امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی کے جمہوری مرکزیا دل ’کیپٹل ہل' میں جوکچھ ہوا ،وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے ،دنیا بھر میں 'نیو ورلڈ آرڈر' کو نافذ کرنے کے دعویٰ کرنے والے ملک میں سب سے بڑی جمہوریت کے تحت جمہوری نظام کی دھجیاں اڑگئی ہیں ،یہ سب کچھ اور امریکی سیاسی بحران عبرت ناک اور سبق آموز ہیں۔ہمیں اور دنیا کے اْن ممالک کو بھی سبق لینا چاہئے جو مستحکم جمہوریت کا دعویٰ کرتے ہوئے جمہوری اقدار کا غلط استعمال کرتے ہیں اور ڈکٹیٹرشپ کو ہوا دے رہے ہیں۔
مذکورہ واقعہ کا اگر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ امریکہ نے 1960 کے عشرہ میں ویتنام میں فوج کشی اور پھر تیل کے لیے خلیجی ممالک میں گھس پیٹھ کرتا رہا،پھر عراق -کویت تنازع میں عراق،شام، لیبیا، افغانستان،یمن اور الجزائر میں جمہوریت قائم کرنے کے بہانے فوجی قبضہ کرنے اور جنوبی ایشیاء کے ممالک کو جمہوریت طرز پرحکومت کی تشکیل دینے والے امریکہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، یہ ایک ایسا موقعہ ہے کہ ہمیں اْن مظلومین کے چہروں پر مسکراہٹ نظر آرہی ہے جو قدرت کے انتقام سے واقف ہیں۔کیونکہ انہیں لاحاصل جنگ میں جھونک دیاگیا،صرف اور صرف اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیاگیا۔ہم سبھی جانتے ہیں کہ مصر میں جمہوری طریقہ سے منتخب اخوان کی قیادت میں موسی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کرادی گئی،لیبیا میں معمار قذافی کو اقتدار سے بے دخل کرکے بے رحمی سے قتل کروادیا گیا۔افریقی ممالک میں روز بروز یہی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ دنیا میں جمہوریت اور امن وامان قائم کرنے کے بہانے ارباب اقتدار کے اشارے پر سی آئی اے جب چاہے تختہ الٹنے میں دیر نہیں لگاتی ہے۔بلکہ سی آئی اے تو اسی کام پر معمور ہے۔جنوبی ایشیاء میں اندراگاندھی،راجیو گاندھی،ذوالفقار علی بھٹو،جنرل ضیاء الحق،بے نظیر بھٹو،مجیب الرحمن ، جنرل ضیاء الرحمن سمیت متعدد سربراہان مملکت کے قتل کے واقعات ہمیشہ شک وشبہ کے دائرے میں رہے ہیں۔
امریکہ میں 6 جنوری کو کیا ہوا اس کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی سخت ضرورت ہے اوراس واقعہ میں مستقبل کے لیے سبق پوشیدہ ہے۔ دنیا بھر کو جمہوریت اور جمہوری نظام حکومت کی نصیحتیں کرنے والا سْپر پاور خود جمہوری بحران کاشکار ہوچکاہے۔
دراصل پچھلے نومبر 2020ء میں صدارتی انتخابات کے نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیااور دھاندلی کا الزام عائد کرتے رہے۔یہ درست ہے کہ ان کی شکست اور جوبائیڈن کی جیت میں فرق کم ضرور تھا،لیکن ابتداء میں شکوک وشبہات ضرورپیدا ہوئے مگر پھرالزامات کی تکنیکی تحقیقات کے بعدتو عدالتوں اور دیگر جمہوری اداروں نے ٹرمپ کے ووٹوں کی دھوکہ دہی کے دعوؤں کو مسترد کردیا۔ اور یہ ثابت ہوگیا کہ ووٹنگ میں فراڈ کے دعوے مستند نہیں ہیں،لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا سنخی پن اور تیز طرارزبان نے ایک جمہوری نظام کے دعویدار ملک کی عزت واحترام کوخاک میں ملاکررکھ دیاہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ہوس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار کے لیے غنڈہ گردی کانتیجہ ہے،نہیں اس طرح ہم اس بحران کو سطحی بنادیں گے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران بار بار یہ کہتے رہے کہ اگر انتخابات میں شکست ہوئی تو اقتدار چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں پیش آئے گی اور ذرائع ابلاغ بھی مسلسل اس سوال کو پوچھتا رہا۔لیکن کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیاتھا۔اس طرح کی بیان بازی انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے کے بعدوہ دوہراتے رہے اور اپنی شکست کوقبول نہیں کیا۔ بس یہیں سے بحران کا آغاز ہوا۔ ریپبلکن پارٹی کے بیشتر رہنما اور رکن پارلیمنٹ یعنی سینیٹرز ٹرمپ کی ان حرکتوں پر خاموش تماشائی بنے رہے ہیں ، جبکہ کسی بھی جمہوریت کی سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ امیدوارانتخابی ہار کو قبول کرتا ہے اور انتخابات کو آسانی سے جیتنے والوں کو اقتدار منتقل کردیتا ہے۔ یہی جمہوریت کی خصوصیت ہوتی ہے۔اس منتقلی میں ایک قطرہ خون بھی نہیں ٹپکتاہے۔
