شخصیات
ڈاکٹر رفیق مسعودی
کافکا کی تحریروں میں ایک ایسی بے چینی جھلکتی ہے جو انسان کی باطنی خواہشات اور اس کے اندرونی اضطراب کے درمیان کشمکش کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ اپنی ذات کے تضادات کو سلجھانے میں ناکام رہتا ہے، اور یہی ناکامی اس کی تخلیقی قوت کو مہمیز دیتی ہے۔ فیلِس کے ساتھ اس کا تعلق بھی اسی کشمکش کا شکار ہو کر ٹوٹ گیا، جبکہ ڈورا کے ساتھ اسے زندگی کے آخری ایام میں ایک طرح کا سکون میسر آیا—اگرچہ اس وقت تک تپ دق اس کے مقدر کا فیصلہ لکھ چکی تھی۔
وہ شخص جو خاندانی زندگی کی ذمہ داریوں سے خوفزدہ رہتا تھا، شاید آخرکار اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کی اصل وابستگی ادب سے ہے۔ لکھنا ہی اس کی سانس تھا، اس کی بقا کا ذریعہ، اور اسی کے ذریعے وہ وجود کی بے معنویت کا سامنا کر سکتا تھا۔
کافکا پیشہ ور ادیب نہیں تھا، کم از کم روایتی معنوں میں نہیں۔ دن کے وقت وہ ایک انشورنس دفتر میں کام کرتا، اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا، مگر رات کے اندھیروں میں وہ ایسے جملوں سے برسرِ پیکار ہوتا جو ایک دن ادبی دنیا کو ہلا دینے والے تھے۔ اس کی زندگی، جو بظاہر معمولی تھی، دراصل روح کی ایک جنگ تھی، اور اسی جنگ سے جدید ادب کے چند عظیم ترین شاہکار جنم لے رہے تھے۔
1915 میں لکھی گئی اس کی شہرہ آفاق کہانی’میٹامارفوسس‘ جدید دور کی سب سے چونکا دینے والی تمثیلوں میں سے ایک ہے، جہاں گریگور سامسا ایک رات میں ایک بھیانک کیڑے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف جسمانی نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی عکاسی ہے جہاں انسان کی قدر اس کی افادیت سے لگائی جاتی ہے۔ جب وہ اپنے خاندان کیلئے بوجھ بن جاتا ہے تو اس کی حیثیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ کہانی جتنی عجیب ہے اتنی ہی حقیقی بھی، کیونکہ یہ اس بے رحمی کو بے نقاب کرتی ہے جس سے معاشرے غیر مطابقت رکھنے والوں کو رد کر دیتے ہیں۔
کافکا کے نامکمل ناول،’دی ٹرائل، دی کاسل اور امریکا‘،جدید انسان کی بے بسی اور شناخت کے بحران کی علامت ہیں۔’ دی ٹرائل‘ میں جوزف کے کو ایک پراسرار عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جہاں اسے اپنے جرم کا علم تک نہیں ہوتا۔ یہ ناول ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتا ہے جو انسان کو جکڑ لیتا ہے، جہاں قوانین آزادی کے بجائے قید کا سبب بنتے ہیں۔
’دی کاسل‘ میں ایک سروے کرنے والا ایک ایسے قلعے تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو طاقت کی علامت ہے، مگر وہ کبھی اس تک نہیں پہنچ پاتا۔ یہ کہانی انسان کی اس جدوجہد کی نمائندگی کرتی ہے جس میں وہ معنی، قبولیت اور مقصد کی تلاش میں بھٹکتا رہتا ہے۔
کافکا کی مختصر کہانیاں جیسے ’ان دی پینل کالونی‘،’اے ہنگر آرٹسٹ‘ اور ’اے کنٹری ڈاکٹر‘ بھی خواب اور حقیقت کے امتزاج سے ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جو بیک وقت پراسرار اور تکلیف دہ ہے۔ اس کی تحریر میں سادگی ہے، مگر اسی سادگی میں ایک گہری علامتی دنیا پوشیدہ ہے جہاں انسان خود کو ایک ایسے خواب میں قید محسوس کرتا ہے جس سے بیدار ہونا ممکن نہیں۔
