2021کے اوائل میں بھاری برف باری نے خلقِ خدا کے اوسان خطا کردئے تھے۔ بجلی بند ھ ، راستے مسدود اور مصائب و مسائل کا لا متناہی سلسلہ تھا غربت کی چکی میں پسے جارہے لوگوں کے زرد چہرے مزید یاس و قنوط کا بہ زبانِ حال اظہار کررہے تھے۔ جینا دوبھر ہوچکا تھا۔ دریں اثناء جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں سے کسی ’’رانٹس‘‘ کے نمودار ہونے اور اس کے شر و فتن سے محفوظ رہنے کے لئے مختلف ’’ہدایات‘‘سوشل میڈیا اور مساجد کے منابر و محراب سے دئے جانے لگے۔الیکٹرانک میڈیا کا ایک حصہ بھی اپنا حصہ اس کی تشہیر میں ڈالنے میں جٹ گیا اور اس ’’خبر ‘‘کو اچھی کوریج دے کر ریٹنگزبڑھانے کا ’’فریضہ بہ احسن ‘‘ انجام دیا۔ ہاہا کار مچ گئی، امراض قلب کے مریضوں کا دل دھک دھک کرنے لگا ،بچے کونوں میں دبک کے رہ گئے، خواتین بین کرنے لگیں ، مساجد کے دروازے تک بند ہوئے، سرشام ہی دروازوں پر کنڈیاں لگ گئیں اور حسب ِ روایت ہم کسی تحقیق و تدبر کے بغیر اس کی تشہیر کرتے رہے۔ یوں انتشار و افتراق کا یہ سلسلہ دراز تر ہوتا گیا۔ حالانکہ کئی روز بعد ہی ایک بچہ جان پایا کہ یہ ’’رانٹس‘‘ بھی کیا کمال کی ہے کہ مائک بھی کہیں سے لائی ہے اور آواز کے پس منظر میں جو خوف و بین کی عکاسی تھی ،اس کے لئے بھی اُس نے کس قدر جدید ٹیکنالوجی سے مدد حاصل کی ہے۔ اس سے بھی اْس’’ محترمہ‘‘ کی ذہانت اور فطانت جھلکتی چھلکتی تھی۔بچے کی یہ بات سن کر پھر کہیں جا کر کچھ اور لوگوں نے اس واقعہ پر سوال اٹھانے شروع کئے
ایسی شر انگیزیاں ہمارے یہاں کوئی نئی نہیں بلکہ وقت وقت پر پاسبانانِ شر اپنی ’’روشن دماغی ‘‘ کا مظاہرہ کرکے اللہ کی مخلوق کو الجھنوں میں مبتلا کرکے ایسی کریہہ حرکات کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔ کبھی آتش زنوں کی افواہیں اڑتی ہیں ،کبھی کسی ڈائن کے انسانوں پر حملہ زن ہونے کی فرضی داستانیں سنائی جاتی ہیں تو کبھی کسی ’’بھوت ‘‘کی جانب سے پریشان حال اہل وادی کو کرب و اضطراب کا شکار بنانے کی خبریں آتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں، کبھی یہ بے پر کی بھی اْڑائی گئی کہ پلس پولیو کے قطروں سے کئی بچے دست اور قے کے شکار ہوکر لقمہ اجل بن گئے۔ یوں ان پھولوں اور کلیوں کی زندگی کے حوالہ سے بھی بھیانک کھیل کھیلا گیا، ڈاکٹر صاحبان تردیدکرتے رہے لیکن کئی دنوں تک یہ ہیجان انگیز افواہ خلق خدا کو سراسیمہ ، مضطرب اور پریشان کرتی رہی۔ بہر حال ماتم کیجئے ان سنگدلوں کی سوچ پر جو اپنے فکری انتشار ، ذہنی دیوالیہ پن کے شکار ہوکر اللہ کی مخلوق کو مشق ستم بنانے میں راحت محسوس کرتے ہیں۔ نہیں جانتے کہ اللہ کے یہاں کس قدر اس تعلق سے انہیں عذاب و عتاب کا شکار ہونے پڑے گا۔