ٹرمپ کے ذریعہ الیکشن ہارنے کے باوجود بھی اقتدارکو ترک نہ کرنے اور شکست کے بعد بھی اسے قبول نہ کرتے ہوئے اقتدار میں رہنے کے لیے اپنے حامیوں کوتشددپر اکسانااور اس کے ذریعے اقتدار میں رہنے کی کوشش کرنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی جمہوریت سخت سنگین دور سے گزر رہی ہے۔کیونکہ سرعام جمہوریت کو چیلنج کیا جارہاہے۔البتہ حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسے شرپسندوں کوامریکی عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اور اس شرپسندی سے ثابت ہوتا ہے کہ انتخابات میں فریق کی جیت کوتسلیم نہ کرتے ہوئے، اپنی پسند کے قائد کو اقتدار میں رکھنے کے نظریہ والا ایک گروہ امریکہ میں مضبوط ہورہاہے۔ یہ سب امریکی معاشرے میں پولرائزیشن کا نتیجہ ہے۔ٹرمپ نے جونفرت کابیچ بویااس میں اضافہ ہواہے اور اس طرح انہوں نے صدارتی انتخاب جیت لیاتھا، اقتدار میں آنے کے بعدبھی انہوں نے اس پولرائزیشن کو تیز کرنا جاری رکھا اور اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے ہر موقع کو نفرت انگیز بیانات دے کراستعمال کیابلکہ کورونا جیسی وبا کو پولرائز کرتے رہے تھے۔ یہ سب کچھ نفرت پر مبنی تھا۔ اس نفرت کو آگے بڑھاتے ہوئے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر، تارکین وطن کے خلاف محاذ آرائی اور خصوصاً مسلمان تارکین وطن پر پابندی عائد کرنا،سیاہ فام شہریوں اور خواتین سے امتیازی سلوک نے نفرت کو تقویت بخشی تھی۔ایک سیاہ کے پولیس کسٹڈی میں موت نے اس میں مزید اضافہ کردیا۔
امریکہ میں یہ سب کچھ ہوتا رہا اور رپبلکن پارٹی خاموشی سے دیکھتی رہی جس کا خمیازہ بھگتنا پڑرہاہے۔ اقتدار میں رہنے کے لالچ نے ریپبلیکن پارٹی کے بیشتر رہنماؤں کے منہ بند کردیئے ہیں۔کیپٹل ہل کے واقعہ کے بعد امریکی جمہوریت اپنی حیثیت کھو چکی ہے۔یہ سچ ہے کہ امریکہ میں جمہوری ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ وہ اس صورتحال کو سنبھال سکتے ہیں اور امریکی اعتدال پسند جمہوریت کو بچا سکتے ہیں ، لیکن اس کا نقاب اتر گیا ہے۔آج امریکہ ایک معاشرتی اور سیاسی طور پر نفرت زدہ معاشرہ بن گیا ہے اور دنیا کو امریکہ کے ساتھ ساتھ اس کی قیمت بھی چکانا پڑے گی۔ہندوستان کے ارباب اقتدار کو اس سے سبق لینا چاہیے، شاید ہی کوئی اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے کہ ہندوستان بھی سماجی و سیاسی طور پر مکمل طور پرنفرت کا شکار ہوگیا تھا۔ہندومسلمان کے درمیان خلیج بڑھانے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑا جارہا ہے۔ یہ تقسیم صرف ہندو مسلم کی بنیاد پر نہیں ہے ، معاشرتی طور پر ہندوستان پہلے ہی تقسیم ہوچکا ہے، مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی کے رہنماؤں نے مودی کو آلہ کار بنایا اورلوک سبھا اور اسمبلی انتخابات جیتنے کے لئے یہی حربے استعمال کیے۔ فی الحال بی جے پی میں اعتدال پسند رہنماؤں کو بھی نفرت اور بھید بھاؤ کی بنیاد پر انتخابات جیتنے پر اعتراض نہیں ہے۔لیکن مستقبل تاریک ہے۔
ہندوستان میں ان اقتدار کے ٹھیکیداروں نے اعلیٰ اور باوقار اداروں ،عدلیہ ،مرکزی خفیہ اور تحقیقاتی ایجنسیوں پر اپنا اثر ورسوخ بڑھا لیا ہے بلکہ کٹھ پتلی بنالیاگیاہے۔انہوں نے سب سے پہلے ذرائع ابلاغ کو رام کیا ،سرمایہ دار تو پہلے ہی ان کے حامی رہے ہیں۔اور یہ عوام کو کچھ نہیں دینا چاہتے، صرف اور صرف اپنے منافع کے لیے عوام کا خون نچوڑناچاہتے ہیں۔اور ارباب اقتدار کے ذریعے ایسے لوٹ مار کے نظام کو قانونی حیثیت دی جارہی ہے ،جس کے نتیجے میں کسان تحریک دوسرے مہینے میں داخل ہوچکی ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کچھ عرصہ سے نریندر مودی کی کوشش رہی ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے نقش قدم پر چلیں،لیکن امریکی جمہوریت کا بحران واضح اشارہ دے رہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اب لبرل جمہوریت کو برداشت نہیں کررہا ہے اور اس کا کوئی حل نہیں ہے۔ہم تو اس معاملہ میں زیادہ بحران کاشکار ہیں۔ حقیقی جمہوریت کے قیام کے لئے متحد ہوکر ایک ایسا راستہ طے کرنا ہے ،تب ہی ہم نفرت پھیلانے والوں سے نجات پاسکتے ہیں۔