بچے ایک عظیم نعمت ہیں۔ ان کی تمنا سب کرتے ہیں یہاں تک کہ انبیاء بھی لیکن بچوں کی تربیت ہمیشہ سے ہی والدین کے لئے ایک آزمائش رہی ہے۔اس آزمائش میں اگر چہ والدین کھرے نہیں اترتے لیکن توقع ضرور کرتے ہیں کہ ان کے بچے بہترین شہری بنیں اور بری عادتوں سے دور رہیں۔ اس ضمن میں والدین کی ذمہ داری اور عملی مشق میں جو کوتاہیاں بچوں کی نشوونما میں رہ جاتی ہیں وہ کبھی پوری نہیں ہوتیں۔بچوں کی تربیت اگر چہ زمانہ قدیم سے ہی والدین کے ذمہ رہی ہے تاہم آج کے مقابلے میں یہ کام نوے کی دہائی تک آسان ہی تھا کیونکہ اس زمانے میں بچوں کی دیکھ ریکھ اتنی مشکل نہیں تھی جتنی آج کے دور میں مشکل ہے۔
آج چونکہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے سو جتنی زیادہ سہولیات پائی جاتی ہیں اتنی زیادہ آزمائشوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔آج کے اس سائنسی اور انٹرنیٹ کے دور میں جہاں دنیا ایک گلوبل گائوں میں سمٹ کر رہ گئی، وہیں مختلف العنوان کے جرائم تک بھی پہنچ آسان ہوگئی۔موبائل فون کے استعمال نے والدین کے دل و دماغ میں ایک عجیب ڈر پیدا کیا ہے۔بچوں کی ضد کے آگے جھکنا تو والدین کی روایت رہی ہے لیکن موبائل فون پر انٹرنیٹ کی رسائی سے جو نت نئے خطرات وجود میں آگئے ہیں، ان سے آج بھی والدین کی ایک بڑی تعداد ناواقف ہے۔وہ بچوں کو موبائل فون چپ رہنے کے لئے تو دیتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ موبائل فون میں موجود مختلف ایپلی کیشنز کو چلاتے وقت ان کے آنکھوں کے تارے کتنے بڑے خطرے میں ہوتے ہیں۔
موبائل کی لت تو ازخود ایک نشہ ہے جو بچوں کے مستقبل پر برا اثر ڈالتی ہے لیکن موبائل فون پر انٹرنیٹ کی مدد سے وہ کبھی کبھار ایسا کھیل کھیلتے ہیں جو جان لیوا ہوتے ہیں اور مضر صحت بھی۔ایسے حالات میں وہ والدین جو دنیا کی کالی سمت سے ناواقف ہیں کریں تو کیا کریں۔یو ٹیوب اور پورن سائٹس نے تو اخلاقیات کا جنازہ نکال ہی لیا ہے لیکن بچوں کی روحانی اقدار بھی اس قدر میلے کئے ہیں کہ اب بھائی بہن کا پاک رشتہ بھی زوال پذیر ہو رہا ہے۔فیس بک نے تو ہر ایک کو غلام بنا کر رکھ دیا ہے اور اس پر پھیلایا جارہا زہر اس قدر مؤثر ہے کہ کوئی ماہر نفسیات بھی سود مند ثابت نہیں ہوتا۔بچے ڈپریشن کے شکار ہورہے ہیں اور اگر والدین نے روکنے یا ٹوکنے کی کوشش کی تو خودکشی تک کے قدم اٹھاتے ہیں۔اس کو کہتے ہیں آگے کنواں پیچھے کھائی۔نہ ڈانٹ سکتے ہیں اور نہ ہی شاباشی دے سکتے ہیں۔پہلے والدین بچوں کو غلط صحبت سے دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے لیکن اب ان کے گھر میں ہی غلط صحبت پنپتی ہے اور بچے اسی صحبت میں پرورش پاتے ہیں۔
والدین خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں اور خود ہی اس کے خلاف۔غلطی سدھارنے کے لئے والدین بچوں کی تضحیک کرتے ہیںجو کہ سراسر ناانصافی ہے۔کیونکہ بچے کی توہین، تضحیک اور تذلیل بچے کی شخصیت کو تباہ کردیتی ہے۔ جن والدین کو اپنی اولاد سے پیار ہے، انہیں چاہئے کہ اپنے بچوں کے احترام کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں۔ کیونکہ بچہ بھی مکمل انسان ہے اور ہر انسان کو اپنے آپ سے محبت ہوتی ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے اس کی قدر کریں۔ اس کے احساسات کا خیال رکھیں۔ اس کو وہ اپنی قدردانی سمجھتا ہے۔ بچے کے وجود کو اہمیت دینا اس کی تربیت میں سے ایک اہم عمل ہے۔ جن بچوں کو احترام میسر ہو وہ نیک سیرت اور شریف بنتے ہیں اور اپنے مقام کی حفاظت کے لئے برے کاموں سے بچتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اچھے کام کرکے دوسروں کی نظر میں اپنا اہم مقام بنائیں۔ جن بچوں کے والدین ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں بچے بھی ان کی تقلید کرتے ہیں۔ بصورت دیگر جن بچوں کے والدین اپنے بچوں کی توہین و تحقیر کرتے ہیں بچوں کے دل میں ان کے خلاف کینہ پیدا ہوجاتا ہے جس سے وہ جلد اور بدیر سرکش اور نافرمان ہوجاتے ہیں مگر بدقسمتی سے بہت سے ایسے والدین ہیں جو بچے کے احترام کو تربیت کے منافی سمجھتے ہیں۔ اگر انہوں نے بچوں کا احترام کیا تو وہ بگڑ جائیں گے اور ان کا احترام نہیں کریں گے۔ دراصل وہ بچے کی شخصیت کو کچل دیتے ہیں اور ان کے دل میں احساس کمتری پید اکردیتے ہیں جو کہ بہت بڑا نقصان ہے۔لہٰذا تربیت کے ابتدائی ادارے یعنی گھر کو بچوں کی جنت بنائیں نہ کہ جہنم۔ گاڑی میں ان کے لئے مخصوص جگہ رکھنی چاہیے ،محفل میں انہیں بات کرنے کا سلیقہ سکھایا جائے اور بات چیت میں ان سے مودبانہ سلوک کیا جائیے۔ ان کے لئے شکریہ اور اللہ حافظ جیسے الفاظ استعمال کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کی عزت کرو اور ان کی اچھی تربیت کرو تاکہ اللہ تمہیں بخش دے۔
منشیات اور دوسری مضر صحت ادویات تک آسان رسائی نے تو آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔ابھی بلوغیت کی عمر کی ابتدا ہی ہوتی ہے کہ ایک نئی لت کی شروعات ہوتی ہے۔یہ دھندا کب، کیسے اور کون شروع کرتا ہے، معلوم ہی نہیں ہوتا اور والدین پر ایک اور آفت آجاتی ہے۔اب وہ کیا کریں ،بچوں کی نشوونما یا ان کی حفاظت؟۔نہ روک سکتے ہیں اور نہ ہی ٹوک سکتے ہیں۔کیونکہ آج کے بچے خطرناک سے خطرناک قدم اٹھاتے ہیں اور پھر والدین کو ہمیشہ کے لیے ایک افسوس رہتا ہے کہ کاش کچھ نہیں کہا ہوتا۔
یہاں ایک صالح معاشرے کی یاد آتی ہے۔یہاں ایک سخت قانونی نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ صاف ستھرا قانونی نفاذ ہی ایسے دھندوں پر قدغن لگا سکتا ہے اور ایماندار لوگوں کی مدد سے ہی ایسا ممکن ہوجاتا ہے۔آنکھیں بند کرنے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ آگے آنے سے ہی معاملے سلجھ جاتے ہیں۔اس لئے بحیثیت والدین ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ بچوں کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے سماج کا بھی خیال رکھیں اور ایسے کاروبارکو پنپنے نہ دیں جو ہماری نوجوان نسل کو جھنجھوڑ کے رکھ دیتی ہے۔نشے کی لت سگریٹ سے شروع ہوتی ہے تو ضروری ہے کہ ہم خود بھی اسے پرہیز کریں اور بچوں کو بھی اس سے دور رکھیں اور ساتھ ساتھ قانون کی پاسداری بھی کریں۔قانونی طور پر سکولوں کے احاطے میں سگریٹ بیچنا منع ہے لیکن ہماری لاپرواہی دیکھئے کہ سکولوں کے آنگن میں سگریٹ بیچے جاتے ہیں اور ہم جان کر بھی انجان بنتے ہیں، کبھی شکایت نہیں کرتے یا قانونی مدد نہیں لیتے۔