ابو نعمان محمد اشرف بن سلام
وادی کشمیر صدیوں سے اپنی تہذیبی ہم آہنگی اور صوفیانہ موسیقی کی دلکش فضا کے لیے پہچانی جاتی رہی ہے۔ اسی روایت کو زندہ رکھنے کےلئے وادی کے بہت سے گلوکاروں کا اہم رول رہا ہے ۔جن میںمحمد سلطان بٹ، محمد عبداللہ تاربلی، غلام محمد ڈار، غلام احمد صونی اور غلام حسن صوفی ،غلام احمد کاچروغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان فنکار وںنے کشمیر ی صوفیانہ موسیقی میں اپنی شاندار خدمات کی وجہ سے اپنی کافی پہچان بنائی ہے۔ محمد عبداللہ تاربلی اور غلام احمد صونی کشمیر کی روایتی صوفیانہ موسیقی میں جانے پہچانے فنکاروں میں شامل ہیں۔چنانچہ جن گلوکاروں نے اپنے فن اور اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے صوفیانہ موسیقی کے شائقین میں اپنا ایک خاص مقام بنایا ہے۔ اُنہی عظیم فنکاروں میںسے ایک معروف فنکار ،صوفیانہ موسیقی کےگلوکار محترم محمد عبداللہ متو المروف’’ عبہ تار بلی‘‘ گذشتہ ماہ ،یعنی 12مارچ 2026 میں انتقال کرکے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ عبہ صاحب تاربلی کا انتقالِ پُر ملال واقعی کشمیری صوفیانہ موسیقی کے لئے ایک بڑا نقصان ہے جسے پُر کرنا محال ہے۔
محمد عبداللہ متو المعروف ِعبہ صاحب تاربلی کی آواز نے کشمیری ثقافت اور موسیقی کو ایک نئی پہچان دی اور اُن کی گائے ہوئے صوفیانہ کلام لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔انہوں نے کشمیر کے روایتی سازوں اور موسیقی کو نوجوان نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔محترم محمد عبداللہ تارہ بلی صاحب خوش مزاج، نرم دل اور نیک طبیعت انسان کی تلاش کسی تابندہ فنکار میں کی جائے تو مجھ ایسے مداح کی نگاہ ایک ہی تصویر پر آکے ٹھہر جاتی ہے،وہ بے پناہ صلاحیت کے مالک جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین آواز سے نوازے تھا ،و ہ محترم عبہ صاحب تارہ بلی ہے ۔محترم محمد عبداللہ تاربلی صاحب کی شخصیت اور فن پر اظہار خیال کرنے والا ہر شخص اسے اونچے فنکار اور اچھے انسان قرار دیتا ہے، کیونکہ فن نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ یہ گہرے انسانی جذبات و احساسات کو بھی پیش کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی جادوئی کیفیت ہے جو دیکھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔محترم تارہ بلی صاحب نے صوفی موسیقی کا جو بھی کلام گایا اس کی کشش کا کمال دیکھئے ! کہ آج بھی انکی آواز کانوں میں گونجتا ہے، توراہ چلتے بھی روک جاتا ہے ۔ فن موسیقی کی دلکش آواز تار بلی صاحب کا قدرت کی طرف سے ایک انعام تھا، کیونکہ صوفی شاعری کا ہر شعر اپنی جگہ مکمل اور فنی طور پر حسین ہوتا ہے،اور جب اس میں رسیلی آواز شامل ہوتی ہے، تو وہ مزید دلکش ہو جاتا ہے۔ محترم تار بلی صاحبسے کون واقف نہیں، کیونک وہ اپنی منفرد آوازکی وجہ سے کشمیر کی موسیقی کی تاریخ میں اپناایک یادگار مقام رکھتے ہیں،اور ، شہرگاؤں کے ہر گھر میں ایک منفرد آواز بنکر ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ ہر گھر کے دروازے پر دستک دی تھی،اورمحترم تاربلی صاحب نے اپنی منفرد آواز سے جو اپنی الگ پہچان بناءوہ آج تک بدستور قائم و دائم ہے،کیونکہ تارہ بلی صاحب کی آوازمیں ایک لافانی کشش اور دلفریب انداز تھا،اور تاربلی صاحب کی آواز ایسی تھی، جیسی دنیا کی ساری ندیاں جو ایک سمندر میں آکر ملتی ہیں اس سمندر کانام محمد عبداللہ تارہ بلی ہے۔
محترم محمد عبداللہ تار بلی صاحب وادی کشمیر کی ثقافتی اور ادبی میراث کے تحفظ میں ان کے گراں قدر تعاون کے لیے ہمشہ یاد رکھا جائے گا۔ محترم عبہ صاحب تاربلی کی سحر انگیز آواز اور روایتی کشمیری موسیقی کے ذریعے عوامی سطح پر بے حد مقبول تھے۔انہوں نے کشمیر میں صوفیانہ کلام اور صوفی موسیقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی گلوکاری میں روحانیت کا رنگ نمایاں تھا۔محترم محمد عبداللہ تارہ بلی صاحب کے انتقال سے کشمیر کے ثقافتی اور موسیقی کے حلقوں میں ایک بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے،کیونکہ کشمیر کی ثقافتی، ادبی اور صوفی موسیقی کا ایک درخشاں باب کا بند ہو گیاہے۔
جناب محمد عبداللہ تار بلی صاحب نہ صرف ایک مشہور گلوکار تھے، بلکہ ایک صاحبِ حال صوفی فنکار کے ساتھ ساتھ روحانیت رکھنے والے ایک ممتاز انسان دوست شخصیت تھے ۔ ان کے جانے والے اور مداح ان کی شخصیت میں موجود خلوص، شفقت،انسانیت ،نیک طبیعت اور نرم دل کی گواہی دیتے ہیں،یہ صفات ان لوگوں میں نمایاں ہوتی ہیں جو اپنی زندگی خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر ان سے قربت اپنے والد محتر م مرحوم عبدل سلام ڈار اومپورہ کے ذریعہ ہوئے ،میں اپنے والد محترم کے ساتھ ایک دن ان کے دولت خانے تاربل نوا کدل گیا وہی پران سے پہلی بار ملا،انکو دیکھ کر لگا یہ کہ ان شخصیت الگ ہیں ۔ان کا اندازِ گفتگو جو دلوں کو جیتنے کا بنیادی ذریعہ تھا۔ ”کہاجاتا ہے کی انسان کی پیدائش اور گفتگو دونوں ہم عمر ہیں“ محترم عبہ صاحب تاربلی نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ صوفی موسیقی کے ساتھ ساتھ روحانی طلب اور باطنی تربیت میں گزاری۔ جناب محمد عبداللہ تار بلی صاحب کے انتقال سے وادی نہ ایک ممتاز فنکار اور ایک مخلص انسان دوست شخصیت سے محروم ہو گئے ہے ۔
اللہ تعالیٰ مرحوم محمد عبداللہ تار بلی صاحب کے درجات بلند فرمائے،انہیں اپنی رحمت کے خزانوں سے بے شمار رحمتیں نازل فرمائے،انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں۔آمین
[email protected]