یواین آئی
کیف// ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ “حساس مسائل’’ پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے تقریباً چار سال بعد اب مذاکرات کار ایک امن منصوبے کے حتمی مسودے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔زیلنسکی نے ایک بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور یوکرین کے مذاکرات کار کئی نکات پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں جس کا مقصد جنگ کو ختم کرنا ہے لیکن یوکرین کے مشرقی صنعتی مرکز کے علاقائی کنٹرول سمیت مسائل حل نہیں ہوئے۔یوکرائنی رہنما نے بدھ کو اپنے دفتر سے جاری کیے گئے تبصروں میں کہا کہ ہم حساس مسائل کو حل کرنے کے لیے رہنماؤں کی سطح پر امریکا کے ساتھ ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ علاقائی سوالات جیسے معاملات پر رہنماؤں کی سطح پر بات چیت کی جانی چاہیے۔زیلنسکی کی بریفنگ امریکی ریاست فلوریڈا میں 20 نکاتی منصوبے پر میراتھن مذاکرات کے بعد ہوئی جب روس نے تازہ ترین مسودے کا جائزہ لیا۔ کریملن نے بدھ کے روز کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوتن کو ایلچی کرل دمتریف نے بریفنگ دی تھی اور ماسکو اس کا جواب تیار کر رہا ہے۔کیف واشنگٹن پر ٹرمپ کے امن منصوبے میں ترمیم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جس پر ابتدائی طور پر کریملن کی خواہش کی فہرست کے طور پر تنقید کی گئی تھی جس میں یوکرین کے مزید علاقے دینے، اپنی افواج پر پابندیاں قبول کرنے اور نیٹو کے فوجی اتحاد میں شامل ہونے سے دستبردار ہونے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