بانہال // پیر کے روز کڑکتی دھوپ میں دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے قریب اننت ناگ سے جموں کی طرف جانے والی ایک 300 نمبر خونی نالہ پل کے نزدیک گرتے پتھروں اور پسی کی زد میں آگئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں کار میں سوار چار افراد زخمی ہوئے جن میں ایک خاتون اور ایک اٹھارہ مہینے کا بچہ بھی شامل ہے۔ پتھروں اور پسیوں کے گر آنے وجہ سے ملبے میں پھنسی کار کو باہر کھینچنے اور شاہراہ کی بحالی میں قریب ڈیڑھ گھنٹے تک کا وقت لگا۔ گرتے پتھروں کی وجہ سے شاہراہ کو بھی نقصان پہنچا ہے اور سڑک کی ایک باہری دیوار کا ایک حصہ بھی ڈھ گیا ہے۔ ایس ایچ او رامسو نظیر احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فوج ، پولیس ، سی آر پی ایف ، کمپنی ورکروں اور مقامی لوگوں کی فوری مدد سے زخمیوں کو تباہ ہوئی کار سے نکال کر رامسو کے ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد زخمیوں کو ایمرجنسی ہسپتال بانہال اور وہاں سے گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چلتی کار پر خونی نالہ پل کے نزدیک گر آئے ملبے اور پتھروں کا ایک حصہ ہی کار کے پچھلے حصے پر لگ گیا جس کی وجہ کار مسافروں کا بہت بچاؤ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسی کی زد میں آئی کار کو تعمیراتی مشینری کی مدد سے ایک طرف کیا گیا اور ملبے اور پتھروں کو سڑک سے صاف کیا گیا جس کی وجہ سے شاہراہ پر کچھ وقت کیلئے ٹریفک کی نقل وحرکت بھی متاثر رہی۔ رامسو پولیس نے زخمیوں کی شناخت مدثر احمد انکی اہلیہ راشدہ بیگم ، محمد سوہل وانی اور ان کے اٹھارہ مہینے کے بیٹے انم راجہ کے طور کی گئی ہے اور یہ سب ضلع اننت ناگ کے مٹن علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقع کے تعلق سے رامسو پولیس نے ضابطے کی کاروائی کی ہے۔ ادھر ایمرجنسی ہسپتال بانہال میں تعینات ڈاکٹروں نے بتایا کہ چھوٹا بچہ صاف طور سے بچ نکلا ہے البتہ باقی زخمیوں کی حالت بھی خطرے سے باہر ہے اور ان میں سے کچھ کو فریکچر بھی ہوئے ہیں۔