بہر حال چند روز ’’رانٹس ‘‘کا شور و شر قائم رہنے کے بعد جب حالات کا گرد وغبار نیچے بیٹھ گیا تو لوگوں کو یقین ہو اکہ کئی کور بختوں نے یہ پریشان کن کھیل کھیلا ہے۔ افواہ بازوں کے لئے یہ جھوٹی خبر پھیلانا تفریح طبع کا سامان تھا یا انہیں بس مذاق کی سوجھی تھی یا کچھ اور، اس بات کا تعین صداقت شعارانہ تحقیقات سے ہی ہو گا بشر طیکہ حکام اس کی زحمت گوارا کریں، البتہ یہ دو سوالات لازماً ہمیں خود سے کر نے چاہیں ، اول ہم لوگ افواہ بازی اور سچائی میں تمیز کر نے کی سْدھ بدھ کیوں کھو گئے ہیں ؟ دوم اللہ کی مخلوق کو اس قدر سرا سیمگی،پریشانی اور ذہنی کوفت میں ڈالنے سے افواہ بازوں کو سوائے تھو تھو اور لعن طعن کے اورکیا ملا؟ تادم تحر یراطلاعات یہی ہیں کہ سماجی ابلاغیات کے ذریعے سائبر کرائم کی پاداش میں پولیس ان کمینہ صفت شریروں کی تلاش کر رہی ہے۔ فرض کریں وہ سب پولیس حراست میںآجائیں، اْنہیں اپنے کئے کی کڑی سزا بھی دی جائے ، پھر بھی اس سے اْن بے شمار لوگوں کے قلب ِ پریشاں کی مایوسی اور دل شکنی کی ایک ضرب کی بھی تلافی نہ ہوگی جو اس جھوٹی خبر کے نتیجہ میں اْنہیں لگی۔ اس افواہ نے لوگوں کے ہو ش ہی نہ اڑائے بلکہ کئی وا لدین ہوش رْبا خبر سے غش کھاگئے ، امراض ِ قلب میں مبتلا کچھ لوگ تو زیادہ ہی درد و کرب کے پْتلے بنے رہے،بلڈ پریشر کے مریضوں کی حالت بھی کچھ کم قہر سامان نہ تھی ، نیز چہار سْو ہاہا کار مچ جانے سے لوگوں کے معمولاتِ زندگی میں جو خلل پیدا ہو ا ،اس سے بھی زندگی کا سفر گویا تھم گیا۔
افواہ بازی، کذب بیانی اور مخرب ِ اخلاق ذلیل حرکات کے مرتکب عناصر ہر دور میں پائے گئے ہیں۔ ان میں یہ قدر مشترک ہوتی ہے کہ یہ قطعی اس چیز سے نابلد ا وربے نیاز ہوتے ہیں کہ اْن کی زبان یا اْن کے قلم کی ایک ہی غلط جنبش اور جھوٹی اطلاع رسانی ملتوں ، قوموں اور معاشروں میں کیا کیا فتنے جگاتی ہے ، اس سے انسانی تہذیب پر کتنے طمانچے پڑتے ہیں ، کتنے اخلاقی مسائل پیدا ہوتے ہیں، انسانیت کی کن کن پیرائیوں میں بے تو قیری ہوتی ہے، ایک جھوٹ سے کتنے افراد کے ذہن مائوف ہوجاتے ہیں ،ایک غلط افواہ سے اجتماعی زندگی میں لوگوں کو کیا کیا بھگتناپڑتا ہے۔ اس کی چشم کشامثالیں قدیم و جدید دنیائوں میں بنتی رہی ہیں۔
