مساوی رویہ ( Balanced Approach) اپنانے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ ہر سوال کے Keywordپر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔یہی آپ کی رہنمائی کرے گا کہ کس سوال کا جواب کیسے دینا ہے۔Keywordکو آسانی سے سمجھنے کے لیے راقم الحروف یہاں ایک مرتبہ پھر نئے زرعی قوانین کی مثال پیش کرے گا۔بالفرض سوال اس طرح پوچھا جائے کہ ’’ نئے زرعی قوانین کا تنقیدی جائزہ لیجیے (Critically analyse the new farm laws )‘‘۔اس سوال کا Keywordہے ’تنقیدی جائزہ (Critically analyse)‘‘۔جب آپ نے کیِ وارڈ پہچان لیا تو اب آپ کے لیے جواب دینا آسان ہوگا کیونکہ سوال میں واضح ہدایت دی گئی ہے کہ ’تنقیدی جائزہ‘‘ لیجیے اور تنقیدی جائزے کا مطلب ہے کہ آپ کو نئے زرعی قوانین کی خامیوں اور خوبیوں کو اُجاگر کرنا ہے۔اس کے بجائے اگر سوال یوں ہوگاکہ ’’نئے زرعی قوانین کیا ہے؟تفصیل دیجیے(What are new farm laws?Explain)‘‘۔اس سوال کا کِی ورڈ ہے ’’تفصیل دیجیے (Explain)‘‘ ۔یہاں آپ سے بس زرعی قوانین کی تفصیل پوچھی گئی ہے لہٰذا آپ تفصیل ہی لکھیں گے ۔مزید برآں آپ جس بھی موضوع پر جواب لکھ رہے ہیں، اُس کے سارے پہلوؤں کو اُجاگر کیجیے مثلاً سماجی پہلو،اقتصادی پہلو،سیاسی پہلووغیرہ۔ اب آئیں نصاب کی طرف چلتے ہیں۔
اس بات کا تذکرہ راقم الحروف نے اس سے قبل بھی کیا ہے کہ مینز امتحان میں کُل9 پرچے ہوتے ہیں اور اُن میں سے سات کو میرٹ کے لیے گنا جاتا ہے جبکہ دو بس Qualifying ہوتے ہیں۔جو دو پرچے qualifyingہوتے ہیں، اُن میں سے ہر ایک کے 300نمبرات ہوتے ہیں۔پہلا پرچہ ’زبان (Language)‘ کا ہوتا ہے اور آپ کو یہ اختیار ہے کہ آپ آئین ِ ہند کی آٹھویں شیڈول میں شامل کسی بھی زبان کا انتخاب کرسکتے ہیں(جس میں اُردو زبان بھی شامل ہے)۔دوسرا پرچہ انگریزی کا ہوتا ہے ۔اچھی بات یہ ہے کہ دونوں پرچوں میں آپ کو کم از کم 25فیصد نمبرات ہی لانے ہوتے ہیں یعنی اگر ان دونوں پرچوں میںآپ 300میں سے 75نمبرات لاتے ہیں تو آپ کو کامیاب قرار دیا جائے گا اور ساتھ ساتھ ہی ساتھ اُن کا لیول(Level) بھی دسویں جماعت کے درجے کا ہوتا ہے ۔دونوں پرچوں کا نصاب تقریباً یکساں ہے۔ مثلاً دئے ہوئے اقتباسات کی تفہیم(Comprehension of given passages)،مختصر مضامین،خلاصہ(Precis) وغیرہ۔زبان کے پرچے میں البتہ انگریزی کے مقابلے ایک اضافہ یہ ہے کہ آپ کو ترجمہ بھی کرنا پڑتا ہے(انگریزی سے آپ کی منتخبہ زبان اور اُسی طرح منتخبہ زبان سے انگریزی میں)۔یہ دونو ں پرچے چونکہ Qualifyingہوتے ہیں اور دسویں کے درجے کے ہوتے ہیں ،اس لیے ان دو پرچوں کے حوالے سے زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔البتہ اتنا نظر انداز کرنا بھی صحیح نہیں کہ بعد میں 25 فیصد نمبرات بھی حاصل نا ہو۔
دیگر سات پرچوں (جنہیں میرٹ کے لیے گنا جاتا ہے) میں فی پرچے کے نمبرات 250 ہوتے ہیں اور اُن کا نصاب یوں ہے:
