محمد تسکین
بانہال // سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بانہال کے احاطے اور اس کے گرد و نواح میں مبینہ طور پر مریضوں کو نجی میڈیکل دکانوں، تشخیصی لیبارٹریوں اور دیگر طبی اداروں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے راغب کرنے اور اثر انداز ہونے کی شکایات کا سب ڈویژن انتظامیہ نے سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔اس سلسلے میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) بانہال محمد نصیب نے ایک چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جو معاملے کی مکمل حقائق پر مبنی تحقیقات کرے گی۔یہ کارروائی ایک شکایت موصول ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ بعض افراد، جو نجی میڈیکل دکانوں ، ڈائیگناسٹک لیبارٹریوں اور دیگر طبی اداروں سے وابستہ ہیں، ہسپتال کے اندر اور آس پاس مریضوں سے رابطہ کر کے انہیں مخصوص اداروں سے ٹیسٹ یا ادویات لینے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔شکایت کے بعد معاملہ بلاک میڈیکل آفیسر (بی ایم او) بانہال کو تصدیق کے لیے بھیجا گیا۔ انچارج بی ایم او بانہال ڈاکٹر رئیس احمد کھانڈے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ محکمانہ سطح پر جانچ کے دوران شکایات میں لگائے گئے الزامات حقائق پر مبنی پائے گئے۔بی ایم او کی رپورٹ کے مطابق بعض افراد نجی میڈیکل شاپس اور لیبارٹریوں سے وابستہ ہو کر مریضوں کی رہنمائی کے نام پر مخصوص خدمات حاصل کرنے کے لیے انہیں اثرانداز کر رہے تھے، جو طبی اخلاقیات اور مریضوں کے آزادانہ انتخاب کے اصولوں کے منافی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ متعلقہ افراد کو متعدد بار ایسی سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت اور وارننگ دی گئی، تاہم اس کے باوجود شکایات کا سلسلہ جاری رہا۔ ایس ڈی ایم بانہال کی جانب سے جاری حکم نامے کے تحت تشکیل دی گئی کمیٹی میں تحصیلدار بانہال امجد طالب کین کو چیئرمین، بلاک میڈیکل آفیسر بانہال، نائب تحصیلدار (ہیڈکوارٹر) بانہال اور ایس ایچ او پولیس اسٹیشن بانہال کو بطور ممبر شامل کیا گیا ہے۔کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ معاملے کی تفصیلی تحقیقات کرے، متعلقہ شواہد بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج، ہسپتال ریکارڈ، وزیٹر رجسٹر، دستاویزی ثبوت اور شکایت کنندگان و گواہوں کے بیانات کا جائزہ لے۔تحقیقاتی کمیٹی مبینہ طور پر ملوث افراد، درمیانی کردار ادا کرنے والے عناصر اور متعلقہ اداروں کی نشاندہی بھی کرے گی اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کی سفارش کرے گی۔ایس ڈی ایم بانہال نے بی ایم او اور ایس ایچ او بانہال کو ہدایت دی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک ہسپتال کے احاطے میں سخت نگرانی رکھی جائے اور کسی بھی غیر مجاز شخص کو مریضوں کو متاثر کرنے یا ان کا رخ تبدیل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