بہر کیف انسانی دنیا کے لئے اخلاقیات و حْسن معاشرت کے واحد دستور العمل قرآن کریم میںانہی وجوہ کی بنا پر جھوٹو ںا ور شرارت پسندوںکی ایسی اوچھی حرکات اور دسسیہ کاریوں کو اللہ تعالیٰ نے کارِ شیطان سے تعبیر کیا ہے جب کہ احادیث مبارکہ کے دفاتر شاہد عادل ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرزمان ومکان میں جھوٹ نہ بولنے اور زبان کو ہمیشہ قابو میں رکھنے کی بار بار تاکید یں فرمائی ہیں۔قرآن نے سورہ ’’مومنون ‘‘میں اہل ِایمان کی جو صفات بیان کی ہیں، اْن میںاہم تر صفت جھوٹ اور لغو سے اعراض ہے۔انسان کی اخلاقی خامیوں میں سے سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ وہ بلا تحقیق وجانچ پڑتال ہرخبر کو آگے پھیلاتا رہے۔ اسی لئے سیدعالم ؐنے فرمایا کہ :انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ جو سنے اْسے آگے بیان کردے۔ ( الحدیث )بہت سے لوگوں کو غیر معتبر لوگوں سے باتیں سننے اور خبریں معلوم کرنے کی فطری طور لت پڑی ہوتی ہے او ر وہ اَناپ شناپ سن کر اس کی مفت تشہیرکا کام کردیتے ہیں۔ کبھی کبھی اس قبیح عمل سے ایسے ایسے فتنے جنم لیتے ہیں کہ جن کا خمیازہ بھگتنے کے لئے سا ر ی عمر یں کم پڑتی ہیں۔’’دروغ بر گردن راوی‘‘کہہ کر غلط یافتنہ انگیزخبر کے پھیلانے سے آدمی گناہ سے اپنا دامن بچا سکتا ہے اور نہ آخرت کے عذاب سے خلاصی پا سکتا ہے۔
شومئی قسمت یہ کہ ہمارے معاشرہ میں افواہوں اور جھوٹی خبروں پر فتنہ سامان ٹاک شوز بھی ہوا کرتے ہیں ،جن کا کوئی سرہوتا ہے نہ پیر۔عالمی اخبارات میں بھی ایسی بے تْکی خبریں پھر ان پر تجزیوں اور تبصروں کے انبار لگ جاتے ہیں۔ قرآن نے تو اہل ایمان کو یہ اصولی ہدایت تا قیام قیامت دے رکھی ہے کہ جب کوئی بہت ہی دور رَس اثرات کی حامل اور کلیدی اہمیت رکھنے والی خبر تمہیں ملے تو اس کو قبول کرلینے سے پہلے یہ دیکھ لو کہ خبر دینے والا آدمی کیسا ہے۔اگر وہ کوئی فاسق شخص ہے یعنی جس کے ظاہر حال یہ بتا رہا ہو کہ اس کی بات اعتماد کے لائق نہیں تو اس کی دی ہوئی خبر پر عمل کرنے سے پہلے تحقیق کرلیا کرو کہ آیا واقعی خبر دْرست ہے۔کسی بھی انسانی معاشرہ میں ایسے کم ظرف لوگوں کی کمی نہیں ہوتی جنہیں ادھر اْدھر کی ہانکنا اور بے پَر کی اْڑانا اْن کی فطرت ِثانیہ ہوتی ہے ، اور اس سے وہ حظ اور لذت محسوس کرتے ہیں۔اس لئے لازم آتا ہے کہ انسان کسی بھی خبرکی صحت و صداقت سے پوری طرح مطمئن ہو کر اپنے ردِعمل کا اظہار کیاکرے۔
انسانی دنیا کی تاریخ اْٹھاکر دیکھ لیجئے تو صاف نظر آئے گا کہ زبان و قلم کی معمولی غلطیوں سے اللہ کی یہ زمین کتنی بار اْس کے بندوں کے خون سے لالہ زار بنی ؟بے بنیاد باتوں اور جھوٹی خبروں کے نتیجہ میں کتنے لوگوں کا سکھ چین چھن گیا؟ چھٹانگ بھرزبان کے کے پھسلنے سے کتنی جنگیں ہوئیں ؟ کتنی تباہیاں مچیں؟ کتنی عفت مآب خواتین کی عزت پر بٹہ لگا؟ یہی زبان و قلم بے لگام ہونے سے گھروں کے گھر اْجڑ جاتے ہیں، رشتے ناتے ٹوٹ جاتے ہیں ،دوستوں میں دشمنی کی دراڑیں پیدا ہوجاتی ہیں،بھائی کا دشمن خود اس کا بھائی بن جاتاہے ،ایک دوسر ے کے عیب اْچھالے جاتے ہیں یہ جانے بغیرکہ عیبوں کی پوٹلی ہمارا بھی اثاث البیت ہوسکتا ہے۔ خیر کسی بھی بے قابو زبان والے کو جان لینا چاہیے کہ دوسرے لوگ بھی منہ میںزبان رکھتے ہیں۔ اس لئے دانائوں کا قول ہے کہ گوشت کا یہ ٹکڑا جتنا خاموش رہے، اْتنا ہی بہتر ہے اور جب بولے اس سے موتی جھڑنے چاہیے۔عربی کا ایک مقولہ ہے کہ انسانی عقل جب کامل ہوتی ہے تو پھر وہ کم گو بن جاتا ہے۔خاموشی کو تو نبی رحمتؐ نے نجات سے تعبیر کیا ہے ،اس لئے زبان کا استعمال ضروری ہو تو دْرست انداز میں کیجئے۔
قصہ مختصر’’رانٹس‘‘ کے شبانہ گشت کی خبر ہو یا مزید کوئی دل دھلانے والی افواہ ، ناچیز نے شہوار قلم کو ہمیشہ ان مواقع پر حرکت دی ہے۔موجودہ شر انگیزی میں ملوث کورباطن اشخاص یا گروہ کے ساتھ قانون کیا معاملہ کرتا ہے ،ا س پر عوام کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔عوامی حلقے چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ آں دفتر را گائو خورد والا نہ بن کر رہ جائے اوراصل حقائق ضرور سامنے لائے جائیں۔
ا پنایہ معاشرہ بھی کوئی دودھ کا دْھلا نہیں ، ایک قلیل استثنیٰ کو چھوڑ کرہمیں بے پَر کی سننے سنانے کی لت پڑی ہوئی ہے ،ہم جھوٹ اورلغو یات ، افواہ اور واہیات کی گرم بازاری میں لذت محسوس کرتے ہیں۔ ستم یہ کہ ان افواہوں کی تصدیق و تحقیق کرنے کی ہمیں چٹی بھی نہیں ہوتی بلکہ فتنہ انگیز بات کو پھیلانے میں ہماری سادہ لوح محترم مائوں اوربہنوں کا خاص عمل دخل دیکھاجاتا ہے۔ یہ ایک ناروا سماجی روش ہے۔الغرض ہمیں انفردای اوراجتماعی طور جہاں اپنی یہ منفی روش بدلنا ہوگی، وہاں اپنے عزیز نوجوانوں کو بھی نہ صرف یہ کہ سوشل میڈیا پر کوئی غلط خبر نہ چلانے سے با زآنا ہوگا ،ا نہیں اس لایعنی طرزِ عمل کے اخلاقی مضمرات سے آگاہ ہو نا چاہیے۔ا س سلسلے میں انہیں اسلامی ہدایات اور اخلاقی تعلیمات سے بہرہ ورہونا ہوگا تاکہ اْن کو احسا س ِ ذمہ داری کی قدر وقیمت بھی معلوم ہو اور ان کی زندگی بھی صالحیت اور سنجیدگی کے سانچے میں ڈھل جائے۔ سوشل میڈیا کا وسیلہ اب ہمارے ہر گھر اور ہر فرد کا ناقابل تنسیخ حصہ بناہواہے اور اس کے غلط یاصحیح استعمال میںہر فرد آزاد ہے۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ دانش گاہوں کے ساتھ ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی اس ضمن میں اپنا فرض ِ منصبی انجام بخوبی دیں۔
فون رابطہ۔9419080306