ماسٹر طارق ابراہیم سوہل
یہ دنیا بظاہر بہت ہی دلکش و حسین ہے اور اسکی دلفیر بیوں کے دام میں گرفتار ہونا بے حسی اور جہالت کی دلیل ہے کیونکہ یہاں ذرہ ذرہ معرض زوال ہے۔دوام و ثبات نہ گل کو ہے نہ گلستان کو، نہ بلبل کو نہ چمن کو، نہ کوہ کو نہ دمن کو،نہ انسان کو نہ حیوان کو، نہ شاہ کو نہ گدا کو۔
یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ دمادم آ رہی ہے صدائے کن فیکوں (علامہ اقبال )
ہر شام آفتاب کے لئے پیغام فنا لاتی ہے۔باد خزاں روزانہ گلستان کی بربادی کے لئے گھات میں بیٹھی رہتی ہے۔قطرہ شبنم سورج کی پہلی کرن کی تپش سے آغوش فنا میں چلا جاتا ہے۔بہت سی آوازیں ساز میں ہی ختم ہو جاتیں ہیں۔جوانی ڈھلنے میں دیر نہیں لگتی۔ہر شے اسیر گردش ایام ہے۔علامہ اقبال نے اپنی شہرۂ آ فاق تصنیف زبور عجم میں دنیا کی اس بے ثباتی کی تصویر بڑے دلنشین انداز میں کچھ یوں کھینچی ہے :
فنا را بادۂ ہر جام کردند
چہ بے دردانہ اوراعام کردند
تماشا گاہ مرگ ناگہاں را
جہان ماہ و انجم نام کردند
یہ دنیا جسکی پشت پے ہم سے قبل، اربوں کی تعداد میں اولاد آدم کےلشکر جرار آئے لیکن ساری نزاکتوں اور شرافتوں کے باوجود بطن گیتی کے اندر پیوند خاک ہو گئے۔ ہر آدمی کیا ،ہر ذی شعور شے کا جام زندگی ، مادۂ فنا سے لبریز ہے اور اصل میں یہ دنیا تماشا گاہ مرگ ناگہاں ہے کیونکہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ زندگی کی سانسیں کب تھم جائیں گی یا ابھی کچھ پل میں کیا اچھی بری خبر سننے کو ملے گی۔اسکے باوجود ،انسانی انا کی کاری ضرب انسانی عقل و شعور میں ایسا فتور ڈال دیتی ہے کہ وہ اس عارضی زندگی کو جہان ماہ و انجم سمجھکر ، اپنی گرانقدر حیات مستعار کی روح کو سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے اور عالم بقاء کا تصور اسکے خیالوں کی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، ـایسا انسان اس دنیا میں دوام و ثبات کی بے کار جستجو میں اپنے شب و روز کے قیمتی لمحات کو صرف کرتا رہتا ہے ، ادھر اسکا عرصہ حیات بسرعت سکڑتا جاتا ہے اور زندگی کی شام ،حصار حیات کی دہلیز ہے دستک دیتی ہے، ـ اگلی منزل میں بے سرو سامانی اور پشیمانی کے ساتھ، تن تنہا اس جہان ماہ و انجم سے رخصت ہو کر، الگ پیوند خاک ہو جاتا ہے اور ساتھ میں، آدھے ادھورے ارمانوں کا بوجھ۔
عقل و شعور کا تقاضا تھا کہ حین حیات اپنے جسم کو فربہ کرنے کے بجائے اپنی روح کے گلستان کو صالحات کی آبیاری سے دوام بخشتا اور طلب دوام کی جستجو کے لئے اپنی خودی کو مستحکم کرتا ،کیونکہ فنا کی ظلمت اسی چراغ سے روشن ہو سکتی ہے۔
تاریخ اسلام میں ایک عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ الصلوات وسلام کا ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم نے ایک چمکدار ستارے کو کائنات کا خالق سمجھا، لیکن تدبر و تفکر کے دوران جب اس نے دیکھا کہ وہ ستارہ غروب ہو گیا تو اس نے کہا آفل یعنی فانی ،خدا ہو نہیں سکتاـ پھر سورج کے بارے میں یہی سوچا مگر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو یقین ہو گیا کہ یہ بھی آفل یعنی یکسر فانی ہے اور فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ کسی فانی شئے سے سکون قلب نصیب نہیں ہوا کرتا۔