کافکا کی میراث ادب کی حدود سے بہت آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ ’کافکائی‘ جیسا لفظ آج ہماری زبان کا حصہ بن چکا ہے، جو ان حالات کو بیان کرتا ہے جو بے معنی، خوفناک اور ناقابلِ فہم ہوں۔ اس کے اثرات کی جھلک ہمیں کیم ±و، سارتر، بورخیس، مارکیز اور مورا کامی جیسے عظیم ادیبوں میں نظر آتی ہے۔
کافکا نے صرف ادب ہی نہیں بلکہ فلسفہ، نفسیات، الہیات اور سیاست پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ کچھ لوگ اسے خدا کی خاموشی کا مفسر سمجھتے ہیں، کچھ اسے آمریت کے ابھار کی پیش گوئی کرنے والا مفکر، جبکہ کچھ اسے انسانی لاشعور کے خوف کا عکاس قرار دیتے ہیں۔
ہر دور اس کی تحریروں میں اپنے سوالات کا عکس تلاش کرتا ہے، کیونکہ اس کے فن پارے انسانی اضطراب کے مختلف پہلوو ¿ں کی عکاسی کرتے ہیں۔
میرے لیے، کافکا صرف کتابوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک زندہ تجربہ بن گیا۔ پراگ (جو اب پراہا کہلاتا ہے،اور یورپ کے کلاسک شہر چیک جمہوریہ کیا دارلخلافہ بھی) میں اس کی قبر کے سامنے کھڑا ہونا ایک عجیب احساس تھا،عجز اور حیرت کا امتزاج۔ میں نے وہاں اپنی مادری زبان کشمیری میں ایک مختصر نوٹ لکھ کر اس کی قبر پر رکھا، اور یوں محسوس کیا جیسے اس کی خاموشی میں بھی ایک مکالمہ جاری ہے۔
وقت اور جغرافیے کی وسعتوں پر ایک پ ±ل تعمیر ہو چکا تھا۔ وہ شخص جس نے جرمن زبان میں لکھا اور جو ایک صدی قبل پراگ میں رہتا تھا، آج بھی یورپ ہی نہیں بلکہ ہم سب کا معلوم ہوتا ہے۔ کافکا کی بیگانگی صرف اس کی اپنی نہ تھی، بلکہ ایک عالمگیر تجربہ بن چکی تھی۔ اس کی بے چینی دراصل ہماری اپنی بے چینی ہے۔ اس کی تمثیلیں زبان کی حدود سے ماورا ہو کر زمانوں اور سرحدوں کو عبور کرتی ہیں اور اجتماعی انسانی روح کو چھو لیتی ہیں۔
میرا سفر جب پراگ کی گلیوں سے گزرتا ہوا مجھے کیفے لوور تک لے گیا—وہی مقام جہاں کافکا اپنے چند تخلیقی لمحے گزارا کرتا تھا،میری نور چشم اور انکے شوہر نامدار،جن کی وجہ سے میرا یہ سفر ممکن ہو پایا نے مجھے بتایا کہ آفس کے بعد کافکا ایک الگ مقر خاص میز پر شراب اور کافی کی چسکیاں لیتا بہترین سے بہترین ادب و فکر و شعور کا خالق بن گیا۔۔۔ —*مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وقت ٹھہر گیا ہو۔ بلند چھتوں، پرانی دنیا کی فضا اور ادبی مہک سے لبریز اس کیفے میں تاریخ سانس لیتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میں نے تصور کیا کہ کافکا کسی گوشے میں بیٹھا، کافی اور شراب کی چسکیاں لیتے ہوئے، اپنے بے قرار ذہن اور بے چین آنکھوں کے ساتھ تخلیق کرتا ہوگا اور عالمی ادب میں انجانے ہی میں نئی تھیوری کا مؤجب بن گیا اور وقت خاموش کسی کونے میں فرینز کافکا کو لکھتے تک رہا ہوگا*۔
دیواریں جیسے ان مکالموں کی گواہ ہوں جہاں خیالات نے جنم لیا، جہاں لفظوں نے صورت اختیار کی۔ یہ وہی مقام تھا جہاں صرف کافکا ہی نہیں بلکہ آئن سٹائن اور رلکے جیسے اذہان بھی آتے رہے،ایک ایسا سنگم جہاں فکر اور فن آپس میں گھل مل جاتے تھے۔ یہاں آ کر شدت سے احساس ہوتا ہے کہ تخلیق کسی شاہانہ خلوت میں نہیں بلکہ عام زندگی کے انہی سادہ گوشوں میں جنم لیتی ہے،کیفے کی میزوں پر، رات کی تنہائی میں، اور قلم و کاغذ کی خاموش جدوجہد میں۔
