ڈاکٹر منسکھ منڈاویا
بھارت کی کھیلوں کی کہانی غیر معمولی تنوع کی داستان ہے۔ شمال مشرق کے پہاڑوں سے لے کر وسطی بھارت کے جنگلات تک، ہمارے ملک کے ہر گوشے میں ٹیلنٹ موجود ہے۔ کھیلو انڈیا پروگرام کے آغاز کو آٹھ سال ہو چکے ہیں، اور اس نسبتاً مختصر عرصے میں یہ تیزی سے ایک قومی تحریک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یوتھ گیمز، یونیورسٹی گیمز، بیچ گیمز، اور ونٹر گیمز سمیت کئی طرح کے کھیلوں کے ذریعے، کھیلو انڈیا نے ملک بھر میں نوجوان کھلاڑیوں کے متنوع پول تک کام یابی سے رسائی حاصل کی ہے۔
کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز (کے آئی ٹی جی) کا اضافہ اس سفر میں ایک اور اہم قدم ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن 25 مارچ سے 3اپریل تک چھتیس گڑھ میں منعقد ہوگا، جس میں 31ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تقریباً 3,000 ایتھلیٹس حصہ لیں گے۔ مقابلے سات میڈل کھیلوں میں منعقد ہوں گے : ایتھلیٹکس، فٹ بال، ہاکی، ویٹ لفٹنگ، تیر اندازی، تیراکی، اور کشتی۔
یہ کھیل بستر علاقے کے قبائلی اکثریتی اضلاع میں منعقد ہوں گے، جو قدیم ڈنڈ کرنیا بیلٹ کا حصہ ہیں، نیز سرگوجا علاقے اور رائے گڑھ اور منپور جیسے علاقوں میں بھی منعقد ہوں گے۔ یہ محض ایک اور کھیل کے ایونٹ کا تعارف نہیں ہے۔ یہ ہمارے معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ذریعے بھارت کے کھیلوں کے ایکو سسٹم کو وسعت دینے کی شعوری اور منظم کوشش کی نمائندگی ہے، تاکہ جغرافیہ یا پس منظر سے قطع نظر مواقع ہر کھلاڑی تک پہنچیں۔ سادہ الفاظ میں، یہ حاشیے کو مرکزی دھارے میں لانے کے بارے میں ہے۔
قبائلی علاقوں کے کھلاڑی طویل عرصے سے قوم کے لیے فخر کا باعث بنے ہیں۔ راجستھان کے لیجنڈری تیر انداز لمبا رام سے لے کر جھارکھنڈ کی تیر اندازی کی آئیکون دیپیکا کماری، اور متعدد ہاکی اسٹارسے لے کر اولمپک میڈلسٹ جیسے میرابائی چانو تک، ان کی کام یابیاں لاکھوں لوگوں کو تحریک دیتی ہیں۔ یہ رول ماڈل ان علاقوں میں موجود بے پناہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
بہت سے قبائلی علاقے ان علاقوں سے ملتے جلتے ہیں جنھوں نے تاریخی طور پر سماجی و اقتصادی چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔ ان علاقوں کے نوجوانوں کے لیے پہچان اور ترقی کے مواقع اکثر محدود رہے ہیں۔ ان شعبوں میں منظم کھیلوں کے مقابلے لا کر، ہم نوجوانوں کی توانائی کو مثبت اور قوم سازی کی کوششوں کی طرف موڑ رہے ہیں۔ یہ غیر یقینی صورت حال کو موقع سے بدلنے اور تنہائی کو شمولیت سے بدلنے کے بارے میں ہے۔
درحقیقت، ہمارے معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا وژن’’کھیلے گا بھارت ، تو کھلے گا بھارت‘‘ حقیقت بن چکا ہے۔ آج کھیل ایک طاقت ور محرک اور مساوات کا باعث بنتا ہے، جو پس ماندہ پس منظر والے کھلاڑیوں کو قومی اور بین الاقوامی کھیلوں کے میدان میں اپنی جگہ بنانے کے قابل بناتا ہے۔ کھیلو انڈیا پلیٹ فارم کو قبائلی علاقوں میں وسعت دینا اس وژن کی قدرتی توسیع ہے اور اس یقین کو مضبوط کرتا ہے کہ کھیل قوم سازی کا لازمی ستون ہے۔
کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمزکی میزبانی مقامی کھیلوں کے ایکو سسٹم پر بھی دیرپا اثر ڈالے گی۔ یہ کھیل قبائلی علاقوں میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی اور بہتری کا باعث بنیں گے، جب کہ مقامی کوچ، ٹرینر اور معاون عملے کے لیے مواقع پیدا کریں گے۔ اسکولوں اور کمیونٹی اداروں کو روزمرہ زندگی میں کھیل کو شامل کرنے کی ترغیب دی جائے گی، جو جڑوں کی سطح پر ایک پائیدار اور جامع کھیلوں کی ثقافت کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔
کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز ایک بار کا ایونٹ نہیں ہیں، یہ جاری رہیں گے۔ کے آئی ٹی جی کو کھیلو انڈیا کے سالانہ کیلنڈر میں مستقل طور پر شامل کیا جائے گا، تاکہ ملک بھر کے قبائلی کھلاڑیوں کو مقابلہ کرنے اور ترقی کرنے کے لیے ایک پائیدار، بار بار آنے والا پلیٹ فارم میسر ہو۔ یہ تسلسل طویل مدتی کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر اگلے ایڈیشن کے ساتھ، گیمز وسیع تر کھیلو انڈیا کے ایکو سسٹم میں فیڈر کے طور پر کام کریں گے۔ ٹرائبل گیمز اس لحاظ سے صرف ایک پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک پھلتی پھولتی کھیلوں کی دنیا میں داخلے کا دروازہ ہیں۔
کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کے ذریعے، ہمارا مقصد اس صلاحیت کی شناخت اور پرورش کرنا ہے۔ ٹیلنٹ شناختی ٹیمیں، جن میں قومی کوچ، اعلیٰ کارکردگی کے ڈائریکٹر اور اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے ٹیکنیکل حکام شامل ہیں، کھیلوں میں موجود ہوں گی۔ منتخب ایتھلیٹس کو ایس اے آئی سینٹروں میں اعلیٰ تربیت دی جائے گی تاکہ وہ اپنے کھیلوں کے سفر کو مزید ترقی دے سکیں۔
جب بھارت 2030کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے اور 2036اولمپک گیمز کے لیے اپنی کوشش کر رہا ہے، تو ہمارے ٹیلنٹ پول کو بڑھانا اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے ملک کے ہر کونے تک پہنچنا اور یہ یقینی بنانا کہ مواقع سب کے لیے دستیاب ہوں، بشمول قبائلی کمیونٹیز کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے۔ ٹرائبل گیمز کا آغاز اس طریقہ کار کا براہ راست نتیجہ ہے اور بھارت کے بدلتے ہوئے کھیلوں کے ایکو سسٹم کی مضبوطی کا غماز ہے۔
سپورٹس ایکسی لینس کا سفر اکثر ان دیہاتوں اور کمیونٹیوں سے شروع ہوتا ہے جہاں خواب تو ہوتے ہیں، لیکن مواقع محدود ہیں۔ کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کے ذریعے، مودی حکومت کھیل کو انھی جگہوں تک لے جا رہی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے، ہم نہ صرف مستقبل کے چیمپئنز دریافت کر رہے ہیں بلکہ بھارت کی ٹیلنٹ پائپ لائن کو بھی مضبوط کر رہے ہیں، کیوں کہ ہم عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وزیر اعظم کے اس وژن کو حقیقت میں بدل رہے ہیں کہ 2036تک چوٹی کے دس کھیلوں والا ملک اور 2047تک چوٹی کے پانچ کھیلوں والا ملک بن جائے ۔
(مصنف ملک کے نوجوانوں کے امورکھیل اور محنت و روزگار کے مرکزی وزیر ہیں۔)