یہی وجہ ہے کہ اطراف عالم میں سیم و زر سے بنے محلات میں رہنے والے بہت سارے بے پناہ مال و دولت کے مالک، حالت اضطراب سے رنجیدہ ہو کر خود کشی کر لیتے ہیں۔جہان ماہ و انجم کی جادوگری نے ہمارے دلوں کی بصیرت اور آنکھوں کی بصیرت کو سلب کرلیا ہے اور یہاں ہر طرف مال و دولت کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے ،ذخیرہ کرنے کی دھن سوار ہے۔والدین اپنے نو خیز، نو آموز اور کمسن اولاد کی کشت دل میں صرف اور صرف دنیا طلبی کے بیج بو رہے ہیں اور عیاشی کی خوش کن داستان سرائی سے اولاد کے دل و دماغ کی وسعتوں کو بھر دیتے ہیں جس سے نو نہالوں کی ایک ایسی جماعت تیار ہو رہی جو ملک و قوم کے نزدیک بجائے غمخواری اور جا نثاری کے قوم و ملت کے حقوق پے شبخون مار کر ، قوم کے لئے دل آزاری کا سبب بن رہی ہے۔جب معاشرہ اس نہج پے پروان چڑھتا ہے تو اعلی عہدے ہے برا جمان حاکم ببانگ بلندی دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے پرھائی لکھائی پے زر کثیر خرچ کیا ہے، خالی تنخواہ سے اس نقصان کی تلافی نہیں ہو سکتی، سائل کیطرف سے اضافی اجرت واجب ہے۔یہاں مجھے علامہ اقبال کا ایک اور شعر یاد آیا:
ابھی تک آدمی صید زبون شہر یاری ہے
قیامت ہے کہ انسان نوع انسان کا شکاری ہے
یہ ہماری بہیمی کیفیت کا زندہ ثبوت ہے کہ ہم نے زر، زن اور زمین کی طلب میں اپنی انسانیت کو بتدریج سفاکیت اور نفس پرستی میں بدل ڈالا ہے اور ہماری انسانیت ہمارے جسمانی قالب کے خد و خال تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ۔ہماری اَنا، نہ کسی دوسرے کی عزت نفس کی پروا کرتی ہے نہ کسی دوسرے کے حقوق کو تسلیم کرنے کےلئے آمادہ۔
دل کی آزادی شہنشاہی شکم سان موت
فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم؟
اے مسلماں اپنے دل سے پو چھ، ملا سے نہ پوچھ
ہو گیا الله کے بندوں سے کیوں خالی حرم (علامہ اقبال)
ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کی اس بے ثباتی کو سمجھ کر اپنی اس چند روزہ زندگی کو معصیت، ریاکاری، حق تلفی اور ایذا رسانی کی خوئے بد سے پاک کر کے اپنی زندگی کو ثبات و دوام بخشیں اور رب ذوالجلال کی عدالت میں اپنے محاسبے کی فکر کریں۔
بہ مرغان چمن ہمداستانم
زبان غنچہ ہائے بے زبانم
چو میرم با صبا خاکم بیا میز
کہ جز طوف گلاں کاری نمی دانم (علامہ اقبال )
شاعر فطرت علامہ اقبال ان اشعار میں فرماتے ہیں کہ میں گلستان کے رازوں سے واقف ہوں اور بے زبان کلیوں کی زبان ہوں۔جب میں اس دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو میری خاک کو باد صبا کے ساتھ ملا دینا کیونکہ مجھے پھولوں کے طواف کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں۔
یعنی وہ اس امت کے زوال کے اسباب سے واقف تھے اور انکی جہالت کو رفع کرنے کے لئے اس قوم کو علم و عرفاں کے جام بھر بھر کے پلانے کا ذوق رکھتے تھے۔لہٰذا وصیت کر گئے کہ انکے مرنے کے بعد بھی ان کا پیغام اس امت بیضا کے جوانوں تک پہنچایا جائے، کیونکہ انکا مقصد حیات مستی کردار کی آبیاری کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
میں نے انہی کا پیغام اپنی کم بضاعتی کے باوجود آپ تک پہچایا دیا۔
رابطہ۔ 9858018662.
[email protected]
��������������������