جرس ہمالہ
میر شوکت
زمین آج سانس تو لے رہی ہے، مگر ہر سانس میں ایک کراہ پوشیدہ ہے۔ صبح کا اُجالا اب خاموشی سے نہیں اترتا، وہ دُھند کے بوجھ تلے دب کر آتا ہے، جیسے کوئی بیمار چراغ جو جل تو رہا ہو مگر لو دینے کی سکت کھو چکا ہو۔ فضا میں ایک باسی سی بو رچی بسی ہے۔ایندھن کے دھویں، جلے ہوئے کچرے اور انسان کی بے احتیاط خواہشوں کی بو۔ کبھی یہی ہوا جب درختوں کے پتوں سے چھن کر آتی تھی تو اس میں مٹی کی خوشبو، پھولوں کی مہک اور پرندوں کے پروں کی ٹھنڈک گھلی ہوتی تھی۔ آج ہوا چلتی ہے تو آنکھوں میں جلن اور سانس میں بوجھ چھوڑ جاتی ہے۔ماحولیاتی آلودگی کسی ایک لمحے کی کوتاہی کا نتیجہ نہیں، یہ ایک طویل داستان ہے جو انسان نے خود اپنے ہاتھوں سے لکھی ہے۔ جب اس نے ترقی کو صرف اونچی عمارتوں، تیز رفتار سڑکوں اور مشینوں کے شور سے ناپنا شروع کیا، تب اس نے فطرت کی دھیمی مگر مسلسل سانسوں کو نظرانداز کر دیا۔ جنگلات جو کبھی زمین کا سبز لباس تھے، ایک ایک کر کے اُتار دیے گئے۔ درخت گرے تو زمین ننگی ہو گئی، بارشیں بے سمت ہوئیں اور مٹی اپنی زرخیزی کھونے لگی۔ تحقیق کہتی ہے کہ جنگلات نہ ہوں تو زمین کا درجۂ حرارت بگڑ جاتا ہے، مگر ہم نے اس سچ کو صرف رپورٹوں کی زینت بنائے رکھا۔شہر اس المیے کا سب سے نمایاں منظر پیش کرتے ہیں۔ صبح کے وقت جب سورج افق سے جھانکتا ہے تو اس کی کرنیں شیشے کی عمارتوں سے ٹکرا کر تھک سی جاتی ہیں۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا ہجوم ایسا لگتا ہے جیسے لوہے کا سیلاب ہو، جو ہر سمت رینگ رہا ہو۔ ہر گاڑی اپنے پیچھے دھویں کی ایک لکیر چھوڑتی ہے اور یہ لکیریں مل کر ایک ایسی چادر بن جاتی ہیں جو آسمان کو ڈھانپ لیتی ہے۔ بچے اسکول جاتے ہوئے کھانستے ہیں، بزرگ پارک کی بنچوں پر بیٹھ کر لمبی سانس لینے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم سب اسے’’شہری زندگی کا حصہ‘‘ کہہ کر قبول کر لیتے ہیں۔ سائنسی تحقیق واضح کرتی ہے کہ فضائی آلودگی دل، پھیپھڑوں اور دماغ تک کو متاثر کرتی ہے، مگر ہماری سماعت اب خبروں کی اس آواز سے مانوس ہو چکی ہے۔دریاؤں کا حال تو اور بھی دردناک ہے۔ وہ دریا جو کبھی شفاف آئینے کی طرح آسمان کا عکس اپنے سینے میں سمو لیتے تھے، آج گہرے، سیاہی مائل پانی کے ساتھ بہتے ہیں۔ ان کے کناروں پر کھڑے ہو کر اب پانی کی سرگوشی نہیں سنائی دیتی بلکہ گندے نالوں کی بدبو سانس روک لیتی ہے۔ صنعتی فضلہ، کیمیائی مادّے اور گھریلو کچرا ان میں اس طرح انڈیلا جاتا ہے جیسے دریا کوئی بے زبان کوڑا دان ہوں۔ آلودہ پانی لاکھوں بیماریوں کو جنم دیتا ہے، مگر ہم پانی کے صاف ہونے کی دعا تو مانگتے ہیں، اسے گندا کرنے سے باز نہیں آتے۔موسمی تبدیلی اس پوری تصویر کا وہ رنگ ہے جو آہستہ آہستہ گہرا ہو رہا ہے۔ کہیں بارشیں بے وقت برس کر کھیت اُجاڑ دیتی ہیں، کہیں برسوں کی پیاس ایک بوند کو ترس جاتی ہے۔ پہاڑوں پر جمی برف تیزی سے پگھل رہی ہے، گلیشیئرز خاموشی سے رخصت ہو رہے ہیں اور سمندر اپنی حدیں پھلانگنے لگے ہیں۔ یہ سب محض قدرت کا کھیل نہیں، بلکہ انسانی مداخلت کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ ماہرین ِ ماحول بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ زمین کے توازن کو بگاڑ رہا ہے، مگر ہم نے اس انتباہ کو بھی ایک سرخی سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔انسان کا رویہ اس کہانی میں سب سے بڑا تضاد ہے۔ وہ خود کو عقل و شعور کا پیکر سمجھتا ہے، مگر اپنی ہی بقا کی جڑیں کاٹتا جاتا ہے۔ وہ درخت کاٹ کر سایہ تلاش کرتا ہے، فضا کو زہر آلود کر کے صحت کے نسخے ڈھونڈتا ہے اور فطرت کو زخمی کر کے سکون کی دعا مانگتا ہے۔ اس میں ایک ایسا طنز چھپا ہے جو ہنساتا نہیں رُلاتا ہے۔ شاید اسی لئے آج رات کی خاموشی بھی اجنبی لگتی ہے، وہ خاموشی جو کبھی سکون دیتی تھی، اب خوف پیدا کرتی ہے۔تاہم یہ داستان مکمل طور پر نااُمیدی کی نہیں۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ اگر انسان چاہے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ شجرکاری، صاف توانائی، فضلے کا درست انتظام اور ماحول دوست طرزِ زندگی محض خیالی باتیں نہیں بلکہ آزمودہ حل ہیں۔ دنیا کے کچھ خطوں نے ثابت کیا ہے کہ ترقی اور فطرت ایک دوسرے کی دشمن نہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم اجتماعی طور پر سنجیدہ ہونا نہیں چاہتے،تعلیم اور شعور اس تبدیلی کی کنجی ہیں۔ جب بچے یہ محسوس کریں کہ درخت صرف لکڑی نہیں، ایک جیتی جاگتی زندگی ہے کہ دریا صرف پانی نہیں، تہذیب کی رگ ہے، تب شاید ان کا رشتہ فطرت سے بحال ہو سکے۔ ادب، کہانی اور فن اس شعور کو جگانے کی وہ طاقت رکھتے ہیں جو خشک اعداد و شمار نہیں رکھتے۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ زمین کب تک برداشت کرے گی، سوال یہ ہے کہ ہم کب سمجھیں گے۔ ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تبدیلی کوئی آنے والا خطرہ نہیں، یہ ہمارا حال بن چکی ہیں۔ اگر ہم نے آج بھی آنکھیں بند رکھیں تو آنے والی نسلیں ہمیں صرف تاریخ میں نہیں، ایک عبرت کے طور پر یاد کریں گی۔زمین اب بھی خاموش ہے، مگر یہ خاموشی بے معنی نہیں۔ یہ ایک آخری صدا ہے، ایک آخری موقع۔ اگر ہم نے اسے سن لیا تو شاید ہوا پھر سے ٹھنڈی ہو جائے، دریا اپنے اصل رنگ میں بہنے لگیں اور آسمان ایک بار پھر نیلا دکھائی دے۔ ورنہ ہم صرف یہی کہتے رہ جائیں گے، کاش ہم نے وقت پر سمجھ لیا ہوتا۔