جموں / / بھارت اور پاکستانی فوجی کمانڈروں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر پونچھ راولا کوٹ کراسنگ پوائنٹ پر فلیگ میٹنگ منعقد ہوئی جس میں فائر بندی معاہدے کو مزید موثر بنانے کے میکانزم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقعہ پر ایک دوسرے کوتحائف بھی دیئے گئے۔بنیادی طور پر میٹنگ کا مقصد ڈی جی ایم اوز کے تعین شدہ اتفاق رائے کے نکات پر عملدرآمد کے لائحہ عمل کاجائزہ لینا تھا۔یاد رہے کہ فروری کے آخری ہفتے میں ہندو پاک ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت ہوئی تھی، جس سے دونوں جانب جمی برف پگھل گئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر 2003 میںفائر بندی کے سمجھوتے پر سختی کیساتھ عملدر آمد کیا جائے۔ اس اہم میٹنگ میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ کسی بھی صورتحال کے بارے میں طرفین ایک دوسرے کیخلاف گولہ باری یا فائرنگ نہیں کریں گے بلکہ ہاٹ لائن پر فوجی کمانڈروں کے درمیان مسئلے کا حل نکالا جائیگا۔فوجی سربراہ مکند نروانے نے بعد کو کہا تھا کہ2003 میں ہوئی فائر بندی پر سختی کیساتھ عمل در آمد کے بعد پچھلے8سال کے دوران پہلی بار ایک ماہ میں کوئی فائرنگ یا گولہ باری نہیں ہوئی ہے۔ادھر دی جی ایم اووز کے مابین ہوئے سمجھوتے کے تناظر میں پاکستان اور بھارت کے مابین جمعہ کی صبح بریگیڈ کمانڈرز کی سطح پر فلیگ میٹنگ راولا کوٹ پونچھ کراسنگ پوائنٹ پرہوئی۔میٹنگ کے دوران 23فروری کو دونوں ملکوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے معاہدے کو عملانے پر اتفاق کرنے بعد پچھلے ایک ماہ سے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ فائر بندی معاہدے پر من و عن عملدر آمد ہونے سے پر امن صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔میٹنگ میں اس بات پر اتفاق پیدا ہوا کہ اسے مزید مستحکم کیا جائے اور کسی بھی نا خوشگوار واقعہ کے حوالے سے کوئی بھی رد عمل ظاہر کرنے سے قبل آپس مین رابطہ قائم کیا جائے۔ فائر بندی پر عملدر آمد کرنے پر طرفین نے ایک دوسرے کے اقدامات کو سراہا۔ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین بریگیڈ کمانڈرز کی سطح کی فلیگ میٹنگ ہوئی، میٹنگ راولا کوٹ پونچھ کراسنگ پوائنٹ پرہوئی، جس کامقصد ڈی جی ایم اوز کے مابین ایل ا و سی پر تعین شدہ اتفاق رائے کے نکات پر عملدرآمد کے لائحہ عمل کاجائزہ لینا تھا۔