ریحانہ شجر
11 جنوری 2026، بروز اتوار کو ادبی جریدے ’’سہ ماہی کوہ ماراں‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس پر اِس کا یہ خاص شمارہ موصول ہوا۔ محض 151 صفحات پر محیط یہ رسالہ ظاہری سادگی کے باوصف اپنے ادبی و فنی محتویٰ کے اعتبار سے نہایت گراں قدر، پُراثر اور پُرمغز ہے۔ نوجوان ادیب اور مدیرِ اعلیٰ سہیل سلیم کی ادارت میں شائع ہونے والا یہ شمارہ ’’گوشۂ فیاض دلبر‘‘ کی اہمیت کا حامل ہے۔ درحقیقت، یہ شمارہ اسٹیج، ادب اور شاعری کی عظیم شخصیت مرحوم فیاض دلبر کی علمی و ادبی خدمات کا آئینہ دار ہے۔مجھے یہ کہنے میں ذرّہ بھر تامل نہیں کہ ’’کوہ ماراں‘‘ کا یہ خاص شمارہ محض ایک رسالہ نہیں بلکہ ایک ادبی سنگِ میل ہے۔ اِس میں شامل ہر تحریر و تخلیق اپنے دامن میں ندرتِ فکر، فکری گہرائی اور فنی رچاؤ سمیٹے ہوئے ہے۔شمارے کا احاطہ۔ ایک مختصر جائزہ!شمارہ آغاز ہی سے قاری کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ پروفیسر شمیم حنفی کا تحریر کردہ طویل مضمون ’’منٹو اور نیا افسانہ ‘‘فطری اعتبار سے مضبوط اور اردو افسانے کے ایک اہم پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔اس کے بعد ’’مصنوعی ذہانت بمقابلہ انسانی تخیل ‘‘کا مضمون موجودہ دور کے ایک انتہائی اہم اور فکروں بھرے موضوع کو چھیڑتا ہے۔ یہ قاری کو اس سوچ پر مجبور کر دیتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ہم اپنے انسانی تخیل، حساسیت اور ادب کو کس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
عادل اشرف کے شعری مجموعے ’’الہام سے پہلے‘‘ کا ہیئتی مطالعہ، ڈاکٹر کوثر رسول کے گراں قدر تبصرے پر مبنی ہے۔’’میر نوشاد رسول کا سفرِ عمرہ: ایک جائزہ‘‘ پر ڈاکٹر شاہ فیصل کا تحریر کردہ تبصرہ دلچسپ اور معلومات افزا ہے۔’’جموں و کشمیر میں مرثیہ نگاری کی روایت‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر محمد یاسین گنائی کی مفصل تحقیقی تحریر قلمبند کی گئی ہے۔ڈاکٹر نذیر احمد کمار نے پریم ناتھ پردیسی کی ادبی بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں پر ’’پریم ناتھ پردیسی: جموں و کشمیر کے اردو افسانے کا معتبر نام‘‘ کے زیرِ عنوان مدلّل تبصرہ تحریر کر کے حقِ ادائیگی کی ہے۔اِس کے علاوہ ڈاکٹر اسمی کوثر کا مضمون ’’کرناٹک میں ناول نگاری‘‘ اور واجدہ تبسم کے افسانچوں ’’سکوتِ گم‘‘ پر سیدہ ایمن کا تحریر کردہ تبصرہ قابلِ داد و تحسین ہے۔
’’ایوانِ ادب کا درّ ِ نایاب: فیاض دلبر‘‘ کے عنوان سے مضامین و مقالات کا خصوصی حصہ خاص توجہ کا مستحق ہے۔ مختلف ناقدین، ادیبوں اور فنکاروں نے فیاض دلبر کے تخلیقی سفر، ڈرامائی اسلوب، شاعری کے محرکات اور ان کی انسانی قدروں پر جامع روشنی ڈالی ہے۔ مرحوم کی شخصیت و فن کے جس تنوّع کو انھوں نے زندگی بھر برتا، مدیرِ اعلیٰ سہیل سلیم نے اسی تنوّع کو اِس شمارے کا محور بنایا ہے۔ یہاں محض مرثیہ گوئی نہیں کی گئی بلکہ اُن کے کثیرالجہت فن کے ہر پہلو کو مختلف اصناف کے ذریعے اُجاگر کیا گیا ہے۔ یہ مضامین واقعات کی تسلسل بیانی نہیں، بلکہ ایک فنی شخصیت کی تفہیم کے لیے علمی و تحلیلی انداز اپناتے ہیں۔ ادبی دنیا کے جن ستاروں نے فیاض دلبر کو خراجِ تحسین پیش کیا، اُن میں سبطی محمدِ حسن، منظور انجم، بشیر منظر اور غلام نبی شاہد شامل ہیں۔
افسانچے اِس شمارے کا ایک اور روشن پہلو ہیں۔ وادی کے کہنہ مشق افسانہ نگاروں نے نہ صرف اپنے فن کا لوہا منوایا ہے بلکہ ہر کہانی ایک نیا زاویۂ نظر اور ایک نئی فضا پیش کرتی محسوس ہوتی ہے۔ موضوعات میں تنوّع اور اسلوب میں جدّت قاری کو شروع سے آخر تک باندھے رکھتی ہے۔ اِس حصے میں ’’دیوار اور ہم شکل‘‘ (ڈاکٹر نذیر مشتاق)، ’’تنہائی: دو ملک ایک کہانی‘‘ (نور شاہ)، ’’دردخیز لہریں، ننھی کلی‘‘ (واجدہ تبسم گورکو) اور ’’نظرانداز، قلم کی دھار‘‘ (دیپک بدکی) جیسے قدآور افسانہ نگاروں نے اپنی تخلیقی بصیرت سے چار چاند لگائے ہیں۔رخسانہ جبین،عادل اشرف ، رخشندہ رشید اور پرویز مانوس جیسے سخنوروں نے رسالے کے صفحاتِ شعر کو ادب کے چمن کی بہار بنا دیا ہے۔ جدید و کلاسیکی دونوں انداز میں کہی گئی غزلیں، اور نظم اپنے معنوی حسن اور لفظیاتی چناؤ سے متاثر کرتی ہیں۔ ہر شاعر نے اپنی انفرادی آواز کو برقرار رکھتے ہوئے ادبی معیار کو بلند کیا ہے۔
’’کوہ ماراں‘‘ کی سب سے بڑی خوبی اِس کا معیاری ادبی اسلوب ہے۔ ہر تحریر میں الفاظ کا چناؤ، جملوں کی بناوٹ، خیال کی روانی اور بیان کی شستگی قابلِ رشک ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ مدیر نے نہ صرف معیاری مواد یکجا کیا ہے، بلکہ ہر تحریر کو فنی حسن کے ساتھ پیش کیا ہے۔
مجموعی طور پر ’’کوہ ماراں‘‘ کا یہ خاص شمارہ ایک ایسا ادبی خزینہ ہے جو فیاض دلبر جیسی عظیم ہستی کی یاد کو ہمیشہ تازہ رکھے گا۔ یہ نہ صرف ایک فنکار کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے بلکہ موجودہ ادبی منظر نامے میں معیار، تنوّع اور گہرائی کی ایک شاندار مثال بھی قائم کرتا ہے۔ یہ شمارہ ہر ادب دوست، طالبِ علم اور محقق کے لیے لازمی مطالعہ کا درجہ رکھتا ہے۔
میری ذاتی رائے ہے کہ سہ ماہی ادبی جریدہ ’’کوہ ماراں‘‘ کی رونمائی محض ایک جریدے کا اجرا نہیں، بلکہ فکر و ادب کے ایک نئے مینار کی بنیاد ہے۔ اِس شمارے نے محدود صفحات میں وہ سب کچھ سمونے کی کامیاب کوشش کی ہے جو کسی عظیم فنکار کی یاد کو تابندہ رکھ سکتا ہے۔ یہ اردو ادب کی روشن روایت کا ایک درخشاں باب ہے۔
سہیل سالم مبارکباد کے مستحق ہے۔ ان کی کاوشیں داد و تحسین کے قابل ہے۔ اپنے رسالے کی وساطت سے انہوں نے ہمیشہ ان تمام قلکاروں، ادیبوں اور شاعروں بالخصوص خواتیں قلمکارروں کو جو گمنامی کے اندھیروں میں کھو چکے تھے ازسرنو دریافت کیا۔ ان کے فن اور ادبی خدمات کو ادبی حلقوں کے سامنے روشناس کرایا۔ اس بات سے یہ انداز لگانا مشکل نہیں کہ ان کی ادبی بصیرت کا معیار کتنا بلند ہے۔مدیرِ اعلیٰ سہیل سلیم شاباشی کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اتنا عمدہ، پُروقار اور جامع شمارہ ادبی دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہ کام صبر، محنت اور والہانہ لگن کا متقاضی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ادب کی بے لوث خدمت ایک عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔دعا ہے کہ خداوند کریم اس مشن میں ان کے ہاتھوں کو مزید قوت و مضبوطی عطا فرمائے۔ آمین !
[email protected]