بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کے دستوری اداروں پر حکومت کی گرفت مضبوط ہو تی جا رہی ہے۔ کوئی قانونی ادارہ غیر جانبداری کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن سے لے کر سی بی آئی ، حکومت کے احکامات پر عمل کرنے پر مجبور ہے۔ صدر جمہوریہ نے ان دستوری اداروں کی شفافیت اور ان کی آزادانہ کارگردگی کے بارے میںاپنے یوم جمہوریہ کے خطاب میںکوئی بات نہیں کہی۔ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی پر انہوں نے کوئی تشویش ظاہر نہیں کی۔ گزشتہ دنوں ہری دوار میں ہوئی دھرم سنسد میں جو زہر افشانی مسلمانوں کے تعلق سے کی گئی اس کی مذمت میں دو لفظ نہیں کہے ۔ صدر جمہوریہ نے کوویڈ پر قابو پانے اور کورونا کے خلاف ٹیکہ اندازی کی مہم کی ستائش کی لیکن اس دوران مہاجر مزدوروں کو جو مصیبتیں جھیلنی پڑی ،اس کا کوئی ذکر صدر جمہوریہ کے خطبہ میں نہیں ہوا۔ حکومت نے ان مزدوروں کو راحت پہنچانے کے لئے کیا اقدامات کئے تھے اس کا تذکرہ صدر جمہوریہ کے خطبہ میں ہونا چاہئے تھا۔                    
      یوم جمہوریہ کے تاریخی موقع پر صدرِ جمہوریہ کا خطاب اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے۔ ملک کی عوام یہ توقع رکھتی ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صدر مملکت ان حقائق کو عوام کے سامنے لائیں گے، جسے حکومت کے سربراہ پیش کر نے سے ہچکچاتے ہیں۔ اگر صدر جمہوریہ کا خطاب بھی رسمی نوعیت کا ہو جا ئے توجمہوریت کی برقراری اور اس کا تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یوم جمہوریہ کے خطاب میں محض حکومت کی کا میابیوں کا تذکرہ کر دیا جائے اور ملک کو درپیش مسائل کو نظرانداز کر دیا جائے تو کیایہ خطاب ملک کی عوام کے لئے کوئی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ صدر جمہوریہ نے اپنے خطاب میں جمہوریت، انصاف،مساوات اور بھائی چارہ کی بات کی ۔ لیکن کیا واقعی ملک میں جمہوری اقدار اور اصولوں پر عمل کیا جا رہا ہے ، اس پر کوئی تبصرہ صدر کے خطاب میں نظر نہیں آیا۔ اسی طرح سماج کے مختلف طبقوں کے ساتھ انصاف اور مساوات کا برتاؤ کرنے کی بات کی گئی۔ لیکن کیا حکومت ملک میں رہنے والے تمام طبقوں کے ساتھ مساویانہ رویہ اختیار کی ہوئی ہے۔ کیا اس ملک میں انصاف اور مساوات کے پیمانے الگ الگ نہیں ہو گئے ہیں۔ اقلیتوں کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں کیا تعصب نہیں برتا جا رہا ہے۔ صدر جمہوریہ کے خطاب میں اب اقلیتوں کی فلاح و بہبود کی باتیں ایک قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ جب سے مرکز میں موجودہ حکومت قائم ہوئی ہے ،اقلیتوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی صورت حال پر گفتگوکیابے معنی ہو گئی ہے۔ لیکن صدر جمہوریہ کے خطبہ میں اقلیتوں کا تذکرہ ضروری ہے۔ دستورِ ہند نے جب شہریوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے اقلیتوں کو تعلیمی اور ثقافتی حقوق عطا کئے ہیں تو اقلیتیں یہ اُمید کرتی ہیں کہ حکومتیں اس کا لحاظ رکھتے ہوئے ان حقوق کا تحفظ کریں گی۔ صدر جمہوریہ اپنے خطاب میں حکومت کو بھی توجہ دلائیں گے کہ وہ اقلیتوں کے تئیں انصاف اور مساوات کا رویہ اختیار کرے۔ لیکن اگر صدر کے خطبہ میں لفطِ اقلیت ہی شامل نہ ہوتو یہ توقع رکھنا ہی بے فیض ہے کہ حکومت ان کے ساتھ ہمدرادانہ سلوک کرنے کا عندیہ رکھتی ہے۔صدر جمہوریہ اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ اس وقت عالمی سطح پر ہمارے ملک کی جمہوریت کس نمبر پر آ گئی ہے۔ برطانوی میگزین "  اکنومسٹ "  کے جاری کردہ انڈکس کے مطابق ہندوستان جمہوری ممالک کی فہرست میں 51 ویں مقام پر آ گیا ہے، جب کہ اس سے پہلے ہندوستان41 ویں مقام پر تھا۔ اس میگزین نے ہندوستان کا شمار ’’ ناقص جمہوریت ‘‘کی فہرست میں کیا ہے۔ ملک میں جمہوریت کا یہ حال کیوں ہو گیا، اس پر صدر جمہوریہ کے خطبہ میں غور ہونا چاہئے تھا۔ دنیا کے بیشتر ادارے ہندوستانی جمہوریت پر سوالات اٹھارہے ہیں ۔ انسانی حقوق کی کئی بین الاقوامی تنظیمیں اس بات پر توجہ دلارہی ہیں کہ ہندوستان میں انسانی حقوق کی پامالی کو روکا جائے۔ ہر چھوٹے بڑے واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں انسانی حقوق کا احترام ختم ہوتا جا رہا ہے۔ مذہب، ذات، زبان یا جنس کی بنیاد پر انسانوں کا ناحق خون بہایا جا رہا ہے۔ صدر جمہوریہ کے خطبہ میں یہ بات آنی چاہئے تھی کہ دستورِ ہند نے ہر شہری کو زندگی کا حق دیا ہے۔ کوئی شہری کسی شہری کی جان نہیں لے سکتا۔ اس کی عزت و آبرو پر حملہ نہیں کر سکتا۔حالیہ برسوں میں ماب لینچنگ کے جو بھیانک واقعات پورے ملک اور خاص طور پر اترپردیش میں ہوئے، اس نتاظر میں صدر جمہوریہ کی یہ دستوری ذمہ داری تھی کہ ان وحشیانہ کارستانیوں کو روکنے کے لئے مرکزی حکومت کو ہدایات اپنے خطبہ کے ذریعہ دیتے تا کہ آئندہ ایسے بدبختانہ واقعات ملک میں رونما نہ ہوتے۔ صدر جمہوریہ ، ملک کے دستوری سربراہ ہیں، انہیں ایسے واقعات پر کم از کم تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو انتباہ دینا چاہئے تھا کہ حکومت ان خاطیوں کو کڑی سزا دے ، جو یہ حرکتیں کرتے ہیں۔  
      اس وقت ملک کی جمہوریت اور پورا جمہوری نظام ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہوا ہے۔ جمہوریت کے چاروں ستون ، مقننہ، عاملہ، عدلیہ اور صحافت کی بنیادیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ مقننہ، جو عوامی مسائل کی عکاسی کرنے کا ایک اہم ایوان ہے۔ یہاں جس انداز میں قانون سازی کی جارہی ہے، اس سے ملک کی جمہوریت کی ساکھ عالمی سطح پر متا ثر ہو رہی ہے۔ بغیر کسی مباحث کے قوانین منظور کرلئے جا رہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں تین متنازعہ قوانین کو جس انداز میں عددی طاقت کی بنیاد پر منظور کرلیا گیا، اس کی نظیر سابق میں نہیں ملتی۔ کسانوں کے زبردست احتجاج کے بعد ان تین زرعی قوانین سے حکومت کو دستبردار ہونا پڑا۔ مقننہ کی اہمیت اور اس کے وقار کو اس طرح پامال کیا جارہا ہے، اپوزیشن پارٹیوں کی رائے اور مشوروں کو بالکل نظرانداز کر دیا جا رہا ہے۔ عاملہ، قوانین کے مثبت اور منفی پہلووؤں کو دیکھے بغیر اسے نافذ کرتی جا رہی ہے۔ عوام کی مرضی اور ان کی ضرورتوں کا لحاظ رکھے بغیر ایسے قوانین عوام پر مسلط کر دئے جا رہے ہیں، جس کا جمہوریت میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتی ایجنسیاں ، حکومت کے اشاروں پر چلنے کے لئے مجبور کی جا رہی ہیں۔اب جو کچھ امید بندھتی ہے وہ عدلیہ سے ہے۔ جمہوریت کے ان سات دہوں کے دوران عدلیہ نے اپنے وقار کو بچائے رکھنے کوشش کی ہے۔ اس دوران  بعض فیصلے متنازعہ شکل اختیارکرگئے ہیں۔ سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس گوگوئی نے بابری مسجد۔ رام جنم بھومی مقدمے میں جو فیصلہ دیا ،کیا وہ ہر اعتبار سے ہر فریق کے لئے انصاف پر مبنی تھا۔ اسی طرح ملک کی صحافت کا معا ملہ ہے۔ میڈیا کی غیر جانبداری جمہوریت کے استحکام کا ذریعہ بنتی ہے۔ لیکن اس وقت ملک میں میڈیا کا رول یکطرفہ ہوتا جارہا ہے۔ ملک کے مخصوص طبقہ کے ساتھ نیشنل میڈیا کا رویہ انتقامی نوعیت کا ہے۔ اقلیتوں کے جائز مطالبات اور ان کی واجبی شکایتوں کو ملک کا میڈیا پیش کرنے کی جسارت نہیں کرتا، لیکن اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کی شبیہ کو بگاڑنے میں ملک کا میڈیا سب سے آگے ہوتا ہے۔ ملک میں قانون کی حکمرانی ، مثبت طریقے پر ہورہی ہے۔ عام شہریوں کو قانونی راحت ملنا اب جوئے شِیر لانے کے برابر ہو گیا۔ یہ وہ اہم مسائل ہیں، جس کا صدر جمہوریہ کو اپنے یوم جمہوریہ کے خطاب میں احاطہ کرنا چاہئے تھا ۔ تاکہ صدرِ جمہوریہ کے اس خطاب سے قوم کو اپنا روڈ میپ تیار کرنے میں سہولت مل سکے۔ صدر جمہوریہ کا خطاب اگر بندھے ہوئے ضابطوں کی نذر ہوجائے تو پھر ملک کی عوام کو کہاں سے رہنمائی مل سکتی ہے۔ اس موقع پر ہندوستان کے سابق صدر جمہوریہ کے آر نارائنن کی یاد آ تی ہے۔ انہوں دستورِ ہند کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں خطاب کرتے ہوئے ببانگ دہل کہا تھا کہ’’ اس تاریخی موقع پر ہمیں اس بات کا جائزہ لینے کی شدید ضرورت ہے کہ ان پچاس سالوں میں ہمارے ملک کا دستور ناکام ہوا ہے یا ہم نے دستور کو ناکام کر دیا ہے‘‘۔ یہ ان کی حقیقت بیانی تھی۔ موجودہ حالات میں ہندوستانی قوم اس ملک کے دستوری سربراہ سے بھی یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ ایک ایسے وقت جب کہ ملک کی جمہوریت کو خطرات لاحق ہوگئے اور بعض شرپسند یہ حلف لیتے ہیں کہ وہ ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر بنا کر رہیںگے۔ ان منافر طاقتوں کو صدر جمہوریہ اپنے خطابات کے ذریعہ سخت پیغام دے سکتے ہیں کہ ایسی منفی سوچ ملک کی جمہوریت اور اس کے استحکام کے لئے خطرہ ہے۔ اس کو ختم کرنا ضروری ہے ورنہ قانون کے مطابق ایسی طاقتوں کی سرکوبی کی جائے گی۔          
رابطہ۔9885210770