میر ی بات
سید مصطفیٰ احمد
تعلیم کی جڑوں کو مضبوط کرنے کی غرض سے 2024 میں سی بی ایس ای (CBSE) کی طرف سے ’’اوپن بک ایگزام‘‘ (Open Book Exam) یا کھلی کتاب کے امتحان کو نظامِ تعلیم میں شامل کرنے کی تجویز پر غور و خوض کیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں اگلے سال سے نویں جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک کھلی کتاب کے امتحان کے trials (آزمائشی مراحل) کا آغاز ہوگا۔ یہ امتحانات چند مخصوص مضامین میں trial basis پر منعقد کیے جائیں گے، جس کے بعد آئندہ کی راہ متعین کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں لوگوں کے تبصروں کو پڑھ کر میرے علم میں اضافہ ہوا کہ مغرب میں پہلے سے ہی کھلی کتاب کے امتحانات رائج ہیں۔ وہاں کا سماجی ڈھانچہ کچھ ایسا ہے کہ لوگ کھلی کتاب کے امتحان کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں تعلیم اور زندگی کا دوسرا نام امتحانات ہے، یعنی ہماری ساری تعلیم اور زندگی امتحانات کے گرد گھومتی ہے۔
جب سے NEP 2020 (نئی تعلیمی پالیسی) کو نریندر مودی حکومت نے نافذ کیا ہے، تب سے نظامِ تعلیم میں تبدیلیوں کا دور شروع ہو چکا ہے۔ کھلی کتاب کے امتحانات بھی اس زنجیر کی ایک کڑی ہے۔ اب جبکہ سارا دھیان طلبہ پر مرکوز کیا جا رہا ہے اور سائنس کے ساتھ ساتھ ہیومینیٹیز (humanities) کو بھی یکجا کرنے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں تو ایسے میں نظامِ تعلیم کو نظامِ زندگی بنانا خوش آئند قدم ہے۔اگر ہم گزشتہ برسوں کا جائزہ لیں تو زمانے کی رفتار کے مطابق جو نظامِ تعلیم اس وقت رائج تھا، وہ اُس دور سے تقریباً ہم آہنگ تھا۔ لیکن اب زمانے کی باریکیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے زندگی کے طور طریقوں کو بدلنا بے حد ضروری ہو گیا ہے۔ جس طرح سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ معاشی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اسی طرح نظامِ تعلیم میں تبدیلیاں لانا اب ناگزیر ہے۔دیر آید، درست آید کے مصداق اب جبکہ ہر طرف تبدیلیوں کی آہٹیں ہوا میں موجود ہیں، تو ایسے میں کھلی کتاب کے امتحانات کس حد تک سودمند ہیں، اس کا مختصر جائزہ مندرجہ ذیل سطروں میں پیش کیا جا رہا ہے۔
اول ۔ امتحان کے خوف کا زائل ہونا:
کھلی کتاب کے امتحان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے موت کی مانند دکھنے والے امتحانات طلبہ کے لیے راحت کی کچھ سانسیں میسر کر سکیں گے۔ طلاب اب اپنے نصاب میں شامل کتابوں کا مختلف انداز سے مطالعہ کرنا سیکھ جائیں گے، رٹے کی عادت ختم ہوگی اور تنقیدی سوچ (critical thinking) پروان چڑھے گی۔ وہ چیزوں سے اوپر اٹھ کر دیکھنے کا ہنر پیدا کر سکیں گے اور نئے زاویے سے مشاہدہ کر سکیں گے۔ طلاب سبق کے بیچ اور آخر میں پوچھے گئے سوالات سے ڈرنے کے بجائے خود سوالات ترتیب دے سکیں گے۔ ایک ایسا ماحول پیدا ہو سکے گا جس میں خیالات کا آزادانہ تبادلہ ممکن ہو سکے گا۔ طلباء اب تسلیم شدہ حقائق کو بھی شک کی نگاہوں سے دیکھ سکیں گے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ پتھر کی لکیر کی مانند اصولوں سے اختلاف بھی کر سکیں گے، جس سے ذہن کے بند دریچے وا ہوں گے۔
دوم ۔نصاب سے ہٹ کر مطالعہ :
روایتی نظامِ تعلیم میں گائیڈ کتابوں اور بازار میں تیار شدہ نوٹس سے سوالات کے جوابات ذہن نشین کرائے جاتے تھے اور امتحانات میں صد فیصد نمبر حاصل کیے جاتے تھے۔ لیکن کھلی کتاب کا امتحان روایتی طرز پر سوالات یاد کرنے کے بجائے مختلف مصنفین کی کتابوں کا مطالعہ کرکے اپنی الگ سوچ قائم کرنے پر زور دیتا ہے اورحان پاموک، مارگریٹ ایٹ ووڈ، جان گالز ورتھی، جارج برنارڈ شا، اروند اڈیگا، ٹونی موریسن، اسٹیفن کنگ وغیرہ جیسے مصنفین کو پڑھنے کا موقع ملے گا، جس سے ایک مختلف قسم کی دنیا تعمیر ہوگی۔ الفاظ کی باریکیوں سے آشنا ہونے کا موقع ملے گاجو زندگی کی حقیقتوں کو قریب سے جاننے اور پہچاننے میں معاون ثابت ہوگا۔ لیکن افسوس ! ہمارے ہاں شاہکار کتابیں دکانوں پر دھول چاٹ رہی ہیں۔ ناقص نظامِ تعلیم کی وجہ سے اُن کا حال پوچھنے والا کوئی نہیں۔ اِن کتابوں میں چھپے موتیوں کی قسمت ردی کی ٹوکری سے زیادہ کچھ نہیں۔
