جی کیو کامران
کشمیر کے دیہی اور پہاڑی علاقوں میں بھیڑ پالن نہ صرف ایک روایتی پیشہ ہے بلکہ مقامی کسانوں اور خانہ بدوش قبائل کی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ وقت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ ساتھ روایت سے جڑا یہ شعبہ کئی نشیب وفراز سے گزرا ہے۔ایک طرف اگر نئے مشکلات اور چیلنجز کے باعث کئ کسانوں اور چرواہوں نے اس پیشہ کو چھوڑ کر روزگار کے متبادل راستے اپنائے ہیں۔وہیں ایک مثبت اور خوش آئند پہلو یہ بھی ہے۔ کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس شعبے کی طرف راغب ہو رہی ہے اور جدید خطوط پر کام کرکے نہ صرف باعزت روزگار کما رہے ہیں بلکہ گوشت کی پیداوار میں اضافہ کرکے وادی کو خودکفالت کی منزل کی جانب گامزن کرنے میں انتہائی اہم کردار نبھا رہے ہیں۔
کشمیر اپنے وسیع وعریض مرغزاروں زرخیز سبزاروں اور خوشگوار موسم کے بدولت مقامی اور حکومتی سطح پر بھیڑ پالن کی سرگرمیوں کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے جموں و کشمیر میں میں حکومتی سطح پر بھیڑ پالنے (Sheep Husbandry)کا آغاز 1937 سے ہوا اور ابتدائی مرحلے میں برطانوی تکنیکی تعاون کے ذریعے بانہال میں کشمیر شیپ فارم پرائیویٹ لمٹیڈ اور ریاسی میں شیپ بریڈنگ اور ریسرچ فارم کی بنیاد رکھی گئ۔جموں و کشمیر میں 1950 کی دہائی میں محکمہ ویٹرنری ڈیپارٹمنٹ کی ازسرنو تشکیل کرتے ہوئے اسے محکمہ پشوپالن کا نام دیا گیا۔ 1960 میں’’بھیڑ پالن‘‘ کے شعبے کو جدید اور سائنسی خطوط پر استوار کرنے کے لیے داچی گام میں ‘شیپ بریڈنگ اینڈ ریسرچ فارم، کا قیام عمل میں لایا گیا۔ شعبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے 1962 میں ایک خود مختار ‘محکمے شیپ ہسبنڈری کی بنیاد رکھی گئی، جبکہ علاقائی سطح پر انتظامی امور کو بہتر بنانے اور متوازن ترقی کو یقینی بنانے کے لیے 1982 میں اسے جموں اور کشمیر کے دو الگ الگ ڈائریکٹوریٹ میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس محکمے کا بنیادی مقصد نہ صرف گوشت اور اون کی پیداوار میں اضافہ کر کے ریاست کو خود کفیل بنانا ہے، بلکہ یہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع اور منافع بخش مواقع فراہم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے
ڈائریکٹر شیپ ہسبنڈری کشمیر، ڈاکٹر رفیق احمد شاہ کے مطابق، وادی میں بھیڑوں کی کل تعداد تقریباً 23 لاکھ ہے، جبکہ 70 ہزار سے زائد رجسٹرڈ بریڈرز اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ اس بڑی تعداد کے باوجود، بھیڑوں کے گوشت ( Mutton )کی بڑھتی ہوئی مانگ پوری نہیں ہو پا رہی ہے اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں سالانہ تقریباً 600 لاکھ کلو گرام مٹن کی کفت ہوتی ہے۔ اس مانگ کا نصف حصہ، یعنی 300 لاکھ کلو گرام بھیڑوں کا گوشت ہمیں بیرونی ریاستوں سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے سال ماہِ رمضان میں مٹن کی خریداری پر 252 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جس کا 50 فیصد سے زائد حصہ ریاست سے باہر چلا گیا۔رمضان کے دوران بیرونی ریاستوں سے مٹن کے تقریباً 1,400 ٹرکس وادی پہنچے، جن میں سے ہر ٹرک اوسطاً 150 بھیڑوں پر مشتمل تھا
