تھنہ منڈی // سب ڈویژن تھنہ منڈی کے سرکاری ہسپتال میں محکمہ صحت کی طرف سے نصب کی گئی الٹراساؤنڈ مشین دھول چاٹ رہی ہے۔ ہسپتال میں الٹراساؤنڈ مشین سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی مشینری بھی غیر فعال ہے جس کے باعث مریضوں کی مشکلات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ تھنہ منڈی میں الٹر سائونڈ مشین کے نصب ہونے کیساتھ ہی انہوں نے سمجھا تھا کہ اب ان کو بنیادی سہولیات مقامی ہسپتال میں ہی دستیاب ہونگی لیکن ان کا خواب ابھی تک پورا نہیں ہوسکا ۔انہوں نے بتایا کہ صرف الٹراساؤنڈ کی خاطر ہر روز تھنہ منڈی سے سینکڑوں مریضوں کو راجوری کا رخ کرنا پڑتا ہے خاص کر حاملہ خواتین کو بہت پریشانی کا سامنا ہے یا تو انھیں ضلع ہسپتال راجوری سے رجوع کرنا پڑتا ہے یا وہ بھاری رقومات کے عوض نجی طور پر الٹراساؤنڈ کروانے پر مجبور ہیں۔ سماجی کارکن اور نوجوان لیڈر انجینئرارشد اعجاز خان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن حالات کی عکاسی مشینوں کی موجودہ صورت حال سے ہو جاتی ہے۔مقامی معززین نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری راکیش کمار شاون اور سی ایم او راجوری سیاپیل کی ہے کہ جلد از جلد الٹراساؤنڈ مشین کو کام میں لانے والے ڈاکٹروں کو تھنہ منڈی ہسپتال میں تعینات کیا جائے۔ علاوہ ازیں پرانی اور زنگ آلود مشینوں کی جگہ نئی مشینوں کی تنصیب کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ یہاں کی غریب عوام اس سے مستفید ہوسکے۔