غازی سہیل خان
آپ نے بھوپی گھوٹالہ ،کرکٹ گھوٹالہ جیسے گھپلوں کے بارے میں سُنا تو ہوگا ہی تاہم آ ج میں یہاں آپ کو بریانی گھوٹالہ اور جموں کشمیر پولیس سب انسپکٹر گھوٹالے کے متعلق معلومات فراہم کروں گاجو حال ہی میں طشت ازبام ہوئے ہیں۔گذشتہ چند ماہ سے جموں کشمیر میں گھپلوں اور گھاٹالوں کی ایسی شرمناک خبریں میڈیامیں آ رہی کہ انسان دھنگ رہ جاتا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ اب کشمیر کا نام ہی گھپلستان رکھا جاناچاہیے ۔گھپلوں اور کرپشن کے ایسے سنسنی خیز انکشافات ہو رہے ہیں جن کو سُن کے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔سب سے پہلے جموں کشمیر پولیس سب انسپکٹر کا گھوٹالہ خبروں میں آیا اوراس کے بعد جموں کشمیر فٹ بال گھپلہ جس میں بریانی گھوٹالہ میڈیا میں چھایا رہا اور آج کل FAAکے بھرتی عمل میں حکومت کو گھپلے کا خدشہ ہے جسے حکومت کالعدم کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور ابھی اس کے خلاف FAA؍امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والے نوجوان سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں ۔یہ گھپلے اچانک کیوں اور کیسے جموں کشمیر میں نوکریوں کے حوالے سے بڑھ گئے ابھی ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔تاہم ان گھپلوں کے بعد جموں کشمیر میںبے روز گار نوجوانوںکا بھرتی عمل میں ان اداروں اور ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے ۔جہاں ایک طرف غریب طلبہ سا ل ہا سال انتہائی مشکلات اور مصائب کو جھلتے ہوئے کسی امتحان کی تیاری کر کے کامیابی حاصل کرتے ہیں وہیںپیسہ اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ بغیر کسی محنت کے ان امتحانات میں اچھے نمبرات سے کامیاب ہو کر غریب بے روز گار نوجوانوں کے روز گار پر شب و خون مارتے ہیں ۔تجزیہ نگاروں کا ان گھپلوں کے متعلق کہنا ہے کہ اس طرح کے گھپلے ان اداروں اور ایجنسیوں سے وابستہ ملازمین سیاسی پشت پناہی کے بغیر کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے ۔جب تک ان کو سیاسی آقاوئوں کی طرف سے گرین سگنل نہ ملے تب تک یہ اس طرح کی خبیث حرکت نہیں کر سکیں گے ۔سب سے پہلے جس گھپلے نے جموں کشمیر کی عوام کے ہوش اُڑا دیے وہ JKPSIگھپلہ تھا ۔اس امتحان کو JKSSB نے منعقد کیا تھا۔جیسے ہی میڈیا میں یہ خبر آئی تو جموں کشمیر انتظامیہ نے 8؍جولائی کو اس بھرتی میں دھاندلی کے بعد اس بھرتی عمل کو منسوخ کر دیا اور اس کی تحقیقات کے لئے سنٹرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو نامزد کیا گیا جو کہ ابھی اس کی تحقیقات میں لگی ہوئی ہے ۔
