طارق شبنم
گزشتہ دنوں کتابی سلسلہ ’’ثالث ‘‘کا تازہ تازہ شمارہ موصول ہوا ۔سب سے پہلے اس محبت و عنایت کے لئے ڈاکٹر اقبال حسن آزاد صاحب کا تہہ دل سے مشکور ہوں ۔حق بات یہ ہے کہ مونگیر بہار سے شایع ہونے والا رسالہ ’’ثالث‘‘ میرے ان پسندیدہ رسالوں میں شامل ہے جن کا مطالعہ میں وقت کی قلعت کے با وجود بڑے شوق سے کرتا ہوں۔اس شمارے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں گوشہ طارق متین شامل اشاعت ہے ،جس میں مرحوم طارق متین کی حالات زندگی اور شاعری کے حوالے سے تفصیلی ذکر ہوا ہے ۔دور ِحاضر میں کسی ادبی شخصیت کو اس کے انتقال کے بعد یاد کرنا واقعی لائق ِ ستائش ہے اور ثالث کی پوری ٹیم اس کارنامے کے لئے مبارک بادی کی مستحق ہے۔
304 صفات پر مشتمل زیر نظر ضخیم شمارے کا آغاز مدیر اعزازی اقبال حسن آزاد کے تحریر کردہ جاندار اداریے سے ہوتا ہے، جس میں آپ نے بڑے دلچسپ انداز میں اردو زبان کی اہمیت اور اس کو درپیش مسائل کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی ہے اور مرحوم طارق متین کے حوالے سے بھی اپنے محبت کا اظہار فرمایا ہے،آپ لکھتے ہیں۔’’ہندوستان میں اردو آج بھی زندہ ہےاور اس کے زندہ رہنے میں مدارس کا کردار نمایاں ہے ،مگر مدارس سے باہر بھی اسے سہارا اور توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت تعلیمی و ثقافتی سطح پر عملی اقدامات کرے اور عوام اردو کو اپنی مشترکہ شناخت کے طور پر اپنائیں تو یہ زبان ایک بار پھر اپنے سنہرے دور کو حاصل کر سکتی ہے ۔ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی روح ہے،جو محبت تہذیب اور انسانی رشتوں کی خوشبو بکھیر دیتی ہے ۔‘‘ آگے آپ طارق متین کے بارے میں بات کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔’’طارق متین ہمارے عہد کے ایک بہترین شاعر تھے ۔اردو فورم مونگیر کے رکن ،میرے دوست اور خاصے بے تکلف انسان تھے ،اکثر بغیر اطلاع آجاتے اور فرمائش کرکے خاطر تواضع کرواتے۔مجھے بھی ان سے باتیں کرنے میں لطف آتا،ذہین آدمی تھےمگر افسوس کہ ان کی لا اُبالی طبیعت نے انہیں بہت جلد شعر وادب کی دنیا سے دور کر دیا ۔وہ گوشہ نشین ہو گئےاور پھر اسی حالت میں اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی ۔ اُن کے انتقال کے بعد میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ان کی شاعری کے اعتراف ثالث میں ان پر ایک بھر پور گوشہ شایع کیا جائے۔ثالث کو دوبارہ جاری کرنے کی ایک بڑی وجہ یہی ہے ۔اس گوشہ کی ترتیب میں پروفیسر صفدر امام قادری نے میری خاصی مدد کی ہے ،جس کے لئے ان کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔‘‘(بحوالہ ثالث،جلد نمبر 12ص7)
اداریے کے بعد مرحوم طارق متین کا حمدیہ کلام اور ماہر القادری کی خوبصورت اور راقم کی پسندیدہ نعت شامل اشاعت ہیں ۔
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیر کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اس پر کہ اسرار محبت جس نے سکھلائے
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے ( ثالث ص۔9)
اس کے بعد خورشید اکبر اور ارشد عبدالحمید کی خوبصورت غزلیں شمارے کی شان بڑھاتی ہیں جب کہ’’ محبت سیکھ لیں ‘‘کے عنوان ڈاکٹر رمیشا قمر کی ایک نظم بھی شامل ہے۔
گوشہ طارق متین میں سن 2012 میں طارق متین سے لیا گیا طویل انٹر یو بعنوان ’’طارق متین سے تسلیم عارف کی خصوصی گفتگو ‘‘شامل اشاعت ہے جس میں طارق متین کی حالات زندگی اور شاعری کے حوالے سے دلچسپ انداز میں تفصیلی گفتگو ہوئی ہے ،اس کے علاوہ صفدر امام قادری کا مضمون’بجھتے بجھتے بجھ گیا چراغ آرزو ‘اور مضمون ’ہمارے شعر بھی کچھ مختلف ہوتے ہیں‘،’طارق متین کی شعری کائنات‘،’پروفیسر لطیف الرحمن‘ ‘،’طارق متین میری نظر میں‘،’ پروفیسر علیم اللہ حالی‘،’مشک سخن ایک مطالعہ‘،’ڈاکٹر مظفر اعجاز‘ ،’طارق متین کی شاعری :قندیل ہنر کی روشنی میں‘،’ اقبال حسن آزاد‘،’طارق متین کے شعری رویے اور تعین قدر‘،’ڈاکٹر شہزادا انجم برہانی‘،’طارق متین کی غزلیہ شاعری ایک جائزہ‘،’ڈاکٹر تسلیم عارف‘،’طارق متین کی حریت فکر‘،’ڈاکٹر محمد ذاکر حسین ۔حصہ نظم میں اعتراف کے عنوان سے ظفر کمال کی کچھ رباعیاں بھی شامل ہیں ۔
