فکر انگیز
سید مصطفیٰ احمد
آج تعلیم حاصل کرنے کا مطلب محض کتابی علم نہیں رہ گیا ہے، بلکہ یہ ایک ایسی ذہنی جنگ بن چکی ہے، جہاں ہر روز نوجوان طلباء اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مسابقتی امتحانات کی اس دوڑ میں کامیابی تو بہت کم کو ملتی ہے، لیکن ذہنی تناؤ اور بے چینی ہر طالب علم کا مقدر بنتی جا رہی ہے۔کچھ عرصہ قبل روزنامہ کشمیر عظمیٰ میں ہی میں نے ہندوستان کے موقر رسالے فرنٹ لائن کا حوالہ دیتے ہوئے راجستھان کے کوٹہ شہر میں NEET اور JEE جیسے مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلباء کی بگڑتی ہوئی ذہنی صحت پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی۔ فرنٹ لائن کی اس رپورٹ نے خبردار کیا تھا کہ اگر جلد اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔آج وہ انتباہ ایک دردناک حقیقت بن چکا ہے۔ 30 جنوری 2024 بروز منگل کو کوٹہ شہر میں ایک اور طالبہ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ مذکورہ طالبہ JEE (جوائنٹ انٹرنس ایگزامینیشن) کی تیاری کر رہی تھی، لیکن انجینئرنگ کی راہوں نے اس کے خوابوں کے پر پرواز سے پہلے ہی توڑ دیئے۔ وہ مسکراتا ہوا چہرہ، وہ کاپیوں میں بکھرے خوبصورت خواب، وہ ماں باپ کی آنکھوں میں خوشی دیکھنے کی تڑپ، سب کچھ یادوں کی دھند میں گم ہو کر رہ گیا۔
یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر دستیاب غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں روزانہ اوسطاً 25 سے 32 طلباء خودکشی جیسے سنگین قدم اٹھا لیتے ہیں، جو کسی بھی تہذیب یافتہ معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔یہ طالبہ اس بے رحم نظام کی شکار ہوئی، جہاں ایک نوجوان کو انسان نہیں بلکہ نمبروں کی مشین سمجھا جاتا ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں کامیابی کا مطلب صرف دوسروں کو پیچھے چھوڑنا ہے، اور ناکامی کا مطلب معاشرتی موت۔ فرانز کافکا کے ناول ‘دی میٹامورفوسس کی طرح، جہاں ایک قیمتی انسان اچانک ایک بے وقعت کیڑے میں تبدیل ہو جاتا ہے، یہاں بھی ناکام طالب علم کو اسی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
والدین کا کردار اور سماجی ذمہ داری :
سوال یہ ہے کہ آخر یہ ذہنی دباؤ اتنا مہلک کیوں ہو جاتا ہے؟ اس کی جڑیں صرف تعلیمی نظام میں نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں میں بھی پیوست ہیں۔ ایک طالب علم کے ذہن میں یہ خوف گھر کر جاتا ہے کہ اگر وہ ناکام ہوا تو رشتہ دار کیا کہیں گے، پڑوسی کیا سوچیں گے اور ان کامیاب ساتھیوں کو کیا منہ دکھائے گا جنہوں نے کسی طرح اپنا مقصد حاصل کر لیا۔یہ وہ زہر آلود پانی ہے جہاں پیاس بھی موت ہے اور پانی پینا بھی موت۔ اس المیے میں سب سے اہم کردار والدین کا بھی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنی محنت، قربانیوں اور مشکلات کا طعنہ دے کر بچوں پر جذباتی دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔ اپنے ہاتھوں کے چھالے دکھانا، پھٹے پرانے کپڑوں کی نمائش، گھر کی مجبوریوں کا رونا، بہنوں کی شادی کا بوجھ ایک معصوم بچے کے کندھوں پر ڈالنا—یہ وہ بیہودہ حرکات ہیں جو ایک طالب علم کی روح کو چھلنی کر دیتی ہیں۔
ضرورت ہے حقیقی اقدامات کی :
اب وہی سوال پھر سے کھڑا ہوتاہے، اس صورتحال سے کیسے نمٹا جائے؟ محض تقریروں اور نصائح سے کچھ نہیں ہوگا، ضرورت ہے ٹھوس اقدامات کی:
(۱)نصاب میں توازن: تعلیم کا مقصد صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننا نہیں ہونا چاہیے۔ طلباء کو ان کی دلچسپی کے شعبوں میں پڑھنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔
(۲)والدین کی ذمہ داری: والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے ان کی مرضی جاننے کی کوشش کریں۔ ‘Father to Son’ جیسی نظمیں اس خلا کو واضح کرتی ہیں جو والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتا جا رہا ہے۔
(۳)تعلیمی اداروں کا کردار: اسکولوں اور کوچنگ سینٹرز میں صرف پوزیشن لانے والوں کو ہی نہیں بلکہ کمزور طلباء کو بھی عزت دی جانی چاہیے۔ مذاق اڑانے اور طعنے دینے کا کلچر ختم کرنا ہوگا۔
(۴) ذہنی صحت: ہر تعلیمی ادارے میں باقاعدہ کونسلنگ سیشنز لازمی کیے جائیں تاکہ طلباء اپنی پریشانیاں کھل کر بیان کر سکیں۔
حکومت سے بھی گزارش ہے کہ وہ تعلیم کو محنت مزدوری کا موضوع نہ بننے دے، بلکہ اسے ایک عبادت کی طرح روشن خیال بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ورنہ آنے والے کل میں ایسی اور قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہیں گی، اور ہم صرف تماشائی بن کر دیکھتے رہ جائیں گے۔
��