رواں ماہ میں CBIنے اسی گھپلے کے سلسلے میں جموں ،کشمیر اور بنگلور میں تیس سے زائد مقامات پر چھاپے مارے ہیں ۔جن کے گھروں پر اس ایجنسی نے چھاپے مارے ہیں ،اُن کے نام بھی سامنے آئے ہیں ۔CBIکی طرف سے اب تک کُل تیس سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں ۔ملزمان میں بڑے ناموں میں میڈیکل آفیسر بی ایس ایف ڈاکٹر کرنیل سنگھ،اے ایس آئی جموں کشمیر پولیس اشوک کمار ۔سابق سی آر پی ایف آفیسر اشونی کمار ،Edumaxکلاسز کوچنگ سنٹر کے مالک اویناش گپتا ،اسی کوچنگ سنٹر کے منیجر اکشے کمار ،استاد روشن برال ،جموں کشمیر ایڈ منسٹریٹو سروسز کے سابق ممبر نارائن دت ،جے کے ایس ایس بی کے سابق انڈر سیکرٹری بشن داس ،سابق ایس ایس بی کی سیکشن آفیسر انجو رائنا اور بنگلورو کی میرٹ ٹریک سروسز پرائیویٹ لمٹڈ شامل ہیں ۔JKSSBپر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُنہوں نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سوالنامہ تیار کرنے کی ذمہ داری اسی بنگلورو کی کمپنی کو سونپی تھی ۔رپورٹس کے مطابق ان ملزمان نے تین گروپس بنائے تھے اور الگ الگ لائبریز میں انہوں نے امتحانی پرچوں کو فروخت کیا ،وہیں خبریں یہ بھی ہیں کہ پرچے ہریانہ میں پرنٹ ہوئے اور اس کے بعداکھنور کی لائبریری میں سب سے پہلے اسے فروخت کیا،اور اُن سبھی طلبہ نے اس امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے ،جنہوں نے اس لائبریری میں پڑھا تھا ،پہلے یہ پرچہ 15؍ لاکھ تک بیچا گیا ،اس کے بعد اس کی قیمت گرتے گرتے 10 ہزار تک پہنچ گئی ۔ جموں کے ایک صحافی’’ پرشانت بھردواج‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان میں سے ایک ملزم نے ایک خاتون امیدوار کا جنسی استحصال کیا اور اس خاتوں کا نام بھی میرٹ لسٹ میں آیا ہے ۔ جموں کشمیر میں ہی ایک سماجی کارکن اور RTI Activist’’راجہ مظفر بٹ‘‘ کا کہنا ہے کہ ’’JKSSBکا حال بے حال ہو گیا ہے، اب یہ صرف بے روزگار نوجوانوں سے پیسے اینٹھنے کا ادارہ بن گیا ہے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ میری طرف سے دائر کی گئی RTIکے جواب میں بتایا گیا تھا کہ مارچ2016ء سے ستمبر2020ء تک اکیس کروڑ روپے وصول کئے گئے ہیں ،ان میں سے 2016ءمیں پانچ کروڑ، 2017ءمیں 16کروڑ، 2018ءمیں27کروڑ 77لاکھ اور 2019ءمیں چھ کروڑ کمائے ہیں ۔وہیں جنوری 2020ءسے ستمبر2020ءتک اکیس کروڑ 68لاکھ کمائے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ اتنا پیسہ جمع کرنے کے بعد بھی یہ بھرتی عمل شفات کیوں نہیں ہوتے اور اس کے لئے حکومت کو کوئی ٹھوس قدم لینا چاہیے۔‘‘
یہ تو ہوئی ایک گھپلے کی مختصر لیکن شرمناک کہانی ۔ اب آپ کو میں بریانی گھوٹالہ کی کہانی بھی بتا دینا چاہتا ہوں، ہوا یوں ہے کہ جموں کشمیر میں فٹ بال ایسوسیشن گھپلہ سامنے آیا، جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ کھلاڑیوں نے 50 لاکھ کی بریانی تناول فرمائی ہے ۔لیکن جب عملی طور پر معلوم کیا گیا تو یہ ایسی بریانی تھی جو کسی کھلاڑی نے کھائی بھی نہیں ۔راقم الحروف نے اسی سلسلے میں سوپور جا کر فٹ بال سے وابستہ ان افراد سے بات کی ،جنہوںنے اس گھوٹالے کے بارے میں اینٹی کرپشن بیورو سے شکائت کی تھی ۔ان افراد نے کہا کہ گھپلہ یہ صرف 50 لاکھ کا ہی نہیں بلکہ کروڑوں کا گھوٹالہ ہے، جس کو طشت از بام کرنے کی ضرورت ہے ۔