۔ 10ویں محرم پر جلوسوں کیلئے روٹ پلان تیار،امدادی کیمپ اور سیکورٹی کا کڑا انتظام
سرینگر// آج یوم عاشورہ مذہبی عقیدت احترام سے منایا جارہا ہے۔ 10ویں محرم الحرام کے سلسلے میں آج سرینگر کے جڈی بل،بوٹہ کدل سے عالمگیری بازاراور میر گنڈ سے بڈگام تک ذوالجناح اور علم شریف کے جلوس نکالے جائیں گے جن میں ہزاروں عزاداروں کی شرکت متوقع ہے۔عمومی طور پر شہر سرینگر میں یوم عاشورہ پر شہر کا روایتی جلوس آبی گذر سے نکلتا تھا لیکن 1990کے بعد اسکی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔8ویں محرم پر روایتی جلوس چوٹہ بازار سے ڈلگیٹ تک نکالا گیا جو پچھلے چار سال سے روایتی راستے سے نکالنے کی اجازت دی گئی ہے۔9ویں محرم پر جمعرات کومیر بحری، حسن آباد اور ڈل کے اندرونی علاقوں میں روایتی جلوس نکالے گئے۔ میر بحری میں سینک عزادار چھوٹی کشتیوں میں نوحہ خوانی کررہے تھے۔یوم عاشورہ کے موقعہ پر مختلف رضاکار انجمنوں،سرکاری اداروں اور دیگر گروپوں کی جانب سے جلوس کے راستے میں جگہ جگہ عارضی کیمپ لگائے گئے ہیں، جن میں عزاداروں کیلئے پینے کے پانی اور شربت کا انتظام کیا گیا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے کئی مقامات پر فوری طبی امداد دینے کیلئے کیمپ لگائے گئے ہیں جہاں محکمہ صحت کے عملے کو ضروری سامان کیساتھ تعینات کیا گیا ہے۔یوم عاشورہ پر شہر کے پائین علاقوں میں سیکورٹی کے انتظامات سخت کئے گئے ہیں اورسرینگر ٹریفک پولیس نے ایک ٹریفک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے جس میں 10 محرم کو یوم عاشورہ کے جلوس کے ہموار انعقاد کو آسان بنانے کے لیے شہر کے کئی حصوں میںر پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق مرکزی ذوالجناح کا جلوس بوٹہ کدل سے امام باڑہ جڈی بل تک روانہ ہو گا جس سے جڈی بل اور ملحقہ علاقوں میں گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہو گی۔ یہ ایڈوائزری ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے اور عام لوگوں اور موٹرسائیکلوں کو ہونے والی تکلیف کو کم کرنے کے لیے جاری کی گئی ہے۔مختلف سمتوں سے جڈی بل کی طرف جانے والی ٹریفک کو فردوس سینما، مل سٹاپ، لال بازار اور بوٹا کدل پر موڑ دیا جائے گا۔حول روڈ کی طرف جانے والے موٹرسائیکلوں کو فردوس سینما سے دائیں مڑ کر سازگری پورہ کے راستے عالی مسجد کی طرف بڑھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔کرن نگر اور نالہ مار سے صورہ کی طرف آنے والی گاڑیوں کو صرف علی جان روڈ کے راستے جانے کی اجازت ہوگی۔ عالی مسجد میں سازگری پورہ کی طرف دائیں مڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔کلائی اندر سے آنے والی ٹریفک کو فردوس سینما کے راستے جڈی بل کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے، گاڑی چلانے والوں کو فردوس سنیما سے سازگری پورہ یا نوہٹہ کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ صورہ سے آنے والی گاڑیوں کو نالہ بل سے جڈی بل کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نالہ بل اور نوشہرہ میں موٹرسائیکل سواروں کو زونی مرریا اونتہ بھون روڈ کا راستہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔لال بازار سے ٹریفک کو بوٹہ کدل کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایسے گاڑی چلانے والوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صورہ اور دیگر مقامات تک پہنچنے کے لیے ملا باغ کے راستے یا اندرونی سڑکوں کو اختیار کریں۔ٹریفک پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان علاقوں کی طرف غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں جہاں یوم عاشورہ کا جلوس نکالا جائے گا تاکہ تکلیف سے بچا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر کا پیغام
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے محرم کے 10ویں دن عاشورہ کے موقع پر حضرت امام حسین ؑکی قربانیوں کو یاد کیا۔اپنے پیغام میں، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا: “کربلا میں حضرت امام حسین ؑ اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانیاں انسانیت، حق، انصاف اور انسانی وقار کی سربلندی کے لیے لازوال مینار ہیں۔آئیے ہم ان آفاقی نظریات کو اپنانے کا عزم کریں اور ایک پرامن، ترقی پسند اور مساوی معاشرے کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں۔”
وزیراعلیٰ کا شہدائے کربلا کو خراج عقیدت
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حضرت امام حسین ؑ اور شہدائے کربلا کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حق، انصاف اور راستبازی کے لیے ان کی بے مثال قربانیوں کو یاد کیا۔عاشورہ پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ کربلا کا سانحہ جرات، استقامت اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی لازوال علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے اپنے جانثار خاندان کے افراد اور اصحاب کے ساتھ مل کر ایمان، انصاف، ہمدردی اور انسانی عظمت کے اعلی ترین نظریات کو اپنی عظیم قربانی کے ذریعے برقرار رکھا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کربلا کا پیغام زمانہ اور جغرافیہ سے بالاتر ہے، یہ انسانیت کو ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے، اخلاقی اقدار کو برقرار رکھنے اور سچائی اور صداقت کے اصولوں کی حفاظت کرنے کی تحریک دیتا ہے، چاہے وہ چیلنجز سے بالاتر ہو۔انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ شہدائے کربلا کی لازوال اقدار کو اپنائیں اور معاشرے میں امن، ہم آہنگی، باہمی احترام اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