۱۔مضمون(Essay):۔ اس پرچے میں طلباء کو مختلف موضوعات پر مضامین لکھنے ہوتے ہیں۔بورڈ آپ سے یہ توقع کرتا ہے کہ آپ اپنا مضمون صحیح ترتیب سے لکھیں اور اپنے موضوع سے نا بھٹکیں۔
۲۔جنرل اسٹیڈیز ۱(General Studies.1) :۔ثقافت ِہند،تاریخ(عالمی و ہندوستانی)،جغرافیہ،خواتین کا رول ،مختلف نظریات مثلاً اشتراکیت، سرمایہ دارانہ نظام وغیرہ وغیرہ۔
۳۔(جنرل اسٹیڈیز ۱(General Studies.2):آئین ِ ہند،نظم و نسق(Polity)،سماجی انصاف،بین الاقوامی تعلقات ،جمہوریت میں سیول سروسز کا رول،غربت سے جڑے مسائل وغیرہ وغیرہ۔
۴۔(جنرل اسٹیڈیز ۱(General Studies.3):۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، معاشی ترقی،ماحولیات،سلامتی،آفاتِ سماوی ،میزانیہ (Govt.Budgeting) وغیرہ وغیرہ۔
۵۔(جنرل اسٹیڈیز:(General Studies.4۔ اخلاقیات، کلیت(Ethics ,Integrity and aptitude)۔
۶,۷۔آپشنل پیپر ۱ اور ۲ Optional paper 1&2)):یہ دو پرچے باقی پرچوں سے منفرد ہیں اور وہ اس لیے کہ ان میں ایک طالب علم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی من پسند سبجیکٹ کا انتخاب کریں۔آپ مختلف زبانوں کے لٹریچر(بشمول اردو و کشمیری) کے علاوہ کسی بھی شعبے خواہ وہ آرٹس ہو ،سائنس ہو یا کامرس،مضامین کا انتخاب کرسکتے ہیں۔(نوٹ:یہاں مینز کے نصاب کو اجمالی طور پر رقم کیا گیا،نصاب کو تفصیلاً دیکھنے کے لیے خواہش مند حضرات یوپی ایس سی کی آفیشل ویب سائٹ پر جاسکتے ہیں)۔
یوپی ایس سی کیا ہے اور سیول سروسز کے نصاب کو (کماحقہ) جاننے کے بعد اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ ’تیاری کیسے کریں؟‘۔اس ضمن میں سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ نصاب کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔جیسا کہ راقم پہلے بھی عرض کرچکا ہے کہ یہاں نصاب کو اجمالی اور سرسری طور پر ہی تحریر کیا گیا لیکن آپ کے پاس مکمل نصاب کی ایک کاپی ہونا از حد ضروری ہے۔یہی آپ کی رہنمائی کرے گا کہ مجھے کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں۔اسی کی بدولت آپ کو یہ بھی پتہ چلے گا کہ کس شعبے میں آپ کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے اور کس میں نہیں۔نصاب کے ساتھ ساتھ گزشتہ برسوں کے پرچے بھی دیکھیں۔اُنہیں دیکھ کر آپ کو یہ پتہ چلے گا کہ آپ کتنا پانی میں ہیں اور اس بات سے بھی واقف ہوں گے کہ کس شعبے یا مضمون سے زیادہ سوالات پوچھے گئے ہیں اور سوالات کی نوعیت کیا ہے۔