سوم ۔ اساتذہ کا بدلتا ہوا کردار :
روایتی نظامِ تعلیم اور امتحانات میں مخصوص باتوں اور اصولوں کو حتمی سچ مان کر کامیابی حاصل کی جاتی تھی۔ اساتذہ بھی نئی باتوں سے روشناس نہیں ہوتے تھے ، اُن کی سوچ محدود ہوتی تھی، وہ بچوں کو پڑھانے سے پہلے چند مخصوص باتیں یاد کرکے طلبہ تک پہنچاتے تھے۔ طلبہ اور اساتذہ کے درمیان لمبا فاصلہ ہوتا تھا، لیکن آج اس کے برعکس ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کے درمیان فاصلے بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب طلبہ اساتذہ سے دس قدم آگے ہیں، اُنہوں نے اُن کتابوں کا مطالعہ کیا ہوتا ہے جو کبھی اساتذہ کے ذہن میں بھی نہیں ہوتیں۔ اس طرح کھلی کتاب کا امتحان اساتذہ کو چوکنا (on tenterhooks) رکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اپنے مضمون میں ماہر بننے کے لیے اب اساتذہ کو خود بھی کتابوں سے گہرا رشتہ جوڑنا ہوگا۔ اب وہ دن گئے جب طلاب کو ڈانٹ ڈپٹ سے خاموش کرا دیا جاتا تھا، اب ہر بات کو تولنے کا مزاج پیدا ہو رہا ہے اور یہ رجحان آنے والی نسلوں میں بھی پائے جانے کی امید ہے۔
چہارم ۔ تعلیم برائے زندگی :
کھلی کتاب کا امتحان طلبہ کو زندگی گزارنے کے لیے تیار کرے گا۔ اب چیزوں کا سرسری مطالعہ کرنا باعثِ شرم ہوگا۔ زمانے کا مزاج ہے کہ اب ہر چیز کا گہرائی سے مشاہدہ کیا جائے، جس سے زندگی کو بھی گہرائی سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔ زندگی کی باریکیوں کو سمجھنے کی وسعت ملے گی اور ایک سکے کے دونوں پہلوؤں کو پرکھنے کا موقع ہاتھ آئے گا۔ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے — یہ بھی کھلی کتاب کے امتحان سے کسی حد تک سمجھنا ممکن ہو سکے گا۔ جب زندگی کے ہر شعبے میں تنوع پایا جاتا ہے تو کھلی کتاب کا امتحان اس تنوع کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
نتیجہ: اس خوش آئند قدم کا سب کو خیرمقدم کرنا چاہیے۔ یہ ابھی آزمائشی مراحل (trials) سے گزر رہا ہے اور اسے مختلف مراحل سے گزر کر قانونی شکل اختیار کرنی ہے، لیکن پھر بھی ترقی کی جانب یہ ایک مفید قدم ہے۔ روایتی طرز کے امتحانات نے بہت سے طلبہ کی جانیں لینے کے ساتھ ساتھ بے شمار کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ لاکھوں طلاب بے چینی اور پریشانی کا شکار ہیں، اور اس کی وجہ صرف “cut-throat examinations” (سخت مسابقتی امتحانات) ہیں جو طالب علم کو مشین اور کند ذہن بنا دیتے ہیں۔
وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہم سب کو ان اقدامات کو دل و جان سے قبول کرنا چاہیے۔ ہم تعلیم کے نام پر افسردگی اور بے چینی مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ دنیا اب مصنوعی ذہانت (AI) کی انتہا کی طرف سرپٹ دوڑ رہی ہے۔ انسانوں کی وقعت روز بروز گھٹتی جا رہی ہے اور مصنوعی ذہانت اُن کی جگہ لینے کے لیے پوری طاقت لگا رہی ہے۔ اِن حالات میں تعلیم کو موجودہ اور آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس کی شروعات طلبہ سے کی جانی چاہیے جو ہمارا کل سرمایہ ہیں۔اگر ہم طلاب کی مجموعی (holistic) ترقی دیکھنا چاہتے ہیں تو ہم سب کو ان اقدامات کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا جو ہمارے مستقبل کو محفوظ بنانے کا مادہ رکھتے ہیں۔ اس کی ایک زندہ مثال کھلی کتاب کا امتحان ہے۔ اس مضمون میں شامل باتوں سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن امید ہے کہ سی بی ایس ای (CBSE) کی طرف سے اٹھایا گیا یہ نیا قدم ملک کے تعلیمی نظام کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگا۔
[email protected]
������������������