یہ ایک اہم اور توجہ طلب مسئلہ ہے کہ جہاں آج کل ہمارے نوجوان روز بروز کسی نہ کسی امتحان میں حصہ لیتے رہتے ہیںوہیں انہیں کہیں نہ کہیں انٹرویوز بھی دینے پڑتے ہیںاور بعض اوقات ان امتحانات یا انٹرویو میں ناکام ہونے کے بعد زبردست مایوسی کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ میں انہیں سے مشورہ دیتا ہوں کہ مایوس نہ ہوجائیں بلکہ حوصلہ رکھیں کیونکہ مایوس ہونے سے یہ نوجوانیا تو کوئی انتہائی قدم اٹھاتے رہتے ہیںیا کسی نشہ کے استعمال کی طرف مائل ہوجاتے ہیں،جس سے ان نوجوانوں کاحوصلہ دن بہ دن کمزور ہوتا ہے اور وہ غلط کاموں میں لگ جاتے ہیںاور اس طرح ان کی زندگیاں بگڑ کر تباہ ہو جاتی ہیں۔جبکہ یہ بات اٹل ہےکہ ہمت ،عزم اور استقلال برقار رکھنے سے ہی کامیابی پیر چوم لیتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ زندگی امتحان ہی ہے، اس میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نوجوانوںکی کسی امتحان یا کسی انٹرویومیں ناکامی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے ہیں بلکہ ناکامیوں سے انسان بہت کچھ سیکھ جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاچکا ہے کہ کئی فلاسفر اورسائنسدان بھی کئی بار اپنے مقاصد میں ناکام ہوچکے ہیں مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری،اور وہ بالآخر اعلیٰ مقام تک پہنچ گئے ہیں ۔ہر امتحان یا انٹرویو میں انسان کو ہمت وعزم برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ؎
وہ کون سا عقیدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا
ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
ہمت و عزم سے ہی انسان نے چاند پر قدم رکھا ہے، سمندروں کی گہرائیوں میں جارہا ہے،نئے نئے ایجادات کررہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ایسا چھوٹا سا آلہ(موبائل فون) جو ہماری ہاتھوں میں ہے کو بنا کر ایک سنگ میل کو عبور کیا ہے، یہ سب کارنامے انسانی عزم کے ہی نمونے ہیں۔
ایک انسان کو کوئی کام کرنے میں دلچسپی اور جوش و جذبہ ہونا لازمی ہوتا ہے۔ اگر دلچسپی نہیں ہوگی تو سب کچھ بیکار ہے ۔آپ نے ایک چیونٹی کی مثال سنی ہوگی ، جب وہ گندم کا ایک دانہ منہ میں لے کر دیوار پر چڑھ جاتی تھی اور منزل تک پہنچ کر گر جاتی تھی، یہ مسئلہ صرف ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہوامگر اس نے ہمت نہیں ہاری اور آخر میں وہ گندم کادانہ اپنے منزل تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئی ۔گویا اس کام میں صرف اس کی ہمت کام نہیں آئی بلکہاُسے دانہ منزل پر پہنچانے میں بھی دلچسپی تھی، جو باعث ِ کامیابی بن گئ۔کبھی کبھار یہ بھی دیکھا جاچکا ہے کہ انسان امتحان یا انٹرویو میں تذبذب کا شکار ہوجاتا ہے، اُسے آسان سے آسان تر سوالات بھی مشکل لگتے ہیں، وہ جواب دینے سے کتراتے ہیں اور ممتحن یا انٹرویور کو لگتا ہے کہ یہ انسان نا قابل ہے اور وہ ان کو ناکامی کی سند پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی، صلاحیت یا ہنر ضرور ہوتی ہے۔ کسی کوایک میدان میں دلچسپی ہوتی ہے اور کسی کو دوسرے میدان میں۔ اس لئے جس کو جس میدان میںدلچسپی ہو، اُس کو اُسی فیلڈ میں جھُٹ جانا چاہیے تاکہ وہ آگے بڑھ کر وہ اسی فیلڈ میں اعلیٰ مقام تک پہنچے ۔