ڈاکٹر زبیر سلیم
ایک مریض نے حال ہی میں اپنی رپورٹس دکھائیں جن میں HbA1c اور جگر کے انزائمز معمولی حد تک بڑھے ہوئے تھے۔ ان نتائج کے بارڈر لائن ہونے کی وجہ سے میں نے دوا کی مقدار بڑھانے سے پہلے منظم طرزِ زندگی میں تبدیلی کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا۔
کلینیکل پریکٹس میں ایک عام اور اکثر غلط سمجھی جانے والی صورتحال یہ ہے کہ ایک بزرگ مریض ایسی رپورٹ کے ساتھ آتا ہے جس میں HbA1c تھوڑا بڑھا ہوا، جگر کے انزائمز معمولی بلند، یا گردوں کے فنکشن ٹیسٹ (KFTs) بارڈر لائن ہوتے ہیں۔ فوری ردعمل مریضوں اور بعض اوقات اہلِ خانہ کی طرف سےپریشانی کا ہوتا ہے:’’کوئی مسئلہ ہے‘‘۔
عام طور پر یہ نمبرز خطرے کی گھنٹی نہیں بلکہ ابتدائی سرگوشیاں ہوتے ہیں۔
بزرگوں میں جسمانی نظام راتوں رات تبدیل نہیں ہوتا۔ دائمی بیماریاں اچانک ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں، اور اکثر علامات ظاہر ہونے سے بہت پہلے معمولی بایو کیمیکل تبدیلیوں کے ذریعے اپنا اشارہ دیتی ہیں۔ہلکا سا بڑھا ہوا HbA1c لازماً ذیابیطس یا بے قابو ذیابیطس نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ جگر کے انزائمز کا معمولی بڑھنا لازماً جگر کی خرابی نہیں بلکہ میٹابولک دباؤ کی علامت ہو سکتا ہے۔ گردوں میں ابتدائی تبدیلیاں گردوں کی ناکامی نہیں بلکہ اصلاح کا اشارہ ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں جدید جیریاٹرک کیئر کو ردِعمل کے بجائے روک تھام پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
اصل نسخہ: طرزِ زندگی بطور دوا
اگرچہ ادویات اپنی جگہ اہم ہیں اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ان میں تبدیلی نہیں کرنی چاہیے، لیکن اس مرحلے پر سب سے مؤثر قدم طرزِ زندگی میں منظم، باقاعدہ اور مستقل تبدیلی ہے۔
1 حرکت ہی دوا ہے (اختیاری نہیں)
بزرگوں کےلئے ورزش کا مقصد شدت نہیں بلکہ تسلسل اور مناسبیت ہے۔
● روزانہ 30منٹ چہل قدمی (اسے 10 منٹ کے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے)
● ہفتے میں 2سے 3 بار ہلکی طاقت کی ورزش (ہلکے وزن، ریزسٹنس بینڈ یا جسمانی وزن کے ساتھ)
● توازن کی مشقیں (گرنے سے بچاؤ کے لئے)
● لچک برقرار رکھنے کے لئے ہلکی سٹریچنگ
● عبادات اور مراقبہ
یہ سادہ سرگرمیاں انسولین کی حساسیت، جگر کے میٹابولزم اور گردوں کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں، حرکت جسم کی اندرونی کیمسٹری کو متوازن کرنے میں مدد دیتی ہے۔
2 خوراک صرف کیلوریز نہیں،یہ کیمسٹری ہے
جیسے نباتاتی پروٹین جسم کو مجموعی طور پر فائدہ دیتے ہیں، ویسے ہی بزرگوں کی غذا میں مقدار کے بجائے معیار اور افادیت اہم ہونی چاہیے۔
● گھر کا پکا ہوا متوازن کھانا ترجیح دیں، سفید گوشت اور انڈے کی سفیدی استعمال کریں
● نباتاتی پروٹین (دالیں، پھلیاں، میوے، بیج) بڑھائیں۔
● تازہ سبزیاں اور موسمی پھل شامل کریں
● چینی، نمک، تیل، میدہ، چاول اور پراسیسڈ غذاؤں کو کم کریں
● مناسب مقدار میں پانی پئیں
● سگریٹ نوشی اورشراب نوشیسے مکمل پرہیز کریں
اس تناظر میں خوراک صرف غذائیت نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے جو خون میں شکر کو متوازن کرنے، جگر کی صحت بہتر بنانے اور گردوں کی حفاظت میں مدد دیتا ہے۔
3 کمال نہیں، نظم و ضبط اہم ہے
مقصد سخت پابندیاں نہیں بلکہ پائیدار اعتدال ہے۔ اچانک سخت ڈائٹ یا ضرورت سے زیادہ ورزش بزرگوں کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ کامیابی کا راز روزمرہ کے معمول میں ہے—مقررہ اوقات پر کھانا، مناسب نیند اور منظم طرزِ زندگی۔
4 سوچ میں تبدیلی
سب سے بڑا چیلنج نفسیاتی ہوتا ہے۔ بزرگ اکثر سمجھتے ہیں کہ کسی بھی غیر معمولی رپورٹ کا مطلب لازمی زوال ہے،لیکن یہ درست نہیں۔
ہلکی سی غیر معمولی رپورٹ دراصل اس بات کا اشارہ ہوتی ہے کہ جسم کو مدد کی ضرورت ہے، نہ کہ یہ شکست کا اعلان ہے۔رحقیقت، یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں بہت سی دائمی بیماریوں کو واپس پلٹا یا قابو کیا جا سکتا ہے۔ بروقت طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے بہت سے افراد بغیر سخت طبی علاج کے اپنی رپورٹس کو معمول پر لا سکتے ہیں یا مستحکم رکھ سکتے ہیں۔