یوپی ایس سی میں بیک وقت کئی مضامین (Subjects) سے سوالات پوچھے جاتے ہیں مثلاً جغرافیہ، تاریخ،نظم و نسق،معاشیات،ماحولیات،سائنس،حالاتِ حاضرہ،ریاضی وغیرہ اور ظاہر سی بات ہے کہ کوئی بھی انسان بیک وقت ان سارے مضامین میں گریجویشن یا ماسٹرس نہیں کرسکتا۔اس لیے جب ایک انسان یوپی ایس سی میں آنا چاہتا ہے تو بعض مضامین سے وہ بالکل نا آشنا ہوتا ہے مثلاً جس شخص نے میڈیکل شعبے میں گریجویشن کی ہو اُسے تاریخ،معاشیات،جغرافیہ وغیرہ جیسے مضامین پر عبور حاصل نہیں ہوگا اور اسی طرح اگر کسی فرد نے آرٹس شعبے میں گریجویشن کی ہو اُسے سائنس،ماحولیات وغیرہ جیسے مضامین کی سدھ بدھ نہیں ہوگی۔ایسے میں اگر آپ براہ راست ہر مضمون کی Recommendedاور Standard کتابیں پڑھنے بیٹھ جائیں تو ممکن ہے کہ وہ آپ کے لیے ناقابل فہم ہوں کیونکہ آپ کی ہر مضمون میں بنیاد(Base) مضبوط نہیں ہوگی ۔ایسے میں از حد ضروری بن جاتا ہے کہ سٹینڈارڈ کتابیں پڑھنے سے پہلے آپ اپنی بنیاد مضبوط بنائیں۔اس کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ چھٹی جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک کی NCERTکتابیں پڑھیں۔یہ کتابیں چونکہ کم عمر طلاب کے لیے بنائی جاتی ہیں اس لیے ان کی زبان عام فہم ہی ہوتی ہیں اور انہیں سمجھنا آسان ہوتا ہے۔آپ ان کتابوں کو جغرافیہ،تاریخ،پولیٹکل سائنس ،سا ئنس ،معاشیات جیسے مضامین میں اچھا عبور حاصل کرنے کے لیے پڑھ سکتے ہیں۔اگر آپ کے پاس وقت کی قلت ہے تو آپ چھٹی کے بجائے نویں سے لے کر بارہویں تک،یا پھر گیارہویں اور بارہویں کی کتابوں پر ہی اکتفا کرسکتے ہیں۔مناسب یہی ہے کہ ان کتابوں کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی آپ تجویزکردہ اور سٹینڈارڈ کتابیں پڑھیں۔ایک اچھی بات یہ ہے کہ ان کتابوں کی قیمت بھی زیادہ نہیں ہے۔
NCERT's کو پڑھنے کے بعد ظاہر سی بات ہے کہ آپ تجویزکردہ کتابوں کا رخ ہی کریں گے۔ایسے میں آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ کس مضمون کے لیے کون سی کتاب پڑھیں کیونکہ بازارمیں آپ کو کتابوں کی بھرمار دیکھنے کو ملے گی۔اس حوالے سے جب آپ کامیاب قرار پائے طلباء کی جانب رجوع کرتے ہیں تو آپ کو متضاد آراء ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی طالب علم جغرافیہ کے لیے گیارہویں اور بارہویں کی NCERTکتابوں پر ہی اکتفا کرتا ہے تو کوئی جی سی لیونگ کی کتاب کی طرف رجوع کرتا ہے۔اسی طرح معاشیات کے لیے کوئی رامیش سنگھ کی کتاب تو کوئی سنجیو ورما کی کتاب پڑھتا ہے۔ہاں جب بات پولیٹی(Polity) کی آتی ہے تو اس کے لیے تقریباً ہر طالب علم ایم لکشمی کانت کی کتاب ہی پڑھتا ہے۔اس تذبذب کے حوالے سے راقم کی رائے یہ ہے کہ آپ تھوڑی سی تحقیق کریں،پھرجو کتاب آپ کو مناسب لگے،اُسی کا مطالعہ کریں۔ایک ہی مضمون کے لیے بیک وقت کئی کتابوں کی طرف رجوع نا کریں بلکہ جس کتاب کو منتخب کریں اُسی کو بار بار پڑھیں۔ہاں اگر آپ کو لگیں کہ ایک ہی کتاب سے سارے موضوعات کا احاطہ نہیں ہورہا تو دوسرے وسائل کی طرف ضرور رجوع کریں۔ا س حوالے سے انٹرنیٹ آپکے لیے کافی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔
(مضمون جاری ہے۔ایک نئے پہلو کے ساتھ اگلی قسط انشاء اللہ اگلے ہفتہ شائع کی جائے گی)
پتہ۔برپورہ پلوامہ کشمیر
رابطہ۔[email protected]
�������������������