مولانا طارق حمید شاہ ندوی
کشمیر جو اپنی قدرتی پاکیزگی، میٹھے چشموں، زرخیز زمین اور مہمان نواز انسانوں کی سرزمین کہلاتا ہے، آج ایک عجیب کشمکش سے گزر رہا ہے۔ غذائی اشیاء کے پے در پے تنازعات نے نہ صرف بازار میں ہنگامہ برپا کیا ہے بلکہ گھروں کے سکون اور دلوں کے اعتماد تک کو متاثر کر دیا ہے۔ کبھی گوشت میں ملاوٹ کی بازگشت، کبھی تربوز میں انجیکشن کا خوف، کبھی دودھ، سبزیوں اور انڈوں پر شکوک اور اب بسکٹ جیسے معمولی مگر عام استعمال کی چیز پر الزامات یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔اسلام نے غذائی پاکیزگی اور حلال و طیب خوراک کو صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے:’’کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُم‘‘ پاکیزہ رزق کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے۔
اسی طرح نبی کریمؐ نے ملاوٹ کرنے والے کو ’’ہم میں سے نہیں‘‘ قرار دیا۔ جو سماج غذا میں خیانت برداشت کر لے، وہاں ایمان اور انسانیت دونوں مجروح ہو جاتے ہیں۔
آج کشمیر میں پیدا ہونے والا یہ بحران صرف ایک تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ اعتماد کے ٹوٹنے کا مسئلہ بن چکا ہے۔ وادی کے لوگ ہمیشہ اپنی دیانت، سادگی اور ایک دوسرے پر بھروسے کے لئے جانے جاتے رہے ہیں۔ ہمارے بازار کبھی ’’کشمیری صداقت‘‘ کی پہچان تھے۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ خریدار ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے،گوشت، سبزی، پھل، دودھ اور اب بسکٹ تک۔ یہ عدم یقین ان گھروں تک رسائی حاصل کر چکا ہے جن کی بنیاد محبت، اعتماد اور اجتماعی خیر پر قائم تھی۔
یہ بحران ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کا ایک اہم پہلو امانت داری بھی ہے۔ تجارت عبادت ہے اور تاجر وہ ہے جو میزان میں انصاف کرے۔ کشمیر کی صدیوں پرانی تہذیب،’’رواداری، صداقت اور خیرخواہی‘‘یہ سب اسی اسلامی اخلاق کے سائے میں نکھری تھیں۔ مگر جب بات بازاروں تک آتی ہے تو وہی تہذیب اور وہی اخلاق کہیں کمزور پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
حکومت کی ذمہ داری صرف قوانین بنانا نہیں بلکہ انصاف اور شفافیت کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ شفاف لیبارٹری رپورٹس، فعال مارکیٹ انسپیکشن اور عوام کے سامنے حقائق پیش کرنا نہایت ضروری ہے۔ بغیر تحقیق کے الزام اور بغیر ثبوت کے پروڈکٹ کو ملزم ٹھہرانا نہ صرف معیشت کو نقصان دیتا ہے بلکہ سماج کے اجتماعی اعتماد کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔
کشمیریت کی روح ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دُکھ کو اپنا دکھ سمجھیں، اور انسانی اخلاقیات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ جس چیز سے ہم خود ڈریں ،وہ دوسروں کے لیے نہ کریں۔ آج وقت کی ضرورت ہے کہ تاجر دیانت کو اپنا شعار بنائیں،حکومت شفافیت کو اپنی پالیسی بنائے،میڈیا ذمہ داری کے ساتھ خبر دےاور عوام افواہوں کے بجائے حقائق پر یقین کریں۔
اگر ہم نے اسلامی امانت، انسانی خیر خواہی اور کشمیری تہذیب کی مشترکہ اقدار کو مضبوط نہ کیا تو ہر نئے دن کوئی نہ کوئی پروڈکٹ تنازع کا شکار ہوگی اور ہمارے دلوں کا اعتماد اور سماج کی اخلاقی بنیادیں مزید کمزور ہوتی جائیں گی۔مگر اگر ہم نے سچائی، صفائی اور شفافیت کے راستے کو اپنایا تو کشمیر پھر وہی سرزمین بن سکتا ہے جہاں لوگ بازاروں میں خریدتے نہیں بلکہ بھروسہ خریدتے ہیںاور یہی کشمیریت کی اصل پہچان ہے۔