سید مصطفیٰ احمد
یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہم میں سے بیشتر نے اپنے خالق کا پورا حق ادا نہیں کیا۔ ہم ہر آن اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے، لیکن زیادہ تر وہ شکریہ ادا نہیں کیا جو ہم پر فرض تھا۔ یہاں لفظ ’’فرض‘‘ ڈیوٹی نبھانے کے معاملے میں ہے۔ ہم نے ساری عمر اس کی نعمتوں سے عیش کیا، لیکن اپنے حقیقی معبود کو قصداً نظر انداز کرتے ہوئے دنیا کے ہنگاموں میں کھو گئے کہ اس کے دَر پر کبھی غلامی کا ٹھوس ثبوت پیش ہی نہ کیا۔ اس ذات سے بے وفائی کی جس کے بغیر ہمارا کوئی وجود نہیں، لیکن دنیا کی زینت نے غفلت کی چادر ایسی لپیٹ دی کہ نہ اپنی خبر ہے نہ اُس ہستی کی، جس نے ہمارے حقیر وجود کو اچھائی کے گھارے سے گڑھ کر اشرف المخلوقات کا چولا پہنایا۔
ہم کیوں بھول جاتے ہیں؟ وجہ صاف ہے کہ دنیا کی چاہت نے ہمیں اپنا بنا لیا ہے۔مال، جاہ، شہوت اور خود پسندی نے دل پر زنگ لگا دیا ہے۔ شیطان نے وسوسے ڈالے کہ ہم سب کچھ خود کر سکتے ہیں۔ مصروفیات نے اُلجھا دیا کہ فکر ِ آخرت دھندلا گئی۔ ہم نے نماز، دعا اور شکر کو معمولات میں شامل کرنا چھوڑ دیا، پھر وہ معمولات خود ہی دیوار بن گئے۔یہ دیواریں اتنی گہری ہوگئی ہیں کہ ان کو گرانا کوئی آسان کام نہیں۔ہم اَنّا کے مرض میں اتنا ڈوب گئے ہیں کہ ہر جگہ ’’میں‘‘ کی گونج ہوا میں تیر رہی ہے۔جھوٹی تعریفوں سے اتنے خوش ہوتے ہیں کہ خوشامد کی ہر حد کو پھلانگ کر ہم نے بے وفائی کا پختہ ثبوت دیا ہے۔
یہ بھول کوئی ایک دن میں نہیں ہوئی، یہ سالہا سال سے چلی آرہی بھولوں کا زہریلا مجموعہ ہیں۔دھیرے دھیرے ہم نے خود کو یہ باور کرا لیا کہ کل توبہ کر لیں گے۔ کل کا وہم ہمارا سب سے بڑا دشمن بن گیا۔ ہم نے سوچا تھا کہ ابھی جوانی ہے، بوڑھے ہو کر عبادت کریں گے۔ پھر بوڑھے ہوئے تو اپنے آپ سے کہا کہ ابھی سانس چل رہی ہے، آخری وقت میں کلمہ پڑھ لیں گے۔ مگر ہم بھول گئے کہ موت کبھی بتا کر نہیں آتی۔ہم نے اپنی غلطیوں کو خوبصورت نام دے دیئے۔’’معمولی لغزش‘‘، ’’وقت کی نزاکت‘‘، ’’مجبوری‘‘۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا اور پھر اس بُت کے آگے ساری عمر جھکتے رہے اور آخرکار یہ بُت اتنا بڑا ہوا کہ ہم کو ہی نگل گیا۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے دل مردہ ہوچکے ہیں۔ جن دلوں میں اللہ کا نور ہونا چاہیے تھا،اس میں بےجا وسوسوں کی زمین زرخیز ہوچکی ہے۔ ہم سب کو نعمتیں تو ملتی رہتی ہیں، لیکن ان کی لذت ختم ہوچکی ہے۔ اندر کا سکون برباد ہوا ہے۔ انسان ہر طرف خالی پن محسوس کرتا ہے، کیونکہ روح کا تعلق خالق سے ٹوٹ گیا ہے۔ پھر وہی ہوتا ہے کہ ہر مسئلہ ہم سب کو بڑا لگتا ہے، ہر غم بے چین کر دیتا ہے۔ ہر شر ایک بڑا پہاڑ دکھائی دیتا ہے جس سے شر میں چھپا سبق آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ قبر اور آخرت کا خوف دل سے نکل جاتا ہے۔دنیاوی زندگی اور رنگینیاں ہی سب کچھ دکھائی دینی لگتی ہیں اور یہی اصل نقصان ہے۔
اب کیا کریں؟ حل صرف یہ ہے کہ اللہ کی طرف واپس لوٹیں۔ چند قدم اس ضمن میں اٹھائیں جاسکتے ہیں جن کا مختصر ذکر ذیل کی سطروں میں کیا جارہا ہے۔