مرحوم طارق متین کی منتخب غزلیں بھی شمارے کی زینت بڑھا رہے ہیں۔دیکھئے یہ اشعار۔
ہم نے مانا کہ بہت تم نے اجالی دنیا
روح کالی ہے تو میرے یار کالی دنیا
یہی بہتر ہے کہ ہم چھوڑ دیں پیچھا اس کا
دے بھی سکتی ہے ہمیں کیا یہ سوالی دنیا
طارق متین کی حالات زندگی،شخصیت اور ان کی شاعری کے حوالے سے محنت سے لکھے گئے مضامین پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ واقعی انہوں نے دل کے تاروں کو چھیڑ نے والے شعر تخلیق کئے ہیں اور قاری کے دل میں نہ صرف بحیثیت ایک شاعر ان کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان شاعری کا مطالعہ کرنے کا بھی شوق پیدا ہوتا ہے ۔ان کی شاعری کے حوالے سے پروفیسر لطف الرحمان میں لکھتے ہیں ۔’’اب وہ فیض ہوں کہ فراق،جمیل مظہری ہوں کہ اجتبی رضوی ،جگر ہوں کہ حسرت وفانی، خلیل الرحمان اعظمی ہوں کہ بانی غرض کہ ایک پوری نسل جس نے گزشتہ صدی کے تعزل کی روایت کو نئے آفاق و جہات سے آشنا کرتے ہوئے پوری کمیت و کیفیت کے ساتھ بیسویں صدی کے آخر میں نئی نسل کے حوالے کیا تھا، اس پوری نسل سے گہری شناسائی کی جھلک طارق متین کے کلام میں موجود ہےجو ان کے وسیع مطالعے اور حساس تخلیقی ایجاب و قبول اور استخراج و ترمیم کی صلاحیت کو روشن کرتی ہے ۔‘‘بحوالہ( ثالث ص۔71)
اسی طرح ڈاکٹر شہزاد انجم برہانی رقم طراز ہیں ۔’’طارق متین کے یہاں صوفیا کی طرح بے نیازی کا انداز ملتا ہے ۔وہ دنیاوی عیش و عشرت سے بے نیاز اپنی ذات میں درویشا نہ صفات رکھتے ہیں،جو ان کی شخصیت کا اہم پہلو ہے ۔‘‘
گوشہ طارق متین کے بعد اس شمارے میں ایک سے بڑھ کر ایک مضامین شامل ہیں جن میں’’ خیال کے جلال و جمال کی پیغمبری۔ آزاد کی غزلوں کی روشنی میں‘‘ اقبال حسن، رشیدہ منصوری ،’’معاصر اردو ادب کا تخلیقی منظر نامہ اور عین تابش’’ ڈاکٹر ذین رامش ‘‘شکیل الرحمان کی مالیاتی تنقید: ایک مفصل جائزہ‘‘ ڈاکٹر گلاب سنگھ ،اس کے علاوہ مولانا عبداللہ بخار ی کا تحریر کردہ مضمون ’’مونگیر کا تاریخی و ثقافتی منظرنامہ ‘‘جس میں مونگیر شہر کے تاریخ و تہذیب، ثقافت،علم وادب ،تعلیمی ادارے، مدارس، خانقاہیں، تجارت ،نامور سیاسی شخصیات، نامور وکلا اور دیگر شعبوں کے حوالے سے دلچسپ انداز میں بہترین جانکاری فراہم کی ہے ۔
مضامین کے بعد چند افسانے اور ان کے بہترین و دلچسپ تجزئے شمارے میں شامل ہیں جن میں اقبال حسن آزاد کا افسانہ ’’مردم گزیدہ‘‘ جس کا تجزیہ عشرت ظہیر نے کیا ہے ، عشرت ظہیر کا افسانہ ’’با با جان‘‘تجزیہ رشید منصوری،قاسم خورشید کا افسانہ ’’اندر آگ ہے ‘‘تجزیہ محمد مرجان علی ۔جب کہ تنویر احمد تما پوری کا افسانہ ’’جنم دن مبارک‘‘ اور ہما فلک کا افسانہ ’’خدا اب ابا بیل نہیں بھیجتا ‘‘بھی شامل اشاعت ہیں ۔افسانوں کے بعد شمارے میں بیسیوں کتابوں پر تبصرے شامل ہیں ۔جب کہ آخر پر ثالث کے گزشتہ شمارے پر ادبی شخصیات کے تبصرے اور مکتوبات شامل اشاعت ہیں جو نہ صرف اس شمارے کی شان بڑھا رہے ہیں بلکہ ثالث کے گزشتہ شمارے غضنفر نمبر کی شان میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔
الغرض انتہائی محنت سے ترتیب دیا گیا یہ شمارہ شاندار ہے اور دستاویزی حیثیت رکھتا ہے اور ضرور یہ شمارہ اردو ادب میں ایک مثبت اضافہ ثابت ہوگا ۔رسالے کے مدیر اعزازی ڈاکٹر اقبال حسن آزاد اور ثالث کی پوری ٹیم کو مبارک باد ۔