فہم و فراست
آصف حسین کشمیری
قوموں کی زندگی کا دار و مدار صرف زمین کے ٹکڑوں، سیاسی نعروں یا معاشی وسائل پر نہیں ہوتا بلکہ ان کی اصل پہچان علم، شعور اور فکری بالیدگی سے ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط رکھا وہ دنیا کی قیادت کرتی رہی، اور جس قوم نے کتاب سے منہ موڑا وہ زوال، غلامی اور پسماندگی کا شکار ہو گئی۔ کتاب محض کاغذ کے چند اوراق کا مجموعہ نہیں بلکہ صدیوں کی دانش، انسانی تجربات اور فکری ارتقا کا خزانہ ہے۔ کتاب انسان کو سوچنے کا سلیقہ سکھاتی ہے، سوال کرنے کا حوصلہ دیتی ہے اور سچ و جھوٹ میں تمیز کی طاقت عطا کرتی ہے۔اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ہمیں ہر دور میں یہی حقیقت نظر آتی ہے کہ علم ہی اصل قوت رہا ہے۔ یونان کے فلسفی ہوں یا اسلامی تہذیب کے محدثین و فقہا، یورپ کی نشاۃِ ثانیہ ہو یا جدید سائنسی انقلاب—ہر جگہ کتاب نے انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جہاں کتاب کو عزت دی گئی وہاں انسان کو عزت ملی، اور جہاں کتاب کو فراموش کیا گیا وہاں انسانیت بھی پامال ہوئی۔
اسلام نے سب سے پہلے علم کی اہمیت کو واضح کیا۔ پہلی وحی کا آغاز ہی لفظ اقرأ یعنی پڑھنے سے ہوا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اسلام کی بنیاد ہی علم اور شعور پر رکھی گئی ہے۔ ہمارے اسلاف نے کتاب کو زندگی کا حصہ بنایا۔ مساجد عبادت کے ساتھ ساتھ علمی مراکز بھی تھیں۔ بغداد، دمشق، قرطبہ اور قاہرہ جیسے شہر علم کے چراغوں سے روشن تھے۔ وہاں لائبریریاں تھیں، درسگاہیں تھیں، اور ایسے علما تھے جن کی کتابیں آج بھی دنیا کی علمی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وہ دور تھا جب مسلمان قوم فکری عروج پر تھی اور دنیا اس سے رہنمائی حاصل کرتی تھی۔لیکن آج منظر نامہ بالکل بدل چکا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں کتاب کی جگہ موبائل فون نے لے لی ہے، مطالعے کی جگہ اسکرولنگ نے، اور گہرے علم کی جگہ سطحی معلومات نے۔ نوجوان نسل گھنٹوں اسکرین کے سامنے بیٹھ کر وقت ضائع کر دیتی ہے مگر چند صفحات پڑھنے کے لیے وقت نہیں نکال پاتی۔ لائبریریاں ویران ہو چکی ہیں اور کتابیں الماریوں میں دھول کھا رہی ہیں۔ یہ محض ایک عادت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فکری بحران کی علامت ہے۔
کتاب سے دوری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کی سوچ محدود ہو جاتی ہے۔ وہ سننے اور دیکھنے کی چیزوں کو بغیر سمجھے قبول کرنے لگتا ہے۔ اس میں تنقیدی شعور پیدا نہیں ہوتا، وہ ہر بات کو جذبات کی بنیاد پر پرکھتا ہے نہ کہ عقل اور دلیل کی بنیاد پر۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ افواہوں کا شکار ہو جاتا ہے، جھوٹ اور سچ میں فرق ختم ہو جاتا ہے، اور قوم فکری غلامی میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ یہی فکری غلامی آگے چل کر سیاسی اور معاشی غلامی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
کتاب انسان کے اندر وسعتِ نظر پیدا کرتی ہے۔ مطالعہ کرنے والا شخص مختلف تہذیبوں، قوموں اور نظریات سے واقف ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی بات کو سننے کا حوصلہ رکھتا ہے اور اختلاف کو برداشت کرنا سیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مطالعہ کرنے والی قومیں زیادہ مہذب، زیادہ باشعور اور زیادہ ذمہ دار ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس جو قوم مطالعے سے غافل ہو جائے وہ جلد ہی انتشار، نفرت اور تعصب کا شکار ہو جاتی ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کتاب صرف نصابی نہیں ہوتی۔ ادب، تاریخ، فلسفہ، مذہب، سوانح عمری اور سائنس ،یہ سب کتاب ہی کے ذریعے انسان تک پہنچتے ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے، اس کے اخلاق کو سنوارتی ہے اور اسے زندگی کا مقصد سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ادب انسان کے جذبات کو مہذب بناتا ہے، تاریخ اسے ماضی کی غلطیوں سے سبق دیتی ہے، اور مذہبی کتابیں اسے صحیح اور غلط کا شعور عطا کرتی ہیں۔