(۱) توبہ کریں: سب سے پہلا کام جو اس ضمن میں سردت انجام دیا جاسکتا ہے کہ اپنی بے وفائی کا اعتراف کریں جیسے اس تحریر میں کیا ہے اور اسے چھوڑنے کا عزم کریں۔ توبہ کا دروازہ جتنی دیر کھلا ہے اس کا فائدہ اٹھانا نہایت ضروری ہے۔
(۲) روزانہ ذکر اور شکر :صبح و شام تسبیحات اور ہر نعمت پر اللہ کا شکر کرنا معمول بنائیں۔چھوٹی سے لے لر بڑی نعمت پر خدا کا شکر جہری اور سری دونوں حالات میں کیا جائے۔
(۳) نماز کی حقیقت پہچانیں:محض عادت نہیں، بلکہ اس میں خشوع پیدا کریں۔ایسی نماز ادا کریں جس سے ایک نمازی میں حقیقی نکھار پیدا ہوسکے۔جھوٹی اور دکھاوے کی نماز ریا کاری کے خاطے میں شمار کی جاتی ہے۔اس نمائشی نماز کے ادا کرنے سے انسان ملامت کا شکار ہوجاتا ہے۔
(۴) دنیا کی حدود: مال اور شہوت کو غلام نہ بننے دیں، بلکہ انہیں اللہ کی راہ میں جتنا استعمال کرسکتے ہیں کریں۔اللہ کی خوشنودی کو مدنظر رکھتے ہوئے زندگی کے گنے چنے اوقات کو گزارنے کی کوشش کریں۔مال،اولاد اور دنیاوی زینت آزمائشوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ان سب کے رنگ میں رنگ جانا صرف گاٹے کا سودا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، کیونکہ فضول الگ تھلگ رہنے سے وسوسے زیادہ حملہ کرتے ہیں۔ اپنے گناہوں پر کھل کر بات کریں، انہیں چھپائیں نہیں۔ جب ہم کسی کو اپنی کمزوری بتاتے ہیں تو پھر شرم کا ایک پردہ ٹوٹ جاتا ہے اور سچی اصلاح کا راستہ کھلتا ہے۔ نیز، دن میں صرف کچھ منٹ نکال کر یہ سوچیں۔’’آج میں نے کون سی نعمت لی اور کون سی ناشکری کی؟‘‘ یہ چند منٹ کی سوچ پوری زندگی بدل سکتی ہے۔ یاد رکھیں، اللہ ہماری بڑی بڑی غلطیاں معاف کر دیتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی نعمتوں کی قدر کرنا سیکھیں، ورنہ ہم ایسے ہی رہیں گے جیسے اب تک تھے۔
آخری بات : یہ لمبی داستان ہے۔ اسے لکھنے کے لیے ہزار صدیوں کا وقت چاہیے۔ ایسی عمر کہاں سے لاؤں کہ اپنے معبود کے سامنے زار زار رو کر اپنی بے وفائی کا جرم قبول کروں اور آخری سانس لوں؟ کہاں سے شروع کریں اور کہاں ختم؟ کسی نے کیا خوب لکھا: “عجیب داستان ہے، کہاں شروع کہاں ختم؟ یہ منزلیں کونسی، نہ وہ سمجھ سکے نہ ہم۔” اس گیت گار کو اس کی ناخواندگی پر معاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ہم سب کو تو بے وفائی کی ساری داستانیں طوطی کی طرح رٹی ہیں، تو پھر ہمارا حساب کیا ہوگا؟ کونسا منہ لے کر اس کے سامنے جائیں گے جب یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ عمر بھر یونہی غلطی کرتے رہے ہم، دھول چہرے پر تھی، ہم آئینہ صاف کرتے رہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ آئینہ صاف کرنے سے پہلے دھول ہٹانے کا ارادہ کریں۔ اللہ بہت مہربان ہے۔ صرف ایک سچی توبہ، ایک آنسو اور ایک پکی سچی واپسی، باقی سب وہ خود سنبھال لے گا۔ ورنہ یہی داستان کل قیامت کے دن ہمارے خلاف گواہ بن جائے گی۔ چناں چہ آج ہی فیصلہ کریں کہ بس اب نہیں۔ جو بےوفائیوں کے ڈھیر میں نے ہر آن لگائیں، اب ان کو ڈھانے کا وقت آگیا ہے۔اب اپنے اندر اصلاح آئے گی۔ایسی اصلاح جو صرف اللہ کی خاطر ہو۔ایسی تبدیلی جس میں ریاکاری کے کوئی بھی غلیظ کیڑے نہ ہو۔