قیصر محمود عراقی
آج کے نفسانفسی کے عالم میں خوش رہنا انتہائی کٹھن کام ہے لیکن اگر آپ چاہیں تو آپ اپنے ارد گر د کے ماحول سے معمولی معمولی باتوں سے خوشیوں کو سمیٹ کر اپنا دامن بھر سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے لئے اولین شرط یہ ہے کہ آپ دوسروں کے بارے میں ہمیشہ مثبت رویہ اپنائیں اور ان کی خوشیوں کو اپنی خوشی سمجھ کر لطف اندوز ہوں، تب جا کر آپ کی زندگی بھی خوشیوں کا گہوارہ بن جائے گی ۔ اگر ہم چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو جمع کر نا شروع کر دیں تو ہماری زندگی کا پیالہ خوشیوں سے لبا لب بھر جائے گا ۔ مثلاً ہم اسی پر قناعت کریں کہ جو اللہ نے ہمیں دیا ہے ، اُس کی مہر بانیوں پر اس کا شکر ادا کریں تو ہم خوشیوں کی فراوانی حاصل کر سکتے ہیں ۔ خوش رہنے کے لئے کوئی ارب پتی ہو نا ، کوٹھیوں یا کاروں کا مالک ہو نا یا پھر کسی بڑے عہدے پر فائز ہو نا ضروری نہیں۔ خوشیاں اور غم ہمارے اندر پر وان چڑھتے رہتے ہیں ، اگر ہم چاہیں تو معمولی سی بات پر خود کو مغموم و افسردہ کر کے الگ تھلگ ہو سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو ہم کسی کھلتے ہو ئے پھول کو خوشی منا سکتے ہیں ۔ دنیا میں شاید ہی کسی کو خوش رہنا اچھا نہ لگتا ہو لیکن اس کے لئے بھی خدا نے چند ضابطے مقرر کر دیئے ہیں ۔ چونکہ خوشی اللہ کی نعمت ہے، اس لئے اسے حاصل کر نے کے لئے ہمیں بھی مقرر کردہ حدود و قیود کا خیال رکھنا پڑے گا ۔ خوش رہنے کے لئے مسکراہٹ نہایت ضروری ہے اور عمدہ اخلاق خوشیوں کی ضمانت ہو تے ہیں ۔ خوش نہ رہنے کی بھی بے شمار وجوہات ہیں ، ایسا آدمی جو دوسروں پر توقعات رکھتا ہے وہ خوش نہیں رہ سکتا، کیونکہ جب آپ کسی سے توقعات رکھیں گے اور وہ آپ کی توقعات پر پورا نہیں اترے گا تو آپ غمزدہ ہو جائیںگے ۔ اسی طرح جو آدمی دوسروں کے معاملات میں دلچسپی نہیں رکھتا ،وہ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ اکیلا رہ جا تا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کے معاملات میں مداخلت نہیں کر تے ۔ اس طرح کا تنہا رہنے والا شخص ڈپریشن کا شکار ہو کر ذہنی مریض بن جا تا ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ دوسروں کی خوشی اور غمی میں بھر پور انداز سے سانجھے داری کی جا ئے تا کہ خدا نخواستہ کل آپ کو کسی کی مدد کی ضرورت ہو تو وہ آپ کے کام آ سکے ۔ ویسے بھی دوسروں کی مشکلات اور خوشیوں میں شراکت سنت ِ رسولؐ میں بھی آتا ہے ۔ اسلئے ہمیں چاہئے کہ لوگوں کے اندر مثبت اور ہم خیال لوگوں کا ایک سرکل بنائیں جن سے اپنے دکھ سکھ بانٹے اور ان کے دکھ سکھ میں ان کا تعاون کریں ۔
یہ ایک آزمودہ حقیقت ہے کہ خوشیاں صرف تمنائوں سے نہیں حاصل ہو تیں بلکہ خوشیاں بانٹنے سے خوشیاں ملا کر تی ہیں ۔ اگر آپ یہ خواہش لیکر بیٹھ جائیں کہ اللہ ہمیں خوشیاں ہماری خواہشات کے مطابق عطا کرے گا تو یہ محض آپ کی خام خیالی ہو گی ، اس کے بر عکس اگر آپ کے پاس کوئی معمولی سی خوشی کا موقع ہو اور وہ موقع آپ اکیلے اکیلے اپنے لطف کے لئے چھپا چھپا کر نہ گذاریں بلکہ اس میں اپنے دوست و احباب اور رشتہ داروں کو بھی شامل کریں تو یقیناًاللہ تعالیٰ آپ کو اس سے زیادہ خوشیاں عطا کرے گا ۔ مثلاً آپ کے گھر میں چکن پکا ہوا ہے اور آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے پڑوس کے گھر کھانے کے لئے کوئی اچھی چیز نہیں ہے، تو آپ سالن کا ایک ڈونگہ پڑوسی کو بھیج کر وہ روحانی مسرت حاصل کریںگے کہ یقین جانئے جس کا تصور تک آپ نہیں کر سکتے، اس معمولی سے نسخے کو آپ اپنی روز مرہ کی زندگی میں ایک دفعہ لازمی استعمال میں لا کر دیکھیں ۔ ایسے اشخاص جو چھوٹے چھوٹے معاملات کو سر پر سوار کر کے بیٹھ جا تے ہیں، وہ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتے ، کیونکہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ان لوگوں کی زندگی میں زہر گھولتی رہتی ہیں اور بالا آخر ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے کہ یہی سلو پائزن ان افراد کے لئے مہلک ثابت ہو تا ہے ۔ مثال کے طو رپر کسی نے از راہ تمسخر آپ کو لوگوں کے سامنے بے عزت کر دیا یا خدانخواستہ کسی نے آپ کوبُرا بھلا کہہ دیا تو آپ ایسی باتوں کی پر واہ نہ کریں کیونکہ لوگ تو انبیا ء کرامؑ جو معصوم ہو تے ہیں اُن کو بھی معاف نہیں کر تے ، پھر آپ اور میں کس باغ کی مولی ہیں کہ لوگ ہمیں اذیت نہیں پہنچائیںگے ۔ لہٰذا اس طرح کے واقعات کو سنی ان سنی کر دیں ، ہو سکے تو ایسے لوگوں کی بہتری اور صحیح راستے پر لانے کی سعی کریں ۔ ہر کام میں غلطیاں تلاش کر نے والا اور نکتہ چینی کر نے والا کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتا، کیونکہ یہ منفی سوچ ہے ، بجائے اس کے کہ لوگوں کے عیب دیکھے جائیں ، اگر ان کی اچھائیاں پرکھی جائیں تو انسان زیادہ ہشاش بشاش رہے گا ، کیونکہ یہ دنیا ہے جب ہم دوسروں کی غلطیاں اور عیب ڈھونڈیںگے تو دوسرے لوگ بھی ہمارے عیب بیان کریںگے ۔ اس طرح زندگی اتھل پتھل ہو کر رہ جا ئے گی جس شخص کے اندر لفظ ’’ میں ‘‘ ہو اور لچک نہ ہو تو وہ ساری عمر اندر ہی اندر جلتا اور سڑتا رہتا ہے اور خوشی کے قریب بھی وہ نہیں پھٹک پاتا ،کیونکہ دوسروں کے ساتھ مقابلے کے لئے یہ زندگی خدا نے نہیں دی بلکہ اس زندگی کو پیار اور محبتیں بانٹنے کے لئے اللہ نے ہمیں اس سے نوازا ہے۔ جب ہمارے اندر لچک نہیں ہو گی اور سب کچھ خود کو سمجھنا شروع کر دیںگے تو خوشیاں کسی نئی راہ کی متلاشی ہو جائیںگی ۔ خلیل جبران کا قول ہے کہ ’’ ہر حال میں خوش رہا جا سکتا ہے اور اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے تو تم سمجھ لو کہ تم نے زندگی کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا ہے ‘‘ اس لئے ضروری ہے کہ جہاں تک ہو سکے ہم دوسروں کے عیبوں کے بجائے ان کی اچھائیوں پر نظر رکھنیگے تو ایک دن ہم خود بھی اچھے بن جائیںگے ۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہئےکہ وہ کسی سے اپنی خوشی کو شئر کرے اور دوسروں کی خوشیوں کا خیال بھی رکھے ، کیونکہ کہ سماج میں رہنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہنا اور مل جل کر رہنا بہت ضروری ہے ، اس طرح ہر آدمی کی زندگی خوش و خرم سے گذر جائےگی اور پتہ بھی نہیں چلے گا ۔
رابطہ۔6291697668