محمد اقبال کھاہ السلفی
معاشرے میں انسان کو صحیح مقام دینے اور عزت و سربلندی تک پہنچانے میں نظام تعلیم وتربیت کا بہت بڑا کردار رہا ہے اور عام طور پر علم سے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ علم ہی اچھا انسانی معاشرہ اور بہترین سماج کی تشکیل عمل میں لا سکتا ہے وقت کا طالب علم نوجوان سماج کے حال کا پائیدار روشن مستقبل کا ضامن اور تہذیب وتمدن کا رکھوالا ہوتا ہے ،آج کا زیر تعلیم نوجوان کل کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگا، زندگی کے کسی نہ کسی شعبے کی باگ ڈور اس نوجوان کے ہاتھ میں ہوگی، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی جائے، ان کے ذہنوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی اور اخلاقی درس سے منور کیا جائے اور اس قابل بنایا جائے کہ وہ خوش اسلوبی سے اپنی سماجی، معاشرتی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔ اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے بروئے کار لاکر اپنے لیے اونچا مقام حاصل کر سکیں وہ مقام جس میں دنیا و آخرت کی بھلائی مضمر ہو، مناسب تعلیم اخلاقیات اور سماجی ضروریات کی روشنی میں ہونی چاہیے تاکہ طالبعلم سماجی ماحول سے ہم آہنگ ہوسکے۔
اسلام نے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق بخشا ہے اور اس بات سے بھی انکار نہیں کہ اسلام میں علم دین حاصل کرنے والے طلباء کو اہم مقام ہے ،جن کے لیے مچھلیاں پانی کے اندر اور چونٹیاں سوراخوں کے اندر دعائیں کرتی ہیں کیوں کہ علم کے نور سے ہی انسان اپنے آپ کو اور تمام عالمین کے حقیقی بادشاہ رب العزت کو پہچان سکتا ہے اور اونچے اخلاق کی تکمیل کر سکتا ہے حضوراکرم ؐ کا ارشاد ہے کہ میں اس مقصد کے لیے مبعوث فرمایا گیا ہوں تاکہ اونچے اخلاق کی تکمیل کر سکوں۔
وقت کی ترقی اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ طالب علموں میں اخلاقی فقدان بڑی تیزی سے پروان چڑھتا جا رہا ہے ان میں غیر اخلاقی عادات بڑی تیزی سے پنپ رہے ہیں طالب علم نوجوان ادب و احترام کے جذبے کو دلوں سے محو کر چکے ہیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہؐ کے بعد والدین اور اساتذہ کرام کے احترام کو فوقیت حاصل ہے ۔عرب کے ایک نامور شاعر فرماتے ہیں کہ ’’استاد کی تعظیم کرو کیونکہ استاد کا مقام رسولؐ کے بعد ہے جب کہ والدین کے احترام کا درس ہمیں قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں کثرت سے ملتا ہے مگر دور حاضر کا طالب علم اس درس سے غافل ہو کر اور اپنے مقام کو بھول کر نہ جانے کس راستے پر چل رہا ہے۔‘‘ یہاں پر ضمناً ایک بات کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ طالب علم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد جن کے منہ میں چیونگم، ہاتھ میں ڈائری، سر پر عجیب قسم کے بال اور بے ترتیب لباس میں ملبوس ہوتے ہیں آج کل مختلف سکولوں اور کالجوں کے دروازوں پر بجلی کے کھمبوں کی طرح کھڑے ہوتے ہیں، یہ سر پھیرے نوجوان مجنون بن کر اپنا دل اپنے ہاتھوں میں لئے گھومتے ہیں۔ علم کی لذت سے آشنا ہونے کے بجائے یہ نوجوان نہ صرف اپنے بیش قیمتی وقت بلکہ والدین کی کمائی کو برباد کر رہے ہیں۔ بلکہ ان کے ارمانوں اور امنگوں پر بھی پانی پھیر رہے ہیں۔ الغرض آج کے طلبہ فیشن پرستی، دیکھا دیکھی، غنڈہ گردی، نشہ بازی، اور چوری جیسی بری عادات کا شکار ہوگئے ہیں، انہیں اپنی مادری زبان، تہذیب و تمدن کچھ بھی راس نہیں آتا ہے، یہ حقیقی شناخت سے شرمندہ ہوتے ہیں نتیجتاً یہ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، پہننے اوڑھنے میں دوسری تہذیبوں کی نقل کرتے ہیں، خاص طور پر فرنگی تہذیب کے نقال بن گے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں،حضوراکرمؐ کا ارشاد ہے کہ جو جس کی نقل کرے گا اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ طلبہ میں یہ اخلاقی فقدان کیوں اور کیسے پیدا ہوا؟ اس کے کیا اسباب ہیں؟ ہمارے قومی اور خاص طور پر بین الاقوامی الیکٹرانک میڈیا سے ٹیلی کاسٹ ہونے والے اکثر پروگرام سرے سے ہی فحش اور غیر اخلاقی ہوتے ہیں، ان پروگراموں کا بلا خوف نظارہ کرنے سے طلبہ میں گندی ذہنیت اور غیر اخلاقی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ طلبہ ان ہی رنگوں میں رنگ جانے کی کوشش کر کے اپنے لیے غلط راستے کا انتخاب کر بیٹھتے ہیں۔ اگرچہ اس غلط راستے پر چل کر انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا سے ٹیلی کاسٹ ہونے والے فحش پروگراموں کو دیکھنے سے سختی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ بچوں کی عمدہ تربیت اور صحیح تعلیم کے سلسلے میں اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ والدین بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ والدین خاص طور پر ماں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بچوں کے عادات واطوار پر گہری سے نظر رکھیں کیوں کہ عمر کی ابتدائی دور میں بچے کے ذوق اور دلچسپیوں کا صحیح اندازہ ہو جاتا ہے۔ والدین کے بعد محترم اساتذہ کرام صاحبان پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ طالبعلموں کے دلوں کو اپنے اخلاق حسنہ اور خاص شفقتوں سے سرشار کرائیں، انہیں اپنی حقیقی پیار سے زندگی کے تاریک راہوں اور ظلمتوں سے نکال کر حیات نو کا پیغام دیں۔ قدم قدم پر طلبہ کو اپنی ہمدردیوں سے نواز کر اخلاقی درس سے روشناس کریں۔ انہیں تہذیب و تمدن، شائستگی اور بہترین معاشرتی عادتوں کی تعلیم دیں اور انہیں یہ بات بھی ذہن نشین کرائیں کہ علم کا مقصد نہ صرف بڑی بڑی ڈگریاں اور نوکریاں حاصل کرنا ہے بلکہ علم انسان کو روشن خیالی، ذہنی افق کی وسعت اور حق کی تلاش سکھاتا ہے طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم کو زندگی کا نور سمجھ کر پورے دھیان سے اساتذہ صاحبان کی نصیحتوں کو سنیں اور پوری لگن سے ان پر عمل کریں کیوں کہ عمل کے بغیر کوئی بھی کوشش بارآور ثابت نہیں ہوسکتی، اس کے بعد ضروری ہے کہ وہ اخلاق حسنہ کے زیور سے آراستہ و پیراستہ ہو جائیں۔ مثلاً اخلاص، فرماں برداری، دیانت داری، نرم خوئی اور جزبہ احترام جیسے نیک عادات کو اپنے اندر اجاگر کریں اور تمام قسم کے بُرے اور غیر اخلاقی عادات کو خیر باد کہہ کر ان سے کنارہ کشی اختیار کرلیں جیسے لڑائی، جھگڑا، حسد وبغض، کام چوری، نقالی، غرور، چغلخوری، آوارہ گردی وغیرہ کسی بھی طرح اپنے والدین یا اساتذہ کرام یا کسی اور کو بھی تنگ نہ کریں اور نہ ہی جواب میں کبھی سخت کلامی کریں، عاجزی وانکساری کے جذبے سے اپنے آپ کو سرشار کریں، ہر ایک کا احترام کرنا اپنا شیوہ بنالیں، علاوہ ازیں والدین، اساتذہ صاحبان اور بزرگوں کے ساتھ تواضح و انکساری سے پیش آئیں۔
[email protected]
������������������