جب میں نے آج کی دنیا میں کافکا کی موجودگی پر غور کیا تو اس کی معنویت اور بھی گہری محسوس ہوئی۔ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں فیصلے الگورتھمز کرتے ہیں، جہاں انسان خود کو کاغذی کارروائیوں اور ڈیٹا کے پیچیدہ جال میں پھنسا ہوا پاتا ہے۔ ہر فرد جیسے کسی نہ کسی طرح کافکا کی دنیا میں سانس لے رہا ہے۔ وہ بیسویں صدی کا ہی نہیں، اکیسویں صدی کا بھی ادیب ہے۔
اور پھر بھی، کافکا ہمیں صرف مایوسی میں نہیں چھوڑتا۔ اس کی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ ہمیں بے معنویت کا ادراک کرواتا ہے، اجنبیت کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور ایسے سوالات اٹھاتا ہے جن کے شاید کوئی حتمی جواب نہیں۔ وہ ہمیں کہانیوں اور تمثیلوں کے ذریعے جھنجھوڑتا ہے تاکہ ہم اپنی حقیقت کو پہچان سکیں۔ اس کی تحریریں ہمیں غفلت سے جگاتی ہیں،یہ سرگوشی نہیں کرتیں بلکہ سچائی کا اعلان کرتی ہیں۔
اس لحاظ سے کافکا محض مایوس کن ادیب نہیں بلکہ ایک اخلاقی بیدارگر ہے،ایسا شخص جس نے اپنی ذات کی بے چینی کو عالمی تمثیلوں میں ڈھال دیا تاکہ انسانیت خود کو بہتر طور پر دیکھ سکے۔
جب میں پراگ،جسے اب پراہا کہا جاتا ہے،سے روانہ ہوا، تو میرے ساتھ اس کی قبر کی خاموشی اور کیفے لوورے کی گونج تھی۔ میں اس کی زندگی کے بارے میں سوچتا رہا،ایک ایسی زندگی جو صرف چالیس برسوں پر مہیط تھی۔ ایک شخص جو خود سے سوال کرتا رہا، جو اپنے باپ سے خوفزدہ تھا، جو محبت کا خواہاں تھا مگر ذمہ داریوں سے گھبراتا تھا، جو دن میں ایک دفتر میں کام کرتا اور رات کو بے خوابی میں لکھتا رہتا تھا۔
مگر اسی نازک سی زندگی نے ادب میں ایک ایسا زلزلہ برپا کیا جس کی گونج آج بھی دنیا بھر میں سنائی دیتی ہے۔ اگر چالیس برس اتنا کچھ پیدا کر سکتے ہیں تو مزید چالیس برس کیا کر سکتے تھے؟ شاید ادب کے نئے براعظم دریافت ہوتے، شاید تنقید اور فلسفے کی نئی جہتیں سامنے آتیں۔ مگر شاید اسی مختصر زندگی میں وہ شدت سمٹ آئی تھی جس نے اسے ابدی بنا دیا۔
کافکا آج ہمارے درمیان کسی یادگار یا رسم میں نہیں بلکہ ادب کی زندہ روح میں موجود ہے،جدید انسان کی بے چینی میں، اس کے سوالوں میں، اس کے اضطراب میں۔ وہ جتنا پراگ کا ہے اتنا ہی ہر اس شہر کا ہے جہاں بیگانگی بسی ہوئی ہے؛ جتنا جرمن ادب کا ہے اتنا ہی کشمیری احساس کا بھی؛ جتنا ماضی کا ہے اتنا ہی مستقبل کا بھی۔
جب میں نے اس کی قبر پر کشمیری زبان میں چند الفاظ لکھے تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں صرف خراجِ عقیدت پیش نہیں کر رہا بلکہ ایک رشتہ جوڑ رہا ہوں،اپنے دکھوں، اپنی تنہائیوں اور اپنی معنویت کی تلاش کو اس کے ساتھ بانٹ رہا ہوں۔
کافکا وہاں زندہ ہے جہاں انسان اپنی بے معنویت سے ٹکراتا ہے، جہاں وہ خوف کے سائے میں سوال اٹھاتا ہے، جہاں وہ خاموش کائنات کے مقابل معنی کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ اس کا نام تاریخِ ادب کی زینت نہیں بلکہ ایک زندہ ضمیر کے طور پر باقی ہے۔
دعا ہے کہ اس کے الفاظ انسانیت کو ہمیشہ بے چین، بیدار اور متحرک رکھتے رہیں۔
(مصنف جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے سابق سیکریٹری اور دوردرشن کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔)