فکرو فہم
جی کیو کامران
جب صحابہ کرام ؓ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ قربانی کیا ہے؟ تو سرورِ کائناتؐ نے ارشاد فرمایا کہ’’یہ تمہارے باپ (جدِ امجد) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور اہل ایمان کو تاکید فرمائی کہ وہ اپنی قربانیاں صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے، کامل خلوص اور پاکیزہ نیتوں کے ساتھ پیش کریں۔ اس عبادت کے عظیم الشان اجر کو اجاگر کرتے ہوئے آپ ؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن، خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے قربان کیے گئے یہ جانور اپنے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت پوری شان کے ساتھ حاضر ہوں گے اور بارگاہِ خداوندی میں بندے کی ایمان کی گواہی دیں گے اور اہل ایمان کے لیے پُل صراط سے تیزی کےساتھ گزرنے کا سہارا بنیں گے۔‘‘
جب کوئی بندہ خالص رضائے الٰہی کے حصول اور خوش دلی کے ساتھ جانور قربان کرتا ہے، تو بارگاہِ الٰہی میں اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے ہی یہ قربانی قبول کر لی جاتی ہے۔ اگرچہ ایامِ نحر یعنی 10، 11 اور 12 ذوالحجہ کے دوران کئے جانے والے تمام صالح اعمال اللہ کے ہاں انتہائی قدرومنزلت کے حامل ہیں، تاہم ان مخصوص دنوں میں قربانی کرنے، یعنی راہِ خدا میں خون بہانے کا عمل سب سے افضل اور اعلیٰ ہے۔ ان بابرکت ایام میں یہ ایک ایسا منفرد اور عظیم الشان فریضہ ہے جس کا کوئی دوسرا متبادل ہو ہی نہیں سکتا۔
جیسا کہ قرآنِ کریم میں بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جانوروں کے گوشت یا خون کی کوئی حاجت نہیں، وہ تو صرف بندے کا تقویٰ دیکھتا ہے۔ اس لیے قربانی کا اصل فلسفہ ظاہری نمود و نمائش میں نہیں، بلکہ بندے کی نیت اور اس کے تقویٰ میں پوشیدہ ہے۔ اس حقیقت کی سب سے بڑی عملی مثال ہمیں وادیٔ منیٰ میں نظر آتی ہے، جہاں لاکھوں حجاجِ کرام کی طرف سے قربانیاں پیش کی جاتی ہیں اور اکثر حجاج قربانی کے جانور کے گوشت کو کھانا تو دور اس کو دیکھ بھی نہیں پاتے ہیں۔انہیں تو بس انتظامیہ کی طرف سے قربانی کی ادائیگی کی محض ایک اطلاع موصول ہوتی ہے۔ اس سے ہمیں اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ مادی وجود کی کوئی اہمیت نہیں، اصل چیز بارگاہِ الٰہی میں بندے کا سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ قربانی کا عظیم فریضہ ہمیں یہی ترغیب دیتا ہے کہ ہم اپنی خواہشات، اپنی دولت اور اپنی عزیز ترین چیزوں کو اپنے خالق کے حکم پر قربان کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔ اور ہمارے دلوں کی ایسی روحانی تربیت ہو جو ہمیں ایثار و قربانی کے جزبے سے سرشار کر دے۔ لیکن، اگر ہم اس مبارک عمل کو اس کی اصل روح اور اخلاص کے بغیر، محض ایک روایتی رسم کے طور پر ادا کریں گے، تو ہم اس سچی روحانی روشنی، انوارِ الٰہی اور ان بے پناہ فضائل و اکرام سے محروم رہ جائیں گے جو ایک سچی قربانی کا خاصہ ہے۔ اسلام بذاتِ خود مسلسل قربانی کا ایک ایسا راستہ ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی کو اپنے خالق کی مرضی کے تابع کر دیں۔ قرآنِ کریم نے اس کائنات کے سب سے دل گداز منظر کو جس سحر انگیز اور معجزاتی انداز میں بیان کیا ہے، ایسی سچی کہانی اور دل آویز داستان کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی ۔