کبھی والدین اپنے بچوں کو ایسے سبجیکٹ لینے کےلئے آمادہ کرتے ہیں جس میںاُنہیںدلچسپی نہیںہوتی ہے اور اُسے اس سبجیکٹ کو سنبھالنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ناکامی اس کا مقدر بن جاتی ہےاور بعد میں نہ صرف بچہ بلکہ اس کے والدین قسمت کو کوستے رہتے ہیں جبکہ ساری غلطی اُن کی اپنی ہوتی ہے۔ یہاں ایک رواج عام ہے کہ جب بھی بچہ میٹرک پاس کرتا ہے تورشتہ داروں کے مشورے آنا شروع ہوتے ہیں کہ اس کو میڈیکل کے سبجیکٹ لینا چاہیے، جیساکہ وہ بڑے بڑے کاؤنسلر ہوتےہیں اور اُنہیں بچے کی تمام ترذہنی،جسمانی اور نفسیاتی دلچسپی ، ہمت اور استقلال کے بارے میں پوری طرح سے جانکاری ہے، جس کی وجہ سے بھی اکثر بچوں کی زندگیاں بگڑ جاتی ہیں۔ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہےکہ براعظم ایشیا کے ممالک میں تعلیمی نظام ناقص ہے۔ یہاں تعلیمی نظام میں کاونسلنگ کا کوئی نام ونشان ہی نہیں۔ کیونکہ کاونسلنگ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس سے انسان وہی فیلڈ لیتا ہے جس میں اس کی دلچسپی ہوتی ہے۔یورپی ممالک میں بچے کو پہلے ہی درجے میں کاونسلنگ کی جاتی ہے اور اس کو اسی فیلڈ میں ڈالا جاتا ہے، جس میں اس کی دلچسپی ہو، اور وہاں ہر پیشے کی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے جبکہ ایشیا کے ممالک میں اس کے برعکس ہوتا ہے ۔یہاں انجینئرنگ میں دلچسپی رکھنے والے کو میڈیکل سبجیکٹ،فنون میں دلچسپی رکھنے والے کو اقتصادیات کے سبجیکٹ،جبکہ باغبانی میں دلچسپی رکھنے والے کو انجینئرنگ سبجیکٹ لینے پڑتے ہیں اور اس سے یہاں ایک ایسا ماحول پیدا ہوا ہے کہ ہمارے پُل وہاں لگائے جاتے ہیں جہاں سڑکیں نہیں ہوتی ہیں، اسپتالوں میں ٹانگ کی درد سے کراہتے بیماروں کو پیٹ کے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں ۔اسکولوں میں اساتذہ لڑکی کو لکڑی پڑھاتے ہیں اور چونٹی کو چوٹی لکھتے ہیں۔اب جو بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری دلچسپی اس والے سبجیکٹ میں ہےتو انہیں اسی سبجیکٹ کی کتابیں اور دیگر میٹیریل استعمال کرنا چاہئے ۔اس کےلئے انکو اس فیلڈ میں کامیاب افرادسے بھی استفسار لینا چاہیے کیونکہ آج کل ایسا دور ہے کہ ایک انسان اس وقت تک نامکمل ہے ،جب تک نہ اس کو اپنے فیلڈ میں پوری مہارت ہوگی۔میری ان نوجوانوں سے بھی گزارش ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ وہ انٹرویو میں کامیابی حاصل کریں تو انہیں خوب محنت کرنی چاہئے اور ہسٹری،جنرل نالیج اور سائنس کی کتابوں کا خوب مطالعہ کرنا چاہئے کیونکہ انٹرویور اُنہی کتابوں سے اِن کی صلاحیت کو ناپتے ہیں اور کبھی کبھار ذہنی آزمائشوں کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے کیونکہ ذہنی آزمائشوں سے ایک انسان کو تنقیدی مگر تعمیری ذہن پیدا ہوتا ہے ۔ ایک انسان جو یہ چاہتا ہے کہ میں زندگی میں ایک کامیاب انسان بنوں تو اس کو اخلاقیات کے مضامین کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ وہ کسی فیلڈ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد غریبوں، یتیموں، ناداروں سے اچھا سلوک روارکھے نہ کہ انہیں بےعزتی کرے اور رشوت اور باقی غلط کاموں کی طرف خود کو مائل کرے ایسا کرنے سے ایک بیمار معاشرہ تشکیل ہوگا، جس کی جڑیں آنے والے زمانے میں کافی مضبوط ہوں گی۔ اسی لئے ہمیں چاہئے کہ ہم باضابطہ طور ایک اچھا انسان بننے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اچھا انسان بننے کی نصیحت کریں تاکہ ایک اچھا اور صحت مند معاشرہ وجود میں آئے اور ہم کامیاب ہوجائیں۔
(خانپورہ کھاگ،بڈگام ۔رابطہ۔7006259067)