طب و تحقیق
سمیہ نصر
دُبلا ہونا اچھی صحت کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو بہت سے جدید معاشروں میں عام ہے جسے میڈیا اور بعد میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے فروغ دیا۔لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ تصویر کا دوسرا رُخ نظر نہ آ رہا ہو، یعنی کیا کوئی شخص ظاہری طور پر دُبلا نظر آ سکتا ہے مگر اس کے جسم میں چھپی ہوئی چربی اس کی صحت کے لیے خطرہ بن رہی ہے؟یہ چربی آخر ہے کیا، یہ کیوں خطرناک ہے اور اس سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے؟انگریزی اصطلاح ’سکینی فیٹ‘ کا لفظی مطلب ’دُبلا مگر موٹا‘ ہے۔ یہ کوئی سائنسی اصطلاح نہیں مگر اسے میڈیا میں ایسے شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس کے جسم کے اوپری حصے اور کولہوں کے گرد جلد کے نیچے نسبتاً کم چربی ہو،تاہم اس شخص میں عموماً پٹھوں کے مقابلے میں چربی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور وہ بظاہر ’دُبلا‘ نظر آتا ہے۔ مگر بعض اوقات اس کا پیٹ اُبھرا ہوا ہوتا ہے اور اس میں اندرونی چربی کی شرح زیادہ ہو سکتی ہے۔اس قسم کی چھپی ہوئی چربی کو ’ایکٹو‘، ’وسرل‘ یا ’ہڈن‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پیٹ کی گہرائی میں موجود ایک تہہ ہوتی ہے جو کئی اندرونی اعضا کو گھیرے رکھتی ہے۔ ان اعضا میں دل، گردے، جگر، پتہ، آنتیں اور لبلبہ شامل ہیں۔ماہرین طب کے مطابق جسم میں موجود چربی کے ذخائر مختلف افعال انجام دیتے ہیں۔ جسم کے اوپری حصے میں جلد کے نیچے موجود چربی تناؤ کے ہارمونز (ایڈرینالین) کے ردعمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ اس لیے مفید ہے کہ اس سے پٹھوں کو درکار توانائی فراہم ہوتی ہے۔اس کے برعکس کولہوں اور ٹانگوں کے گرد چربی تناؤ کے ہارمونز کے لیے کم حساس ہوتی ہے اور اسے خارج کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس طرح نچلے حصے کی چربی طویل مدتی ذخیرے کے لیے محفوظ جگہ بن جاتی ہے اور جگر اور لبلبے جیسے اعضا کو نقصان دہ چربی جمع کرنے سے بچاتی ہے۔دوسری جانب اندرونی چربی اپنے گرد موجود اعضا کی حفاظت کا کام کرتی ہے۔ لیکن جب اس کی مقدار زیادہ ہو جائے تو یہ صحت کے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ پروفیسر نیتا گاندھی کے مطابق اندرونی چربی جِلد کے نیچے موجود چربی سے مختلف رویہ رکھتی ہے۔
یہ میٹابولک طور پر متحرک ہوتی ہے اور فیٹی ایسڈز، سوزش پیدا کرنے والے سائٹو کائنز اور ہارمونز خارج کرتی ہے جو جگر پر بوجھ ڈالتے ہیں، انسولین مزاحمت پیدا کرتے ہیں اور شریانوں میں چکنائی جمع ہونے کا سبب بنتے ہیں اور مستقبل میں ٹائپ ٹو ذیابیطس اور قلبی امراض کے خطرے کو بڑھاتا ہے، جو قبل از وقت موت سے جڑے ہوتے ہیں۔اسی میٹابولک سرگرمی کی وجہ سے اندرونی چربی جلد کے نیچے نظر آنے والی چربی سے زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے۔چین کی ایک تحقیق میں اندرونی چربی میں اضافے کو دماغ کے سکڑنے اور سوچنے کی رفتار میں کمی سے جوڑا گیا ہے۔ظاہر ہونے والی علامات میں سب سے نمایاں ابھرا ہوا پیٹ ہے۔ تاہم پروفیسر سٹیفن ہیمزفیلڈ کے مطابق کمر کا گھیر ناپنا زیادہ بہتر طریقہ ہے۔بڑی کمر اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہے کہ اعضا کے گرد چربی زیادہ ہے۔برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق مردوں میں کمر کا گھیر 94 سینٹی میٹر اور خواتین میں 80 سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اندرونی چربی کی درست پیمائش کے لیے سی ٹی سکین اور ایم آر آئی کو بھی اچھا معیار سمجھا جاتا ہے، جبکہ ڈیکس سکین نسبتاً کم خرچ ہے۔معاشرے میں دُبلے پن کو صحت کی علامت سمجھنے کا رجحان اس بات کی ایک وجہ ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنے جسم میں چھپی اندرونی چربی کو نظر انداز کر دیں۔
ماہرین کے مطابق نارمل وزن مگر خراب میٹابولک صحت جیسی اصطلاحات ظاہر کرتی ہیں کہ صرف بی ایم آئی اچھے میٹابولک نظام کی ضمانت نہیں دیتا۔پروفیسر کارپ کہتے ہیں کہ شراب نوشی اندرونی چربی پر واضح اثر ڈالتی ہے اور زیادہ چینی کا استعمال بھی اس میں اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر بچوں میں۔خوراک کا معیار بھی اندرونی چربی اور مجموعی میٹابولک صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔اب یہ سمجھا جا رہا ہے کہ تمام کیلوریز یکساں نہیں ہوتیں بلکہ خوراک کا مجموعی معیار زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے، چاہے وزن ایک جیسا ہی کیوں نہ ہو۔ماہرین کے مطابق صحت بخش غذا میں روایتی طور طریقے جیسے سبزیوں کا زیادہ استعمال، پھلوں، دالوں، اناج، فائبر، مچھلی، خشک میوہ جات اور قدرتی تیل بہتر ہیں۔ جبکہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، میٹھے مشروبات، سرخ اور پراسیسڈ گوشت اور انتہائی پراسیسڈ غذا نقصان دہ ہے۔(بی بی سی)