ایک باپ اور بیٹا آمنے سامنے بیٹھے گفتگو کر رہے ہیں۔ باپ (حضرت ابراہیمؑ) نہایت شفقت سے فرماتے ہیں،اے میرے پیارے بیٹے۔ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تم بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اور دوسری طرف بیٹے کی تسلیم و رضا کا عالم دیکھیے کہ بغیر کسی لرزش اور ہچکچاہٹ کے جواب دیتے ہیں کہ،اے میرے پیارے ابا جان آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، آپ اسے کر گزرئیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ باپ کی اس لا مثال اطاعت اور فرمانبرداری کو حکیم الامت علامہ اقبال نے یوں بیان کیا ہے۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ یہ سیدنا ابراہیم ؑ کا ‘فیضانِ نظر (روحانی نگاہ) بھی تھا اور سیدہ ہاجرہؑ کے ‘مکتب کی کرامت (آغوش کی تربیت) بھی۔ یہ اس عظیم ماں کی تربیت تھی جس نے اسماعیل ؑ کو سکھایا کہ باپ کے حکم کے آگے سر کیسے جھکایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو مائیں اپنی اولاد کو باپ کی اطاعت سکھاتی ہیں، وہ اپنے اولادوں کو ہمیشہ فرمانبردار پاتیں ہیں ۔کیونکہ اولاد کی تربیت کا اصل جوہر ماں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
چنانچہ، یہ عالی مرتبت باپ اور بیٹا وادیٔ منیٰ کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک طرف وہ بوڑھا باپ تھا جس نے عمر بھر کی دعاؤں اور منتوں کے بعد بڑھاپے میں پائے ہوئے اکلوتے بیٹے کو راہِ خدا میں قربان کرنے کا عزم کر رکھا تھا، اور دوسری طرف وہ کمسن بیٹا تھا جو خوشی خوشی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے زمین پر لیٹ گیا۔ اس ایمان افروز اور بے مثال منظر کو دیکھ کر رب العزت نے فرشتوں کے سامنے جنہوں نے کبھی انسان کی تخلیق پر سوال اٹھایئے تھے انتہائی فخر سے اپنے بندے(انسان) کی اطاعت کا تذکرہ فرمایا۔
حضرت ابراہیمؑ نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی، تیز چھری کو اپنے لختِ جگر کے حلق پر رکھا اور اپنی پوری قوت سے دبا دیا۔ مگر اسماعیل ؑ کا ایک بال بھی نہ کٹا۔ حیرانگی کے عالم میں خلیل اللہ نے وہ چھری پاس موجود ایک پتھر پر ماری، تو پتھر کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ دراصل چھری کو مسبب الاسباب اللہ کی طرف سے یہ حکم آچکا تھا کہ اسماعیل کے ایک بال کو بھی خراش نہ آئے۔ جب دوبارہ چھری چلی اور ذبح کا عمل مکمل ہوا، تو حضرت ابراہیمؑ نے دل کی تسلی کے بعد جیسے ہی آنکھوں سے پٹی ہٹائی، وہ دنگ رہ گئے۔ سامنے ذبح شدہ حالت میں کوئی انسان نہیں، بلکہ جنت کا ایک مینڈھا (دنبہ) پڑا تھا اور حضرت اسماعیل ؑ پاس کھڑے مسکرا رہے تھے۔شکر گزاری کے اس عالم میں پوری وادیٔ منیٰ تکبیرات کی روح پرور آوازوں سے گونج اٹھی۔ سیدنا ابراہیم ؑ نے پکارا۔’اللہ اکبر، اللہ اکبر‘(اللہ سب سے بڑا ہے)۔ حضرت اسماعیلؑ نے جواب دیا۔ ‘’لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر‘(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے) اور وہاں پر موجود روح الامین حضرت جبرائیل ؑ نے اس پکار کو ‘وللہ الحمد(اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں) کہہ کر مکمل کیا۔