جس میںJKFA مفتی میموریل کپ ،’’کھیلو انڈیا‘‘ کے نام پر جے کے اسپورٹس کونسل سے رقومات فرضی ناموں پر حاصل کی گئی بلکہ حیرت ہمیں تب ہوئی جب ایک صاحب نے کہا کہ میرے نام پر بھی فرضی بلیں نکالی گئی ہیں اور مجھے معلوم تک نہیں ہے ۔ان افردا کا کہنا تھا کہ سوپور قصبے میں ہی 13 لاکھ کے قریب جعلی بلیں نکالی گئی ہیں ۔اس سلسلے میں سوپور سے تعلق رکھنے والے ایک میچ ریفری نے راقم کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ میرے نام پر ساڑھے چار لاکھ کی جعلی بلیں نکالی گئی ہیں، اس کیس کو (ACB)Anti corruption bureauنے اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے تفتیش کے دوران کہا ہے کہ تمام بلیں ایک ہی شخص نے لکھی ہیں اور پچاس لاکھ میں سے 43 لاکھ روپے سرینگر کے ایک ریستوران کے لئے بریانی کے نام پر نکالی گئیں، جو بریانی کبھی کسی فٹ بال کھلاڑی نے کھائی ہی نہیں ہے ۔مذکورہ تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ ایک لاکھ اکتالیس ہزار فوٹو سٹیٹ کرانے اور ایک لاکھ سے زائد ہارڈ وئیر کی چیزیں خریدنے پر خرچ کیا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ بلیں بھی فرضی ہی ہیں ۔ACBنے اس معاملے کو سنجیدہ لیتے ہوئے فٹ بال ایسوسیشن کے صدر ضمیر ٹھاکر ،خزانچی ایس ایس بنٹی ،چیف ایگزیکٹیو ایس اے حمید ،ضلع صدر فیاض احمد اور دیگر عہدے داروں کے خلاف فنڈس غبن کرنے کے سنگین الزامات لگائے ہیں ۔وہیں تا دم تحریر FAAکے امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدوار سراپا احتجاج ہیں ،حکومت کا کہنا ہے کہ اس امتحان میں بھی ہمیں گھپلے کا خدشہ ہے جس کے سبب شاید اس بھرتی عمل کو بھی کالعدم قرار دیا جائے گا۔یعنی جموں کشمیر کے بے روزگار نوجوان رشوت خوروں اور بے ایمانوں اور گھپلہ بازوں کے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں ۔بہت سارے نوجوان جنہوں نے بھی ان امتحانات میں کامیابی حاصل کی تھی ،اپنی محنت سے وہ ذہنی تنائو کا شکار ہو گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے۔جرم اگر اور کوئی کر رہا ہے ہمیں اُس کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟لیکن اس ساری صورتحال کے متعلق حکومت وقت خاموش ہی دکھائی دے رہی ہے ۔ان محنت کش امیدواروں کی اتنے سالوں کی محنت کا کسی کو احساس بھی نہیں ۔وہیں راجہ مظفر بٹ کی RTIرپورٹ کے مطابق JKSSBان امید واروں سے کروڑوں روپے وصول کیاگیا ہےاور اس کے باوجود بھی یہ بھرتی عمل احسن اور شفاف طریقے سے انجام نہیں دیئے جا رہے ہیں ۔ان گھوٹالوں کے پیچھے کن کا ہاتھ اور آشرواد ہے ،متعلقہ ایجنسیوں کو اس کی تہہ تک جانا چاہیے ،وہیں اُن اُمیدواروں کو انصاف بھی ملنا چاہئے جنہوں نے محنت کر کے ان امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے اور اُن لوگوں کے خلاف عبرتناک سزا ہونی چاہیے، جنہوں نے یہ انسانیت سوز عمل انجام دِیے ہیں ۔
(رابطہ۔ 9906664012)
[email protected]