آج ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ ذمہ داری علماء، خطبا، اسلامی اسکالرز، اساتذہ اور پڑھے لکھے طبقے پر عائد ہوتی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو عوام کی فکری رہنمائی کرتا ہے اور جس کی بات لوگوں کے دلوں تک پہنچتی ہے۔ اگر یہی طبقہ کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط کرے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف راغب کرے تو معاشرہ فکری طور پر زندہ ہو سکتا ہے۔ خطباتِ جمعہ ہوں یا دینی مجالس، تعلیمی ادارے ہوں یا سماجی فورمز—ہر جگہ کتاب اور مطالعے کی اہمیت کو اجاگر کیا جانا چاہیے۔ لوگوں کو صرف نصیحت نہیں بلکہ اچھی کتابوں سے روشناس کرایا جائے، ان کا تعارف کروایا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ کون سی کتاب کس موضوع پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ کیونکہ جب تک کتاب کا ذوق پیدا نہیں ہوگا، علم کا سفر آگے نہیں بڑھے گا۔ اساتذہ کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ہے۔ اگر استاد خود مطالعہ کا شوق رکھے گا تو طالب علم بھی اس کی پیروی کرے گا۔ تعلیمی اداروں میں صرف امتحان پاس کرنے کی دوڑ نہیں ہونی چاہیے بلکہ طلبہ میں سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی عادت پیدا کی جائے۔ نصاب کے ساتھ ساتھ غیر نصابی مطالعے کو بھی فروغ دیا جائے۔ اسکولوں اور کالجوں میں لائبریریوں کو فعال بنایا جائے تاکہ طلبہ کتاب سے دوستی کر سکیں۔
والدین کا کردار بھی اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ اگر گھروں میں کتابوں کی جگہ صرف موبائل اور ٹی وی ہوں گے تو بچے بھی وہی سیکھیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ گھروں میں چھوٹی چھوٹی لائبریریاں قائم کریں، بچوں کو کہانیاں سنائیں، انہیں کتاب تحفے میں دیں اور مطالعے کو ایک خوشگوار عادت بنائیں۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود کتاب پڑھیں گے تو بچے بھی کتاب سے محبت کریں گے۔میڈیا بھی معاشرے کی فکری سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر میڈیا صرف سنسنی اور تفریح کو فروغ دے گا تو قوم بھی اسی طرف جائے گی۔ ہمیں ایسے پروگراموں اور مضامین کی ضرورت ہے جو علم، تحقیق اور کتاب کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ کامیاب لوگوں کی زندگیوں کو سامنے لایا جائے اور بتایا جائے کہ انہوں نے کس طرح مطالعے کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنایا۔ ہم نے اپنے اسلاف کی علمی میراث کو چھوڑ دیا اور دوسروں نے اسے اپنا لیا۔ آج یورپ کی لائبریریوں میں وہ کتابیں محفوظ ہیں جو کبھی ہمارے علمی مراکز کی زینت تھیں، جبکہ ہم خود اپنی نئی نسل کو کتاب سے دور کر کے اسے صرف اسکرین کا اسیر بنا رہے ہیں۔ کتابوں سے تعلق صرف فرد کی ترقی کا نہیں بلکہ قوم کی بقا کا مسئلہ ہے۔ آج کی دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھ رہی ہیں جو تحقیق اور مطالعے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ نئی ایجادات، نئی ٹیکنالوجی اور نئے نظریات سب علم ہی کی پیداوار ہیں۔ اگر ہم نے کتاب کو چھوڑ دیا تو ہم دوسروں کے بنائے ہوئے نظاموں کے محتاج ہو جائیں گے اور اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے۔ ایک اچھی کتاب انسان کے اندر ایسا انقلاب برپا کر سکتی ہے جو برسوں کی تقریریں بھی نہیں کر سکتیں۔ اسی لیے کتاب کو روح کی غذا کہا گیا ہے۔ جس قوم کی روح بھوکی ہو، وہ کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں ہوتی بلکہ ذہنوں کی تعمیر سے ہوتی ہے۔ اگر ذہن خالی ہوں گے تو شہر آباد ہو کر بھی ویران رہیں گے۔ کتاب ذہنوں کو آباد کرتی ہے، خیالات کو جلا بخشتی ہے اور معاشرے کو روشن کرتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کتابوں سے تعلق زندہ اقوام کی پہچان ہے۔ جو قوم کتاب پڑھتی ہے وہ سوچتی ہے، جو سوچتی ہے وہ آگے بڑھتی ہے، اور جو آگے بڑھتی ہے وہ دنیا میں اپنا مقام بناتی ہے۔ اس کے برعکس کتابوں سے دوری فکری زوال کی علامت ہے۔ یہ زوال آہستہ آہستہ انسان کو اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے جہاں نہ علم کی روشنی ہوتی ہے نہ شعور کی کرن۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رویے بدلیں۔ کتاب کو پھر سے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ روزانہ تھوڑا وقت مطالعے کے لیے مخصوص کریں۔ اپنے بچوں کو کتاب سے دوستی سکھائیں۔ لائبریریوں کو آباد کریں اور علم کو عزت دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں فکری غلامی سے نکال کر خودداری اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
(رابطہ۔ 9797888975)
[email protected]
�����������������