اس عظیم الشان اور روح پرور موقعے پر بارگاہِ الٰہی سے یہ وحیِ نازل ہوئی کہ ‘اے ابراہیم یقیناً تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں اور یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔ اللہ رب العزت نے خلیل اللہ کی اس والہانہ محبت کو شرفِ قبولیت بخشا اور قیامت تک کے لیے اسے اہل ایمان پر بطورِ سنت لازم قرار دے دیا۔ صدیاں گزر گئیں، مگر منیٰ کی تاریخی وادی سے لے کر دنیا کے ہر گوشے تک، مسلمان ہر سال اس پاکیزہ ورثے کو عقیدت و محبت سے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ عمل اس بات کی ابدی یاد دہانی ہے کہ حقیقی کامیابی اور روحانی بلندی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک نہ ہم اپنی عزیز ترین چیزوں،اپنی خواہشات، اپنی آسائشوں اور اپنی انا کو اللہ کے حضور قربان نہ کر دیں۔
سیدنا ابراہیمؑ کی پوری زندگی دراصل مسلسل آزمائشوں کا ایک شاندار گلدستہ ہے۔ بیٹے کی اس جگر سوز آزمائش سے پہلے، ان کے غیر متزلزل ایمان کا امتحان اس وقت لیا گیا جب نمرود نے ایک دہکتا ہوا الاؤ تیار کر کے انہیں اس میں جھونک دیا۔ مگر اللہ کے ساتھ ابراہیم ؑ کی بے لوث محبت اور یقینِ کامل نے اس ہولناک آگ کو ایک ٹھنڈے اور پرسکون گلزار میں تبدیل کر دیا۔ عقلِ انسانی پر عشقِ الٰہی کی اسی فتح کو علامہ اقبال نے یوں بیان کیا کہ
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب و بام ابھی
خواہ وہ آتشِ نمرود کا جرأت مندانہ سامنا ہو، 86 برس کی طویل عمر تک اولاد کے لیے تڑپنا ہو، یا پھر حکمِ الٰہی ملتے ہی اپنی زوجہ مطہرہ حضرت ہاجرہؑ اور شیر خوار اسماعیل ؑ کو مکہ کے بے آب و گیاہ صحرا میں تنہا چھوڑنا ہو ابراہیم علیہ السلام کے قدم کبھی نہیں ڈگمگائے۔ اسی تپتے ہوئے صحرا میں جب معصوم اسماعیل ؑ نے پیاس کی شدت سے اپنی ایڑیاں رگڑیں، تو زمین کے سینے سے ایک معجزاتی چشمہ پھوٹ پڑا۔ یہ وہی مقدس چشمہ ہے جسے حضرت ہاجرہؑ نے خطرے کے پیشِ نظر ‘زم زم (رک جا، رک جا) کہہ کر روکا، اور جو آج تک پوری کائنات کے لیے رحمتِ خداوندی اور چشمۂ شفاء بن کر بہہ رہا ہے۔
عید الاضحیٰ کی سچی قربانی ہمیں صرف ایک جانور کے گلے پر چھری پھیرنے کا درس نہیں دیتی، بلکہ ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم رضائے الٰہی کے حصول کے لیے اپنی انا، اپنے رتبے، اپنی دولت اور اپنی نفسانی خواہشات کو ذبح کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔ جب بندہ اس مقامِ تسلیم پر پہنچتا ہے، تب ہی اللہ تعالیٰ اسے اپنی عظیم ترین برکات سے نوازتا ہے اور دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی ابدی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ دعا ہے کہ عیدالاضحیٰ ہمارے لیے ہدایت، مخلص بیداری اور راہِ نجات کا ذریعہ بنے۔ اللہ رب العزت ہماری قربانیاں قبول فرمائے، ہماری نیتوں کو ہر قسم کے دکھاوے سے پاک اور خالص کر دےاور ہم پر، ہمارے اہل خانہ پر اور تمام امتِ مسلمہ پر اپنی رحمتوں، نعمتوں اور برکتوں کی لاامتناہی بارش نازل فرمائے۔
[email protected]