اظہار خیال
گلفام بارجی
منشیات ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف انسان کی صحت کو تباہ کرتا ہے بلکہ خاندان، معاشرہ اور پوری قوم کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ آج دنیا کے کئی ممالک کی طرح بھارت بھی منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال، اسمگلنگ اور نوجوان نسل میں اس کے رجحان جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے نشہ مکت بھارت ابھیان جیسی اہم اور دور رس مہم شروع کی گئی جس کا مقصد ملک کو منشیات کے خطرناک اثرات سے محفوظ بنانا اور نوجوان نسل کو ایک روشن مستقبل فراہم کرنا ہے۔یہ مہم دراصل صرف ایک سرکاری پروگرام نہیں بلکہ ایک قومی تحریک ہے جس میں حکومت، انتظامیہ، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں، والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما اور عام شہری سب کی شرکت ضروری ہے۔ منشیات کا مسئلہ اتنا آسان نہیں کہ چند دنوں میں ختم ہو جائے کیونکہ یہ بیماری معاشرے کی جڑوں تک پہنچ چکی ہے۔ بے روزگاری، ذہنی دباؤ، بری صحبت، غربت، گھریلو مسائل اور آسان دستیابی جیسے کئی عوامل نوجوانوں کو نشے کی طرف دھکیلتے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 100 دن میں بھارت منشیات سے پاک ہو سکتا ہے؟ حقیقت پسندانہ طور پر دیکھا جائے تو صرف 100 دن میں مکمل طور پر بھارت کو منشیات سے پاک بنانا ممکن نظر نہیں آتا، کیونکہ یہ مسئلہ برسوں پر محیط ہے اور اس کے خاتمے کے لئے مستقل مزاجی، منصوبہ بندی اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ 100 دن میں ایک مضبوط بنیاد رکھی جا سکتی ہے جس کے مثبت نتائج مستقبل میں سامنے آ سکتے ہیں۔اگر ان 100 دنوں میں سنجیدگی کے ساتھ کام کیا جائے تو کئی اہم تبدیلیاں ممکن ہیں۔ سب سے پہلے عوام میں بیداری پیدا کی جا سکتی ہے تاکہ لوگ نشے کے نقصانات کو سمجھ سکیں۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی پروگرام، سیمینار اور آگاہی پر مبنی تقریبات منعقد کی جا سکتی ہیں تاکہ نوجوان نسل کو اس خطرے سے بچایا جا سکے۔ میڈیا، اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے منشیات کے خلاف موثر پیغام عام کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کر سکتے ہیں جس طرح جموں و کشمیر” یوٹی” کی گورنر انتظامیہ نے منشیات فروشوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا ہے ابھی تک انتظامیہ کی جانب جموں و کشمیر میں کئی منشیات فروشوں کی جائیداد یاتو منہدم کی گئی یا پھر قرق کی گئی۔جس کی عوامی حلقوں نے گورنر انتظامیہ بالخصوص یوٹی کے لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا کی خوب تعریف کی اور ان کے اس اقدام کو جائز قانونی کاروائی قرار دیا اور ساتھ ہی امید جتائی کہ مستقبل میں بھی جموں و کشمیر کے طول و عرض میں اس طرح کی عوام دوست کاروایاں جاری رہیں گی۔ حالانکہ جموں و کشمیر کے عوام نے شری منوج سنہا جی کو اس طرح کے اقدام کے لئے دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد بھی دی ہے۔اسی طرح سرحدی علاقوں میں نگرانی بڑھا کر منشیات کی غیر قانونی ترسیل کو روکا جا سکتا ہے۔ اگر منشیات کے کاروبار سے وابستہ عناصر کے خلاف سخت قانون نافذ کیا جائے تو اس ناسور کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔دوسری طرف جو افراد نشے کا شکار ہو چکے ہیں ان کے لئے علاج اور بازآبادکاری مراکز کو فعال بنانا نہایت ضروری ہے۔ ایسے افراد کو مجرم نہیں بلکہ مریض سمجھ کر ان کا علاج، رہنمائی اور بحالی کی طرف توجہ دینی چاہئے تاکہ وہ دوبارہ نارمل زندگی گزار سکیں۔
والدین کا کردار بھی اس سلسلے میں نہایت اہم ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں، ان کے مسائل سنیں، ان سے دوستانہ تعلق قائم کریں اور ان کی سرگرمیوں پر توجہ دیں تو نوجوان نسل کو نشے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اساتذہ بھی طلبہ کی تربیت اور رہنمائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔نشہ مکت بھارت ابھیان کی کامیابی کا دارومدار صرف حکومت پر نہیں بلکہ پورے سماج پر ہے۔ جب تک عوام خود ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کریں گے اس وقت تک کوئی بھی مہم مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ منشیات کے خلاف جنگ صرف قانون کی جنگ نہیں بلکہ شعور، اخلاق، تعلیم اور ذمہ داری کی جنگ بھی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ 100 دن میں بھارت مکمل طور پر منشیات سے پاک نہ بھی ہو سکے لیکن اگر سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں جاری رہیں تو یہ 100 دن ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک ایسا دور جہاں نوجوان نسل محفوظ ہو، خاندان خوشحال ہوں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ نشہ مکت بھارت صرف حکومت کا خواب نہیں بلکہ ہر محب وطن شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