مانگ اور سپلائی کے درمیان یہ بڑا فرق محض ایک چلینج نہیں بلکہ سرمایہ کاری کا ایک بہترین موقع ہے اس سے نہ صرف مقامی ضرورت پوری ہو گی بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ گوشت کی فراہمی کے علاوہ بھیڑ پالن وادی کی قدیم روایتی معیشت کا وہ ستون ہے جس کا تعلق اون اور چمڑے کی صنعت سے بھی جڑا ہے۔ ایک وقت تھا جب کشمیر میں ان مصنوعات کا کاروبار عروج پر تھا۔اس کے ساتھ ساتھ بھیڑوں سے حاصل ہونے والی نامیاتی کھاد کیمیاوی کھادوں کا بہترین متبادل ہے، جو نہ صرف زمین کی زرخیزی برقرار رکھتی ہے بلکہ انسانی صحت کو مصنوعی کھادوں کے مضر اثرات سے بچا کر ماحول دوست زراعت کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔حکومت نے اس شعبے کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ڈائریکٹر شیپ ہسبنڈری کشمیر، ڈاکٹر رفیق احمد شاہ کے مطابق، ‘راشٹریا کرشی وکاس یوجنا (RKVY) کے تحت پہلے ہر ضلع میں محض 10 سے 20 یونٹ قائم کیے جاتے تھے۔ لیکن اب ہولیسٹک ایگریکلچر ڈویلپمنٹ پروگرام (HADP) کے تحت یہ تعداد بڑھا کر 100 سے 300 یونٹس فی ضلع کر دی گئی ہے۔ اس اسکیم کی خاص بات یہ ہے کہ مستفید ہونے والے افراد (Beneficiaries) کو 50 فیصد تک سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، جس سے نوجوانوں میں اس پیشے کے تئیں نیا جوش پیدا ہوا ہے۔
دیہات اور جنگلاتی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے باعث چراگاہوں کا رقبہ سکڑنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر رفیق احمد شاہ نے واضح کیا کہ محکمہ اب روایتی چرائی کے بجائے ‘انڈور فیڈنگ اور جدید غذائی ٹیکنالوجی پر توجہ دے رہا ہے۔ HADP کے تحت کسانوں کو مقوی چارے (High Breed Grass Seeds) کے علاوہ، ٹوٹل مکسڈ راشن مشین (TMR) اور سائلیج (Silage) مشین رعایتی نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ چراگاہوں کی کمی کے باعث جانوروں کی صحت اور وزن پر فرق نہ پڑے۔جدید نسلوں کے حوالے سے کشمیر اب خود کفالت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ‘کشمیر میرینو کے کامیاب تجربے کے بعد اب یہاں کاریڈل، رمبولٹ، ڈارپر، اور ساؤتھ ڈاون جیسی عالمی معیار کی نسلیں موجود ہیں۔ محکمہ اس وقت شیرِ کشمیر زرعی یونیورسٹی (SKUAST) کے اشتراک سے ایک ایسی ہائبرڈ نسل تیار کرنے پر کام کر رہا ہے جس کا برہ (Lamb) محض تین ماہ میں 30 سے 35 کلو گرام وزن حاصل کر سکتا ہے۔ اگر اس کے گوشت کی نامیاتی خصوصیات (Organoleptic Properties) کے ٹیسٹ کامیاب رہے تو یہ ایک بڑا معاشی انقلاب ہوگا۔ اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پالنے کا خرچہ کم ہوگا کیونکہ بچہ ماں کے دودھ پر ہی مطلوبہ وزن حاصل کر سکے گا۔ٹیکنالوجی کے میدان میں ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی (ETT)ایک سنگِ میل ہے۔ اس وقت زکورہ (سرینگر) میں ایک لیبارٹری کام کر رہی ہے، جبکہ چھچہامہ اور کپوارہ میں دو نئی لیبارٹریوں کے قیام کو منظوری دی گئی ہے۔ حکومت طویل مدتی منصوبے کے تحت ہر ضلع میں ای ٹی ٹی لیب(ETT Labs) قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مزید برآں، جانوروں کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ 75 فیصد سبسڈی پر ویکسینیشن اور ضروری ادویات فراہم کر رہا ہے، تاکہ کسی بھی وبائی مرض سے کسانوں کے سرمایے کو تحفظ مل سکے۔ڈسٹرکٹ شیپ ہسبنڈری آفیسر بڈگام، طارق احمد ملک نے اس شعبے کی ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے دی جانے والی مالی و تکنیکی مراعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کئی اہم اسکیموں کا ذکر کیا انہوں نے کہا کہ(HADP) اسکیم کے تحت، ایک یونٹ کے لیے 50 بھیڑیں فراہم کی جاتی ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5 لاکھ روپے ہے۔ حکومت اس پر 50 فیصد (ڈھائی لاکھ روپے) کی خطیر سبسڈی فراہم کرتی ہے۔انٹیگریٹڈ شیپ ڈویلپمنٹ اسکیم (ISDS) چھوٹے پیمانے پر کام شروع کرنے والوں کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ اس کے تحت کسانوں کو 20 بھیڑوں کے یونٹ پر ایک لاکھ روپے کی براہِ راست سبسڈی دی جاتی ہے۔ سماجی و معاشی طور پر کمزور طبقے کے لیے ایک خصوصی اسکیم بھی موجود ہے، جس کے تحت مستفید ہونے والے فرد کو 10 بھیڑیں پانچ سال کی مدت کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔ اس اسکیم کی خاص بات یہ ہے کہ کسان کو نقد رقم کے بجائے محض تین سال بعد دو بھیڑ یں محکمے کو واپس کرنی ہوتی ہیں، جس سے غریب کسان پر مالی بوجھ نہیں پڑتا۔ٹیکنیکل آفیسر شیپ ہسبنڈری بڈگام، ڈاکٹر آصف نے مالی سال 26-2025 کے دوران ضلع میں نافذ العمل مختلف فلاحی اسکیموں کے تحت فراہم کی گئ مالی معاونت کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ انٹیگریٹڈ شیپ ڈویلپمنٹ اسکیم (ISDS) کے تحت سب سے زیادہ 154 کسانوں کو یونٹس فراہم کیے گئے۔ہولیسٹک ایگریکلچر ڈویلپمنٹ پروگرام (HADP) کے تحت اب تک 43 کسانوں نے فائدہ اٹھایا۔راشٹریا کرشی وکاس یوجنا (RKVY) کے ذریعے 33 کسانوں کو معاونت دی گئی۔ جبکہ (JKCIP) کے تحت اب تک 25 کسانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔ڈاکٹر آصف نے کہا کہ خواہش مند کسانوں کو ان سکیموں سے دفاتر کے چکر کاٹنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ ‘کسان ساتھی (Kisan Sathi)پورٹل یا ایپ کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں، جو کہ شفافیت اور فوری کارروائی کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔حکومتی سطح پر جاری ان تمام تر کوششوں کے باوجود، کشمیر میں ‘بھیڑ پالن کے شعبے کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ گوشت کی درآمد پر انحصار کم کرنے اور مقامی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے مقامی سطح پر ایسی بہترین نسلوں (Breeds) کی افزائش کو یقینی بنانا ہوگا جو معیار اور وزن میں راجستھان اور دہلی سے آنے والے گوشت کا مقابلہ کر سکیں۔ گوشت کے ساتھ ساتھ اون (Wool) کی صنعت کی بحالی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سنتھیٹک ریشوں کے انسانی صحت پر مضر اثرات کے پیشِ نظر، مقامی اون کی مارکیٹنگ اور اس کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا تاکہ اس کی قیمت اور مانگ میں اضافہ ہو۔ اس کے علاوہ، بھیڑوں کی کھالوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے جدید ‘ٹینریزاور پراسیسنگ یونٹس کا قیام ناگزیر ہے۔ کشمیر میں بھیڑوں کی بڑھتی ہوئی تعداد (تقریباً 23 لاکھ) کے پیشِ نظر ان کی خوراک اور دیکھ بھال ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ چارے کی لاگت کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ چراگاہوں اور جنگلاتی اراضی پر کیے گئے غیر قانونی تجاوزات کا فوری خاتمہ کیا جائے تاکہ جانوروں کو گھاس چرانے کے لیے معقول اور مناسب جگہیں میسر رہیں۔ کئی بریڈرز کی یہ شکایت جائز ہے کہ فیلڈ میں سرکاری عملے کی کمی کی وجہ سے بیماریوں کی صورت میں یا ہنگامی حالات میں انہیں بروقت خدمات میسر نہیں ہو پاتی ہیں۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ دور دراز علاقوں میں اضافی عملہ تعینات کرے اور کسانوں کے لیے جاری تربیتی پروگراموں کے دائرہ کار اور رفتار میں مزید اضافہ کریں تاکہ وہ بھیڑ پالن کےجدید سائنسی طریقوں سے مکمل واقف ہو سکیں۔اس سلسلے میں صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ وادی کے خواہشمند بے روزگار نوجوانوں کو بھی آگے آنا ہوگا۔ اس شعبے سے وابستگی نہ صرف ایک باعزت اور منافع بخش روزگار کی ضمانت ہے، بلکہ اس سے وادی کی مجموعی معیشت کو بھی تقویت مل جائے گی ۔
(مدرس گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول زوہامہ )
[email protected]