کنگن//وسطی ضلع گاندربل کے شتکڑی سونہ مرگ کے مردو زن نے جمعرات کو این ایچ ڈی سی ایل اور زیڈ مور ٹنل تعمیرکررہی کمپنی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔مظاہرین میں خواتین، بچے اوربزرگ بھی شامل تھے ۔مظاہرین ٹنل میں بلاسٹنگ کی وجہ سے رہائشی مکانوں کو ہوئے نقصان کا معاوضہ نہ ملنے پر سراپا احتجاج تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2017 میں جب ٹنل میں بلاسٹنگ کی جارہی تھی تو اس کی وجہ سے گائوں کے بیشتر رہائشی مکانوں میں دراڑیں پڑگئیں۔انہوں نے کہا کہ جون 2018 میں انہوں نے رہائشی مکانوں کو بلاسٹنگ سے ہوئے نقصان کے بارے میں ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل کو مطلع کیااورانہوںنے اس سلسلے میں رپورٹ مرتب کرنے کیلئے ایس ڈی ایم کنگن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔ مذکورہ کمیٹی میں جیالوجی اینڈ مائننگ، آر اینڈ بی، محکمہ مال، سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ایس ڈی پی او کنگن شامل تھے، جنہوں نے شتکڑی سونہ مرگ علاقے میں جاکر رہائشی مکانوں میں بلاسٹنگ سے ہوئے نقصان کا جائزہ لیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ کمیٹی نے رپورٹ پیش کی جس کے بعد ضلع ترقیاتی کمشنر نے این ایچ آئی ڈی سی ایل کو مطلع کیا تاکہ معاوضہ ادا کیا جاسکے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ تین سال کا عرصہ بھی گذر گیا لیکن این ایچ آئی ڈی سی ایل اور ضلع انتظامیہ نے اس بارے میں کوئی اقدام نہیں کیااور متاثرہ لوگ مسلسل معاوضے سے محروم ہیں۔ مشتاق احمد لون نامی ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ انہوں نے کئی بار این ایچ آئی ڈی سی ایل اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ش معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ مکانوں کی مرمت کرسکیں لیکن آج تک معاوضہ نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے۔اس دوران زیڈ مور ٹنل تعمیر کررہی کمپنی کے افسران نے لوگوں کو یقین دلایا کہ اس بارے میں مقامی لوگوں اور این ایچ آئی ڈی سی ایل کے افسران کے ساتھ میٹنگ کی جائے گی اور معاملہ حل کیا جائے گاجس کے بعد لوگوں نے احتجاج ختم کیا ۔