ڈوڈہ+کشتواڑ //وادی چناب کے میدانی علاقوں میں تیسرے روز بھی مسلسل بارش و بالائی دیہاتوں میں ہلکی برفباری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئی. موسلا دھار بارشوں، ژالہ باری و ہلکی برفباری کی وجہ سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس کے باعث خطہ میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈوڈہ بٹوت ،بھدرواہ ،ٹھاٹھری و گندوہ بھلیسہ کی شاہراہوں پر اگر چہ ٹریفک وقفہ وقفہ سے جاری رہا تاہم اندرونی دیہات کی رابطہ سڑکوں پر بھاری پھسلن و دلدل پیدا ہونے سے ٹریفک نظام معطل رہا۔ بارشوں کے نتیجے میں درجنوں دیہات میں پانی و بجلی کی سپلائی متاثر رہی جبکہ ندی و نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا۔تازہ اطلاعات کے مطابق دیسہ، گندنہ، چرالہ ،بھدرواہ و بھلیسہ گندوہ کے بالائی علاقوں میں منگل کے روز تازہ برف ریکارڈ کی گئی۔کشمیر عظمیٰ سے کئی لوگوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل بارشوں کی وجہ سے رابطہ سڑکیں زیر آب ہو گئیں ہیں۔ڈی ڈی سی ممبر کاہرہ معراج ملک کی قیادت میں وفد نے کہا کہ ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ سمیت متعدد علاقوں کو جوڑنے والی رابطہ سڑکوں پر نکاسی نظام کی عدم دستیابی سے پانی سڑکوں کا رخ اختیار کرتا ہے جس سے بھاری پھسلن پیدا ہوتی ہے اور سڑک حادثات کا سبب بن جاتا ہے۔انہوں نے حکام سے تعمیراتی ایجنسیوں کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ادھرضلع کشتواڑ کے بالائی و میدانی علاقوں میں اتوارکو شروع ہوئی برفباری و بارشوں کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا جسکے سبب قصبہ و گردنواح کے علا قوں کی متعدد سڑکیں زیرآب آئیں ۔جہاں میدانی علاقوں میں رات بھر بارشوں کا سلسلہ تھم گیا لیکن صبح ہوتے ہی دوبارہ بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جبکہ بعد دوپہرژالہ باری بھی ہوئی وہی بالائی علاقوں میں کئی انچ برفباری بھی ہوئی۔ضلع کے بالائی علاقوں مڑواہ،واڑون، مچیل، کیشوان مرگن، سنتھن ٹاپ پر کئی انچ برف جمع ہوئی ہے جسکے سبب بالائی علاقوں میں زندگی بسر کررہی عوام کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ بجلی کی آنکھ مچولی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا۔متعدد علاقوں سے لوگوں نے دوسرے روز بھی کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آج بھی بجلی غایب رہی۔ میدانی علاقوں میں بھی دن بھر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جسکے سبب لوگوں نے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی۔ قصبہ کے گلی کوچوں میں مسلسل بارشوں کے سبب نالیوں کا گندہ پانی جمع ہوگیا جسکے سبب لوگوں کا چلنا مشکل ہوا۔ دیہی ترقی دفتر کشتواڑ کے باہر پانی نے تالاب کی شکل اختیار کی جبکہ ڈاک بنگلہ چوک کے قریب نالیوں کی گندگی سڑک پر پھیل گئی جسکے بعد اسے ہٹانے کیلئے مشینوںکا استعمال کیا گیا۔قصبہ کے سبھی وارڈوں کی حالت اسی طرح ہے جہاں جگہ جگہ گندے پانی و گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔
اتر بہانی دیوک پل کے ستون ڈھہ جانے کا معاملہ | 10سال بعد سابق ڈپٹی جنرل منیجر و جنرل منیجر کیخلاف فرد جرم دائر
جموں// اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے اس وقت کے ڈپٹی جنرل منیجر ہرکیوال سنگھ اور اس وقت کے منیجر جے کے پی سی سی دلیپ ٹھسو کے خلاف جموں کے اتر بہانی میں دیوک پل کے 17 ستون گرنے کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔عہدیداروں کے مطابق اے سی بی نے مختلف دفعات کے تحت خصوصی جج اینٹی کرپشن جموں کی عدالت میںہرکیول سنگھ سابق ڈپٹی جنرل منیجر اورسابق جنرل منیجر جے کے پی سی سی دلیپ ٹھسوکے خلاف چارج شیٹ پیش کی ۔فوری مقدمہ ناقص ڈیزائن اور ناقص ارتکاز کام کی وجہ سے اتر بہانی میں دیوک 151 میٹر اسپین پل کے 17 ستون گرنے کے الزامات کی تحقیقات کے لئے ویجی لنس آرگنائزیشن (اب اے سی بی) کے ذریعہ کروائی گئی تصدیق کے نتائج پر درج کیا گیا تھا۔ تصدیق سے پتا چلتا ہے کہ پل کو مکمل ہونے کے 5 سال بعد ہی 11 اور 12 اگست 2011 کو شدید بارش کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا۔‘تصدیق سے مزید پتہ چلتا ہے کہ یہ پْل جے کے پی سی سی کی منظور شدہ شرح پر ایجنسی میسرز اے کے کنسٹرکشن نے تعمیر کیا تھا۔ آر اینڈ بی ڈیپارٹمنٹ نے جے کے پی سی سی کو ڈیزائن ڈائریکٹوریٹ سے بغیر کسی جانچ / پروف چیک کے پیشگی کام شروع کرنے کا اختیار دیا تھا۔ کوئی انتظامی منظوری اور پیہدیداروں کے مطابق ، کام شروع کرنے سے پہلے دوبارہ مطلوبہ تکنیکی منظوری حاصل کرلی گئی تھی۔اسپاٹ معائنہ اور ریکارڈوں کی جانچ پڑتال سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پل کی تعمیر میں ، تفتیش کی بنیادی اور لازمی ضرورت یعنی برج فاؤنڈیشن انویسٹی گیشن ، (ایف بی آئی) ہائیڈروولوجی ، سب مٹی کی تلاش ، مٹی کی قوت برداشت اور ندی کے خارج ہونے سے قبل مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ ملزم دلیپ ٹھسو اس وقت کے جنرل منیجر جے کے پی سی سی اور اس وقت کے ڈپٹی جنرل منیجر جے کے پی سی سی یونٹ چہارم ہر کیول سنگھ کے درمیان مجرمانہ سازش رچی گئی تھی۔اس کے نتیجے میں اس منصوبے اور پل کی تعمیر کا کام ڈیزائن ڈائرکٹوریٹ ، جموں سے پہلے جانچنے کے بغیر کیا گیا تھا۔ اس پر عمل درآمد سے قبل تکنیکی پہلوؤں کو نظرانداز کیا گیا تھا جس کی وجہ سے پل کی ناکامی ہوئی تھی۔اس طرح کے پل کی تعمیر کا مشق بیکار پایا گیا۔ اس مقصد کو پورا کرنے میں ناکام رہا اس طرح پورے اخراجات کو فضول خرچی قرار دے کر سرکاری خزانے کو اسی طرح کا نقصان پہنچا۔ سماعت کی اگلی تاریخ 9 اپریل 2021 ء کو مقرر کی گئی ہے۔