یہ اندیکھاپن ہمارے بچوں کے مستقبل کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ خیال رہے بچوں کے ہاتھ سگریٹ منگوانا بھی ایک بڑی غلطی ہے۔ اس سے پرہیز کرنی چاہئے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے۔بچے معصوم ہوتے ہیں ۔ان کی تربیت قدرتی ماحول میں ہی ہونی چاہیے۔بچے کو کھیلنے کے لئے تماشے دو ،موبائل نہیں۔آجکل کے زمانے میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس کھلونے جو بچوں کی ذہانت اور ادراک میں اضافہ کرتے ہیں بازاروں میں مہیا ہیں۔بچے کو کھلونے توڑنے اور جوڑنے دو۔اسے ان میں تخلیقیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور وہ نئے نئے اصول مرتب کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ان کی دماغی نشوونما موزوں طریقے سے ہوتی ہے اور ان کی صلاحیتوں میں نکھار آتا ہے۔اسی طرح جب بچے سمجھدار ہونے لگیں تو ان کے ساتھ وقت گزاریں اور کھیلیں کودیں اور ان کو کھیل کود کی طرف راغب کریں۔ان کی حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کریں۔غلط صحبت میں نہ پڑنے دیں اور جہاں تک ہوسکے ،اخلاقی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔
کبھی کبھار بچے ڈپریشن کے شکار ہوجاتے ہیں اور وہ مختلف قسم کی عجیب وغریب حرکتیں کرتے ہیں۔ایسے میں بچوں کو فوراً ماہر نفسیات کے پاس لے جائیں اور بروقت علاج کرائیں۔ذہین بچوں میں ذہنی تناؤ زیادہ ہوتا ہے۔ان پر مختلف قسم کے دباؤ نہ ڈالیں یا اپنی مرضی نہ ٹھونسیں بلکہ ان کی بھی سنیں اگر چہ وہ غلط بات ہی کہہ دیں۔پیار سے سمجھائیں کیونکہ پیار سے بڑا کوئی پیر فقیر نہیں اور پیار سے بڑی کوئی دوائی نہیں۔
جموں وکشمیر میں بچوں کی تربیت واقعی ایک بڑا چیلنج ہے۔یہاں جوں جوں بچے بڑے ہوجاتے ہیں خاص کر کہ بیٹے پریشانیاں بڑ جاتی ہیں کیونکہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب ،کون کس کے کہنے پر جان لیوا قدم اٹھائے۔بہتر ہوتا اگر گورنمنٹ کونسلنگ کو سکول کا ایک اہم حصہ بنائے اور بچوں کی کونسلنگ ہر وقت ممکن بنائے۔کونسلنگ کی مثال ہائی وے کے ان signs Roadکی طرح ہے جوبتاتے ہیں کہ کہاں خطرناک موڑآرہا ہے اور کہاں سپیڈ بریکر۔ جو ڈرائیور ان سائنوں کو نظرانداز کرتا ہے، سب کو معلوم ہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ یہ کونسلنگ کرنے کے لئے کسی ڈگری یا ڈپلوما کی ضرورت نہیں۔ ہر وہ شخص جس میں بولنے کی اچھی صلاحیت ہو، نبی کریمؐ اور صحابہؓ کی ازوواجی زندگی کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ نفسیات کا بھی مطالعہ رکھتا ہو،کونسلنگ کرسکتا ہے۔
الغرض آج کل کے بچے جتنے زیادہ زہین ہیں اتنے ہی زیادہ حساس بھی۔گھریلو ماحول کو مد نظر رکھ کر اپنی دنیا قائم کرتے ہیں اور اپنی شخصیت کو پروان چڑھاتے ہیں۔لہٰذا گھروں کے ساتھ ساتھ سماج کا برائیوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔بچے جنت کے پھول ہیں، انھیں پھولوں کی طرح ہی پالیں اور مہکنے دیں۔ٹیکنالوجی کے مثبت پہلوؤں کو فروغ دیں اور منفی پہلوؤں کو ان سے دور رکھیں۔
رابطہ۔قصبہ کھُل ،کولگام کشمیر
ای میل۔[email protected]