خالد گل
اننت ناگ//جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور بی جے پی کے رکن اسمبلی پاڈر۔ناگسینی، سنیل شرما نے بدھ کے روز وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی اور آزاد اراکین کے ساتھ منعقدہ اجلاس کو ’’فلور ٹیسٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمراں جماعت اپنے اتحاد کی اندرونی صورتحال اور ممکنہ ناراضگیوں کے پیش نظر اپنی عددی طاقت کا اندازہ لگانا چاہتی تھی۔سنیل شرما نے اننت ناگ کے مٹن علاقے میں جاری بنماس میلہ کے دوران مارتنڈ تیرتھ سورج مندر میں حاضری دینے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’رات کے وقت اچانک عمر عبداللہ کو خیال آیا کہ ان کے اراکین اسمبلی حکومت کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں، اس لیے صبح انہوں نے ایک اجلاس بلایا، جو دراصل اجلاس نہیں بلکہ فلور ٹیسٹ تھا، جہاں انہوں نے اپنے حمایتی ارکان کی گنتی کی۔‘‘سنیل شرما نے وزیراعلیٰ پر حالیہ دنوں میں ایک بڑے سیاسی واقعے سے متعلق قیاس آرائیوں کو ہوا دینے کے حوالے سے بھی طنز کیا۔انہوں نے کہا’’داچھی گام میں پکنک منانا اور دوپہر کا کھانا کھانا کیا بادل پھٹنے یا کوئی سیاسی بم پھٹنے کے مترادف تھا؟ اس طرح کے دعوے کرنا بچگانہ طرزِ عمل ہے۔ جب جموں و کشمیر کے لوگ سڑک، پانی اور بجلی کے مسائل سے دوچار ہیں تو ہمارے وزیراعلیٰ اراکین اسمبلی کے ساتھ سیر و تفریح میں مصروف ہیں‘‘۔بی جے پی رہنما نے کانگریس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جموں و کشمیر کی سیاست میں اس کی اہمیت پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا’’کانگریس دراصل کوئی جماعت ہی نہیں ہے۔ اسے نیشنل کانفرنس نے خیرات کے طور پر چھ نشستیں دی تھیں۔ ان چھ ارکان کی نہ حکومت میں کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی اسمبلی میں‘‘۔سری نگر اجلاس میں آزاد ارکان کی شرکت اور کانگریس کی عدم موجودگی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’کانگریس دراصل عبداللہ خاندان کی پراکسی پارٹی ہے۔ اس کے بڑے لیڈر بھی اپنی مرضی سے فیصلے نہیں کر سکتے بلکہ گپکار سے ہدایات لیتے ہیں۔ کانگریس کے لیے احکامات عبداللہ خاندان کے باورچی خانے سے جاری ہوتے ہیں‘‘۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کو لکھے گئے خط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ آرٹیکل 370 سے متعلق کوئی بھی سیاسی اقدام بے معنی ہے۔محبوبہ مفتی نے اپنے خط میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ جموں و کشمیر کے حوالے سے مستقل مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے مشترکہ سیاسی رابطہ کاری کی اپیل کی تھی۔یہ اپیل مرکز کی جانب سے لداخ کے معاملات پر لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ حالیہ بات چیت کے بعد سامنے آئی تھی۔سنیل شرما نے کہا’’اگر عمر عبداللہ اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی واضح طور پر یہ کہہ دیں کہ آرٹیکل 370 واپس نہیں آ سکتا تو ٹھیک ہے، لیکن اگر وہ دوہری سیاست کرتے ہوئے اس مسئلے کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ آرٹیکل 370 ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے‘‘۔ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے انہوں نے بی جے پی کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی درجہ پارٹی کے ایجنڈے میں شامل ہے، تاہم اس کا تعلق امن و قانون کی صورتحال سے ہے۔انہوں نے کہا’’ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال ہوگا، لیکن اس وقت تک نہیں جب تک وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ اس بات سے مکمل طور پر مطمئن نہ ہو جائیں کہ ریاستی درجہ بحال ہونے کے بعد امن و قانون کے مسائل، ہلاکتیں، پتھراؤ یا سڑکوں پر چلنے والے افراد پر فائرنگ جیسے واقعات دوبارہ رونما نہیں ہوں گے‘‘۔سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 19 ماہ کے دوران جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا’’اگر گزشتہ 19 ماہ کے دوران امن و قانون کی ذمہ داری عمر عبداللہ کے ہاتھ میں ہوتی تو اب تک 150 سے 200 لوگ مارے جا چکے ہوتے۔ پہلگام دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والے 26 شہریوں کو اگر الگ رکھا جائے تو اس عرصے میں ایک بھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس میں کسی شہری کی جان گئی ہو‘‘۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران وادی کشمیر سے کسی مقامی نوجوان نے عسکریت پسندی کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ان کے مطابق’’سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایک بھی کشمیری نوجوان ملی ٹینٹ تنظیموں میں شامل نہیں ہوا۔ اس سے قبل گزشتہ 36 برسوں میں ہر سال 200، 250 یا 300 نوجوان ہتھیار اٹھا کر اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑے ہو جاتے تھے‘‘۔سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے سنیل شرما نے الزام لگایا کہ ان کے دورِ حکومت میں شہری ہلاکتوں کی تعداد زیادہ تھی اور پبلک سیفٹی ایکٹ کا بھی وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا’’عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے ادوارِ حکومت میں بالترتیب 110 اور 116 افراد، جن میں بچے بھی شامل تھے، مارے گئے تھے جبکہ پی ایس اے کا بے دریغ استعمال کیا جاتا تھا‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’اب جب ہر طرف امن نظر آ رہا ہے تو یہ لوگ دوبارہ خونریزی کی سیاست کھیلنا چاہتے ہیں، لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہے‘‘۔